کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مزاح کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13105
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ ، مَا يُرِيدُ بِهِ سُوءًا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهِ ( الْقَوْمَ ) ، فَيَخِرُّ بِهِ أَبْعَدَ مِنَ السَّمَاءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک کوئی شخص کوئی بات کہتا ہے ۔ اس کا مقصد اس کے ذریعے کسی برائی کا نہیں ہوتا صرف یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس پر ہنس پڑیں ، لیکن اس بات کی وجہ سے وہ اس سے زیادہ بلندی سے ( جہنم میں ) گرتا ہے ، جتنا آسمان دور ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13105
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13106
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَأَمْزَحُ وَلَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں بھی مزاح کرتا ہوں لیکن میں صرف حق بات کہتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13106
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (779) أخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (999)»
حدیث نمبر: 13107
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ لِابْنِ عُمَرَ : أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي لَأَمْزَحُ وَلَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا ( قَالَ نَعَمْ ) " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” میں بھی مزاح کرتا ہوں لیکن میں صرف حق بات کہتا ہوں ۔ “ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13107
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13443)»
حدیث نمبر: 13108
وَعَنْ قُرَّةَ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ سِيرِينَ : هَلْ كَانُوا يَتَمَازَحُونَ ؟ قَالَ : مَا كَانُوا إِلَّا كَالنَّاسِ ، كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمْزَحُ وَيُنْشِدُ : ¤ يُحِبُّ الْخَمْرَ مِنْ مَالِ النَّدَامَى وَيَكْرَهُ أَنْ تُفَارِقَهُ الْفُلُوسُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي حُسْنِ خُلُقِهِ
محمد محی الدین
قرہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابن سیرین سے دریافت کیا : کیا وہ لوگ ( یعنی صحابہ کرام ) ایک دوسرے کے ساتھ مزاح کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : وہ لوگ بھی دوسرے لوگوں کی طرح تھے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزاح کرتے ہوئے یہ شعر سناتے تھے : ” وہ دوستوں کے مال کے ذریعے شراب پینے کو پسند کرتا ہو اور اس بات کو ناپسند کرتا ہو کہ ( اس کے اپنے ) سکّے اس سے جدا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث نبوت کی علامات سے متعلق کتاب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی اچھائی سے متعلق باب میں آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13108
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13066)»