کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کون سی چیز محبت کو نکھار دیتی ہے ؟
عَنْ شَيْبَةَ الْحَجَبِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " ثَلَاثٌ يُصَفِّينَ لَكَ وُدَّ أَخِيكَ : تُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيتَهُ ، وَتُوَسِّعُ لَهُ فِي الْمَجْلِسِ ، وَتَدْعُوهُ بِأَحَبِّ أَسْمَائِهِ إِلَيْهِ " . ¤
محمد محی الدین
شیبہ حجبی اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں ، تمہارے لئے تمہارے بھائی کی محبت کو نکھار دیں گی ، جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو محفل میں اس کے لئے گنجائش پیدا کرو اور اسے اس نام سے پکارو جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہو ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13065
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَتَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب وہ بیمار ہو تو تم اس کی عیادت کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالملک بن عمیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13066
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف