کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حسد اور بدگمانی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13044
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " كَادَ الْحَسَدُ أَنْ يَسْبِقَ الْقَدَرَ ، وَكَادَتِ الْحَاجَةُ أَنْ تَكُونَ كُفْرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قریب ہے کہ حسد تقدیر ( کے لکھے پر ) سبقت لے جائے اور غربت ( انسان کو ) کفر کے قریب کر دیتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عثمان کلابی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13044
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 13045
وَعَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَتَحَاسَدُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگ مسلسل بھلائی پر گامزن رہیں گے جب تک وہ ایک دوسرے سے حسد نہیں کریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13045
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8157)»
حدیث نمبر: 13046
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " ثَلَاثٌ لَازِمَاتُ أُمَّتِي : الطِّيَرَةُ ، وَالْحَسَدُ ، وَسُوءُ الظَّنِّ " . فَقَالَ رَجُلٌ : مَا يُذْهِبُهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّنْ هُنَّ فِيهِ ؟ قَالَ : " إِذَا حَسَدْتَ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ ، وَإِذَا ظَنَنْتَ فَلَا تَتَحَقَّقُ ، وَإِذَا تَطَيَّرْتَ فَامْضِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں میری امت کو لاحق ہوں گی ، فال نکالنا ، حسد کرنا اور بدگمانی کرنا ۔ ایک شخص نے عرض کی : ان کو کون سی چیز ختم کر سکتی ہے ؟ یا رسول اللہ ! ان لوگوں سے جن میں یہ چیزیں پائی جاتی ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم حسد کرو ، تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اور جب تم بدگمانی کرو ، تو اس کی تحقیق نہ کرو اور جب تم فال نکالو تو ( بدشگونی کی صورت میں بھی ) اسے کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13046
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3227)»
حدیث نمبر: 13047
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : اشْتَرَيْنَا مِنَ ابْنِ عُمَرَ بَيْتًا ، فَجَلَسَ عَلَى الْبَابِ ، فَكَثُرَ الْغُبَارُ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا لَا نَأْخُذُ إِلَّا حَقًّا وَلَا نَخُونُكَ . قَالَ : " إِنِّي أَخَافُ الظَّنَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوحازم بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک گھر خریدا وہ دروازے پر بیٹھ گئے غبار زیادہ ہو گیا ، تو ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ہم صرف حق حاصل کریں گے اور آپ کے ساتھ خیانت نہیں کریں گے ، تو انہوں نے فرمایا : مجھے بدگمانی کا اندیشہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13047
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13073)»