حدیث نمبر: 13028
عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ : نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ عَنْ عَلِيٍّ ، فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ : عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَانَا عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى ، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا - رَحِمَهُ اللَّهُ - وَقَدْ مَاتَ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَنَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زیاد بن علاقہ بیان کرتے ہیں : سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کی ، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مرحومین کو برا کہنے سے منع کیا ہے ، تو آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر کیوں تنقید کر رہے ہیں جبکہ وہ انتقال کر چکے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13029
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا تَسُبُّوا تُبَّعًا ، فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تبع “ کو برا نہ کہو کیونکہ اس نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جابر ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جابر ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 13030
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا تَسُبُّوا تُبَّعًا ، فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ الْمَكِّيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تبع “ کو برا نہ کہو کیونکہ اس نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن ابوبزہ مکی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن ابوبزہ مکی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13031
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زیاد بن علاقہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم مرحومین کو برا نہ کہو ورنہ یوں تم زندوں کو اذیت پہنچاؤ گے “ ( یا یہ مطلب ہو گا کہ مردوں کو برا بھلا کہہ کر زندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13032
وَعَنْ صَخْرٍ - وَقَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ وَقَالَ : عَنِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : الْكُفَّارَ الَّذِينَ أَسْلَمَ أَوْلَادُهُمْ . وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صخر رضی اللہ عنہ جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نصیب ہوا ہے وہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم مرحومین کو برا کہہ کر زندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ کلمات نقل کے ہیں : ان کفار کو برا نہ کہو جن کی اولاد مسلمان ہو چکی ہے ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابومریم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ کلمات نقل کے ہیں : ان کفار کو برا نہ کہو جن کی اولاد مسلمان ہو چکی ہے ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابومریم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13033
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَرْفَعُهُ قَالَ : ¤ سِبَابُ الْمَيِّتِ - وَقَالَ مَرَّةً : الْمَوْتَى - كَالْمُشْرِفِ عَلَى الْهَلَكَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” میت کو ، اور ایک مرتبہ راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : مردوں کو برا بھلا کہنا ، ہلاکت کی طرف جھانکنے والے شخص کی مانند ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13034
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا تُؤْذُوا الْحَيَّ بِالْمَيِّتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوَّلِ وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ نَبْهَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي قِصَّةِ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ أَبِي لَهَبٍ ، لَمَّا شَكَتِ ابْنَتُهُ إِلَيْهِ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ لَهُ لَمَّا أَسْلَمَتْ : هَذِهِ بِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ . فَقَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسُبُّوا أَمْوَاتَنَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میت کے جالے سے زندہ کو اذیت نہ پہنچاؤ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی صالح بن نبہان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ابولہب کو برا کہنے کی ممانعت کہنے والے واقعہ پر مشتمل حدیث آئے گی کہ جب اس کی بیٹی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شکایت کی تھی کہ اس خاتون کے اسلام قبول کرنے کے بعد کچھ لوگوں نے اسے یہ کہا: کہ یہ اللہ کے دشمن کی بیٹی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ہمارے مرحومین کو برا کہہ کر ہمارے زندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی صالح بن نبہان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ابولہب کو برا کہنے کی ممانعت کہنے والے واقعہ پر مشتمل حدیث آئے گی کہ جب اس کی بیٹی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شکایت کی تھی کہ اس خاتون کے اسلام قبول کرنے کے بعد کچھ لوگوں نے اسے یہ کہا: کہ یہ اللہ کے دشمن کی بیٹی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ہمارے مرحومین کو برا کہہ کر ہمارے زندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ ۔ “