کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو کسی مسلمان پر لعنت کرتا ہے یا اس پر کفر کا الزام لگاتا ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَفَعَهُ - قَالَ : " سِبَابُ الْمُسْلِمِ ، كَالْمُشْرِفِ عَلَى الْهَلَكَةِ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” مسلمان کو برا کہنا ہلاکت کی طرف جھانکنے والے شخص کی مانند ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ : انْتَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ ، وَرَجُلٌ مِنْهُمْ كَانَ يُعْرَفُ بِالْبَذَاءِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ .
" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی ایک محفل کے پاس تشریف لائے جن کے درمیان ایسا شخص موجود تھا جو بدزبانی کے حوالے سے معروف تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسلمان کو برا کہنا فسق ہے اور اس کے ساتھ جنگ کرنا ( یا اسے قتل کرنا ) کفر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ .
" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسلمان کو برا کہنا فسق ہے اور اس کے ساتھ قتال کرنا ( یا اسے قتل کرنا ) کفر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ إِلَّا وَبَيْنَهُمَا سِتْرٌ مِنَ اللَّهِ ، فَإِذَا قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ هَجْرًا ، هَتْكَ سِتْرَهُ ، وَإِذَا قَالَ : يَا كَافِرٌ ، فَقَدْ كَفَرَ أَحَدُهُمَا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ .
" مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ إِلَّا وَبَيْنَهُمَا سِتْرٌ مِنَ اللَّهِ ، فَإِذَا قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ هَجْرًا ، هَتْكَ سِتْرَهُ ، وَإِذَا قَالَ : يَا كَافِرٌ ، فَقَدْ كَفَرَ أَحَدُهُمَا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر دو مسلمانوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پردہ ہوتا ہے ، جب ان میں سے کوئی ایک شخص دوسرے کو بری بات کہتا ہے ، تو وہ پردہ پھٹ جاتا ہے ، اور جب وہ یہ کہہ دے اے کافر ! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، جس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے امام بزار کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، جس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے امام بزار کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ :
" لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ ، وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
" لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ ، وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر فاسق ہونے کا الزام نہ لگائے یا کفر کا الزام نہ لگائے اگر وہ ایسا کرتا ہے ، تو یہ چیز اس کی طرف لوٹ آتی ہے ، اگر دوسرا شخص اس طرح کا نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ : يَا كَافِرُ . فَهُوَ كَقَتْلِهِ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
" إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ : يَا كَافِرُ . فَهُوَ كَقَتْلِهِ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص اپنے بھائی سے یہ کہے : اے کافر ! تو یہ اسے قتل کرنے کی مانند ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔