حدیث نمبر: 13002
عَنْ جُرْمُوزٍ الْهُجَيْمِيِّ قَالَ : ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ : " أُوصِيكَ أنْ لَا تَكُونُ لَعَّانًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ هَوْذَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ جُرْمُوزٍ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ هَوْذَةَ ، عَنْ جُرْمُوزٍ ، وَهَذِهِ الطَّرِيقُ رِجَالُهَا ثِقَاتٌ ، فَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ جُرْمُوزًا فَقَالَ : لَهُ صُحْبَةٌ ، رَوَى عَنْهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ هَوْذَةَ . . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جرموز ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں یہ تلقین کرتا ہوں کہ تم لعنت کرنے والے نہ ہونا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے عبیداللہ بن ہوزہ کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا جرموز میسور سے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک اور سند کے حوالے سے عبیداللہ بن ہوزہ کے حوالے سے سیدنا جرموز سے نقل کی ہے ، اور اس طریق کے رجال ثقہ ہیں ، ابن ابوحاتم نے سیدنا جرموز رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے کہ انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے عبیداللہ بن ہوزہ نے ان سے روایات نقل کی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے عبیداللہ بن ہوزہ کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا جرموز میسور سے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک اور سند کے حوالے سے عبیداللہ بن ہوزہ کے حوالے سے سیدنا جرموز سے نقل کی ہے ، اور اس طریق کے رجال ثقہ ہیں ، ابن ابوحاتم نے سیدنا جرموز رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے کہ انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے عبیداللہ بن ہوزہ نے ان سے روایات نقل کی ہیں ۔
حدیث نمبر: 13003
وَعَنْ أَبِي تَمِيمِيَّةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ : ¤ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَوْ قَالَ : أَنْتَ مُحَمَّدٌ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : مَا تَدْعُو ؟ قَالَ : " أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَحْدَهُ . مَنْ إِذَا كَانَ لَكَ ضُرٌّ فَدَعْوَتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ ، وَمَنْ إِذَا أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَ لَكَ ، وَمَنْ إِذَا كُنْتَ فِي أَرْضٍ قَفْرٍ فَأَضْلَلْتَ ، فَدَعْوَتَهُ رَدَّ عَلَيْكَ " . فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ قَالَ : أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " لَا تَسُبَّنَّ شَيْئًا " - أَوْ قَالَ : " أَحَدًا " شَكَّ الْحَكَمُ - قَالَ : فَمَا سَبَبْتُ بَعِيرًا وَلَا شَاةً ، مُنْذُ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوتمیمہ ہجیمی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک فرد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ کہتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : وہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اس نے دریافت کیا : کیا آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : کیا آپ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس نے دریافت کیا : آپ کس بات کی دعوت دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ( کا اقرار کرنے ) کی دعوت دیتا ہوں جو ایسا ہے کہ جب تمہیں کوئی تکلیف لاحق ہو ، اور تم اس سے دعا کرو ، تو وہ تم سے اس تکلیف کو دور کر دے گا ، اور جب تمہیں قحط سالی لاحق ہو اور تم اس سے دعا کرو ، تو وہ تمہارے لئے چیزیں اگا دے گا ، اور جب تم کسی ویرانے میں موجود ہو ، اور تمہاری سواری گم ہو جائے اور تم اس سے دعا کرو ، تو وہ تمہاری سواری واپس کر دے گا ، اس شخص نے اسلام قبول کر لیا ، پھر اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی یہ تلقین کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کسی چیز کو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کسی فرد کو برا ہرگز نہ کہنا ، یہ شک حکم نامی راوی کو ہے وہ صاحب بیان کرتے ہیں : جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تلقین کی ہے ۔ اس کے بعد میں نے کبھی کسی اونٹ اور بکری کو بھی برا نہیں کہا: ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن فضیل ہے ، جسے امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن فضیل ہے ، جسے امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13004
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ اللَّعَّانُونَ صِدِّيقِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّيْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ مناسب نہیں ہے کہ لعنت کرنے والے لوگ صدیقین ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق صیبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق صیبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13005
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَجَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مومن طعنہ دینے والا لعنت کرنے والا فحش کلامی کرنے والا بدزبانی کرنے والا نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے جسے ابوزرعہ اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے جسے ابوزرعہ اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 13006
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِطَعَّانٍ وَلَا لَعَّانٍ . قَالَ : وَمَا سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَلْعَنُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَفِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : مومن طعنہ دینے والا یا لعنت کرنے والا نہیں ہوتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کبھی کسی پر لعنت کرتے ہوئے نہیں سنا ، البتہ ایک شخص کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13007
وَعَنْ كَرِيزِ بْنِ أُسَامَةَ - وَقَدْ كَانَ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ عَلَى بَنِي عَامِرٍ . فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کریز بن اسامہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد کے ساتھ حاضر ہوئے تھے وہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ بنو عامر کے خلاف دعائے ضرر کریں تو آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے لعنت کرنے والے کے طور پر مبعوث نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13008
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَشْتُمُ رَجُلًا رَافِعًا صَوْتَهُ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " الْبَذَاءُ لُؤْمٌ ، وَسُوءُ الْمَلَكَةِ لُؤْمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے ایک شخص کو دوسرے شخص کو بلند آواز میں برا کہتے ہوئے سنا ، تو یہ بات بیان کی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بدزبانی قابل ملامت چیز ہے اور برا مالک ہونا قابل ملامت چیز ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عرادہ ہے ، جسے امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عرادہ ہے ، جسے امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔