کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو غصے کے وقت اپنے اوپر قابو رکھے
حدیث نمبر: 12981
عَنْ أَنَسٍ : ¤ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ يَرْفَعُونَ حَجَرًا ، فَقَالَ : " مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ ؟ " . قَالُوا : يَرْفَعُونَ حَجَرًا يُرِيدُونَ الشِّدَّةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ ؟ - أَوْ كَلِمَةٌ نَحْوَهَا - الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جنہوں نے پتھر اٹھائے ہوے تھے ، آپ نے فرمایا : یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ لوگ پتھر اٹھا کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہاری رہنمائی اس شخص کی طرف نہ کروں جو ایسے شخص سے زیادہ طاقتور ہو ( راوی کو شک ہے شاید اس کی مانند کوئی اور کلمہ آپ نے ارشاد فرمایا : ) یہ وہ شخص ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر ق ابورکھے ۔
حدیث نمبر: 12982
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ يَصْطَرِخُونَ فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فُلَانٌ الصَّرِيعُ ، مَا يُصَارِعُ أَحَدًا إِلَّا صَرَعَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ ؟ رَجُلُ ظَلَمَهُ رَجُلٌ ، فَكَظَمَ غَيْظَهُ ، فَغَلَبَهُ وَغَلَبَ شَيْطَانَهُ ، وَغَلَبَ شَيْطَانَ صَاحِبِهِ " . ¤ رَوَاهُمَا الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ ، وَفِيهِ شُعَيْبُ بْنُ بَيَانٍ وَعِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، وَوَثَّقَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُمَا غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان صحابی کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو ایک دوسرے کے ساتھ کشتی کر رہے تھے ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ فلاں پہلوان ہے ، جو شخص اس کے مقابلے میں آتا ہے یہ شخص اسے پچھاڑ دیتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہاری رہنمائی اس شخص کی طرف نہ کروں جو اس شخص سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے ؟ وہ شخص جس کے ساتھ کوئی دوسرا شخص زیادتی کرے اور وہ شخص اپنے غصے پر ق ابوپا لے ، وہ شخص اپنے اوپر بھی غالب آ جاتا ہے اور اپنے شیطان پر بھی غالب آ جاتا ہے ، اور اپنے ساتھی کے شیطان پر بھی غالب آ جاتا ہے ۔ “ یہ دونوں روایات امام بزار نے ایک ہی سند کے ساتھ نقل کی ہیں ان کی سند میں ایک راوی شعیب بن بیان ہے اور ایک راوی عمران قطان ہے ۔ ابن حبان نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے حضرات نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ، اور ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12983
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ دَفَعَ غَضَبَهُ دَفَعَ اللَّهُ عَنْهُ عَذَابَهُ ، وَمَنْ حَفِظَ لِسَانَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هَاشِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان صحابی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے غصے کو پرے کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے اپنے غصے کو پرے کر دیتا ہے ، اور جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن ہاشم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن ہاشم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12984
وَعَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ فَقَالَ : ¤ " تَدْرُونَ مَا الرَّقُوبُ ؟ " . قَالُوا : الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ . فَقَالَ : " الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ ، الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ ، الَّذِي لَهُ وَلَدٌ فَمَاتَ ، وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُنَّ شَيْئًا " . ¤ قَالَ : " تَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ ؟ " . قَالُوا : الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ . قَالَ : " الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ ، الَّذِي لَهُ مَالٌ فَمَاتَ ، وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًا " . ¤ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا الصُّرَعَةُ ؟ " . قَالُوا : الصَّرِيعُ . قَالَ : " الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ ، الرَّجُلُ الَّذِي يَغْضَبُ فَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ ، وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ ، وَيَقْشَعِرُّ شَعْرُهُ ، فَيَصْرَعُ غَضَبَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو حَصْبَةَ أَوِ ابْنُ حَصْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک صحابی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے میں موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” کیا تم لوگ جانتے ہو رقوب ( یعنی لاولد ) کسے کہتے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : اس کو جس کی اولاد نہ ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رقوب جو مکمل طور پر رقوب ہو ، جو مکمل طور پر رقوب ہو ، وہ رقوب جو مکمل طور پر رقوب ہو ، یہ وہ ہوتا ہے جس کی اولاد ہو اور وہ شخص مر جائے اور اس نے ان ( یعنی اولاد ) میں سے کسی کو آگے نہ بھیجا ہو ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو صعلوک ( یعنی کنگال ) کون ہوتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : وہ شخص جس کے پاس مال نہ ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ کنگال جو مکمل کنگال ہو ، وہ کنگال جو مکمل کنگال ہو ، وہ کنگال جو مکمل کنگال ہو ، یہ وہ شخص ہے جس کے پاس مال موجود ہو اور وہ مر جائے اور اس نے اس مال میں سے کچھ بھی آگے نہ بھیجا ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو طاقت کیا ہوتی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جو پہلوان میں ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ طاقت جو مکمل طاقت ہو ، وہ طاقت جو مکمل طاقت ہو ، وہ طاقت جو مکمل طاقت ہو ، وہ اس شخص کی ہوتی ہے جو غصے میں آئے اور اس کا غضب شدید ہو جائے ، اس کا چہرہ سرخ ہو جائے ، اس کے بال کپکپانے لگیں اور اس وقت وہ اپنے غصے پر ق ابوپا لے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحصبہ یا ابن حصبہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحصبہ یا ابن حصبہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔