عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَا يُرْفَعُ مِنَ النَّاسِ الْأَمَانَةُ ، وَآخِرُ مَا يَبْقَى الصَّلَاةُ ، وَرُبَّ مُصَلٍّ لَا خَيْرَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں سے سب سے پہلے امانت کو اٹھا لیا جائے گا ، اور سب سے آخر میں باقی رہ جانے والی چیز نماز ہو گی اور کئی نمازی ایسے ہوں گے ، جن میں بھلائی نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، جس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، جس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَا يُرْفَعُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْحَيَاءُ وَالْأَمَانَةُ ، وَآخِرُ مَا يَبْقَى الصَّلَاةُ " ، يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ قَالَ : " وَقَدْ يُصَلِّي قَوْمٌ لَا خَلَاقَ لَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ بَرَّازٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَيَأْتِي قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْبَابِ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس امت میں سے سب سے پہلے حیا اور امانت کو اٹھا لیا جائے گا ، اور آخر میں نماز باقی رہ جائے گی ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا : کچھ لوگ نماز ادا کریں گے لیکن ان کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن براز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ اس کے بعد والے باب میں اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان بھی آئے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن براز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ اس کے بعد والے باب میں اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان بھی آئے گا ۔