کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک وہ احمق بن احمق کو نہیں ملے گی
حدیث نمبر: 12423
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ : أَقْبَلْتُ أَنَا وَيَزِيدُ بْنُ حَسَنٍ ، بَيْنَنَا ابْنُ رُمَّانَةَ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ ، قَدْ نَصَبْنَا أَيْدِيَنَا فَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيْهَا دَاخِلَ الْمَسْجِدِ مَسْجِدِ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِهِ ابْنُ نِيَارٍ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ [ ائْتِنِي ]، فَأَتَاهُ فَقَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ رُمَّانَةَ بَيْنَكُمَا يَتَوَكَّأُ عَلَيْكَ وَعَلَى زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَنْ تَذْهَبَ الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ عِنْدَ لُكَعِ بْنِ لُكَعٍ " . ¤
محمد محی الدین
ابوبکر بن ابوجہم بیان کرتے ہیں : میں اور یزید بن حسن آئے ، ہمارے درمیان عبدالعزیز بن مروان کا غلام رمانہ تھا ، ہم نے اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور اس نے ان پر ٹیک لگائی ہوئی تھی ، وہ مسجد میں داخل ہوا ، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں داخل ہوا ، وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابن نیار رضی اللہ عنہ موجود تھے ۔ انہوں نے ابوبکر کو پیغام بھیجا تم میرے پاس آؤ ، وہ ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے کہا: میں نے ابن رمانہ کو تمہارے درمیان ٹیک لگا کر چلتے ہوئے دیکھا ہے ، تمہارے اور زید بن حسن کے درمیان اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک وہ کسی احمق کے بیٹے احمق کو نہیں ملے گی ۔ “
حدیث نمبر: 12424
وَفِي رِوَايَةٍ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ لِلُكَعِ بْنِ لُكَعٍ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک وہ احمق کے بیٹے احمق کو نہیں ملے گی ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12425
وَعَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يَغْلِبَ عَلَى الدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ ، وَأَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنُ بَيْنَ كَرِيمَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَنَسٍ وَأَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب بیان کرتے ہیں : ” عنقریب احمق کا بیٹا احمق دنیا پر غالب آ جائے گا ، اور لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا وہ مومن ہے ، جو دو نیک ماں باپ کی اولاد ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے مرفوع روایت کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں اس حدیث کے مختلف طرق آگے چل کر قیامت کی نشانیوں سے متعلق باب میں آئیں گے جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے مرفوع روایت کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں اس حدیث کے مختلف طرق آگے چل کر قیامت کی نشانیوں سے متعلق باب میں آئیں گے جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہے ۔