کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: فتنوں کے دوران کیا کرنا چاہیے ؟ اس کا بیان
حدیث نمبر: 12342
عَنْ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيِّ ثُمَّ السُّلَمِيِّ قَالَ : نُصِبَتْ حَبَائِلُ لِي بِالْأَبْوَاءِ ، فَوَقَعَ فِي حَبْلٍ مِنْهَا ظَبْيٌ فَأَفْلَتَ ، فَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ ، فَوَجَدْتُ رَجُلًا قَدْ أَخَذَهُ ، فَتَنَازَعْنَا فِيهِ ، فَتَسَاوَقْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْنَاهُ نَازِلًا بِالْأَبْوَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ يَسْتَظِلُّ بِنِطْعٍ ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَيْهِ ، فَقَضَى بِهِ بَيْنَنَا شَطْرَيْنِ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَلْقَى الْإِبِلَ وَبِهَا لَبَنٌ وَهِيَ مُصَرَّاةٌ وَنَحْنُ مُحْتَاجُونَ . قَالَ : " نَادِ صَاحِبَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا ، فَإِنْ جَاءَ ، وَإِلَّا فَاحْلُلْ صِرَارَهَا ثُمَّ اشْرَبْ ثُمَّ صُرَّ وَأَبْقِ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهِ " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الضَّوَالُّ تَرِدُ عَلَيْنَا هَلْ لَنَا أَجْرٌ أَنْ نَسْقِيَهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فِي كُلِّ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ " . ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنَا قَالَ : " سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ خَيْرُ الْمَالِ فِيهِ غَنَمٌ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ تَأْكُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمَاءَ ، يَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْ رِسْلِهَا وَيَشْرَبُ مِنْ أَلْبَانِهَا وَيَلْبَسُ مِنْ أَصْوَافِهَا - أَوْ قَالَ : أَشْعَارِهَا - وَالْفِتَنُ تَرْتَكِسُ بَيْنَ جَرَاثِيمِ الْعَرَبِ ، وَاللَّهِ مَا تَعْبَئُونَ " . يَقُولُهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ : " أَقِمِ الصَّلَاةَ ، وَآتِ الزَّكَاةَ ، وَصُمْ رَمَضَانَ ، وَحُجَّ [ الْبَيْتَ ] ، وَاعْتَمِرْ ، وَبِرَّ وَالِدَيْكَ ، وَصِلْ رَحِمَكَ ، وَأَقْرِ الضَّيْفَ ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَزُلْ مَعَ الْحَقِّ حَيْثُ زَالَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مخول بہزی سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ” ابواء “ کے مقام پر جال لگایا ، اس کی ایک رسی میں ایک ہرن کا بچہ پھنس گیا ، پھر وہ وہاں سے نکلا ، میں اس کے پیچھے گیا ، تو میں نے ایک اور شخص کو پایا کہ وہ اس کو پکڑ چکا تھا ، ہم نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ، پھر ہم اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے آپ کو پایا کہ آپ نے ” ابواء “ مقام پر ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ہوا تھا اور ایک چمڑے کے ٹکڑے کے ذریعے آپ نے سایہ کیا ہوا تھا ، ہم نے اپنا مقدمہ آپ کے سامنے پیش کیا ، تو آپ نے اس بارے میں یہ حکم دیا کہ وہ دو حصوں میں ہمارے درمیان تقسیم ہو جائے گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں ایسے اونٹ ملتے ہیں ، جن میں دودھ ہوتا ہے اور وہ اونٹنیاں مصراۃ ہوتی ہیں اور ہمیں ضرورت بھی ہوتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اونٹ کے مالکان کو تین مرتبہ آواز دو ، اگر وہ آ جائے تو ٹھیک ہے ، ورنہ اس کی تھیلی کھول کے دودھ پی لو اور پھر اسے باندھ دو اور اونٹ کے مالکان کے لئے بھی دودھ باقی رہنے دینا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بعض اوقات گمشدہ جانور ہمارے پاس آ جاتے ہیں ، تو اگر ہم انہیں پانی پلائیں تو کیا اس کا اجر ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ہر جاندار کے ساتھ ( بھلائی کرنے کا ) اجر ہو گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ گفتگو شروع کی ، آپ نے ارشاد فرمایا : عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں سب سے بہتر مال وہ بکریاں ہوں گی ، جو دو مسجدوں کے درمیان ہوں گی ، جو درخت سے کھا لیں گی ، پانی تک پہنچ جائیں گی ، ان کا مالک ان کا گوشت کھا لے گا ، ان کا دودھ پی لے گا ، اور ان کے اون ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے بالوں سے بنا ہوا لباس پہن لے گا ، اور عربوں کی رہائشی جگہوں میں فتنے گھوم پھر رہے ہوں گے ، اللہ کی قسم ! تم لوگ پرواہ نہیں کرو گے ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے تلقین کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نماز قائم کرو ، تم زکوة دو ، تم رمضان کے روزے رکھو ، تم بیت اللہ کا حج کرو اور عمرہ کرو ، اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، مہمان نوازی کرو ، نیکی کا حکم دو ، برائی سے منع کرو اور حق کے ساتھ رہو ، وہ جہاں بھی ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ابویعلیٰ کی سند میں محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی داؤد بن سلیمان شاذ کونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12342
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1568)»