کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حکومت کی خاطر جنگ کرنا
حدیث نمبر: 12280
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَرُّ قَتِيلٍ بَيْنَ صَفَّيْنِ أَحَدُهُمَا يَطْلُبُ الْمُلْكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَوَّلِ أَبُو نُعَيْمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے برا مقتول وہ ہے ، جو دو ایسے گروہوں کے درمیان ( قتل ہوا ہو ) کہ ان دونوں میں سے کوئی ( بھی ) ایک گروہ حکومت چاہتا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالاول ابونعیم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12280
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12281
وَعَنْ ثَرْوَانَ بْنِ مِلْحَانَ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يَأْخُذُونَ الْمُلْكَ ، يَقْتُلُ عَلَيْهِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا " . قَالَ : قُلْنَا لَهُ : لَوْ حَدَّثَنَا غَيْرُكَ مَا صَدَّقْنَاهُ . قَالَ : فَإِنَّهُ سَيَكُونُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ثَرْوَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ثروان بن ملحان بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے ، ہم نے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی احادیث بیان کیجئے ، جو آپ نے فتنے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے ، جو حکومت حاصل ( کرنا چاہیں ) گے اور وہ اس کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کریں گے ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہم نے ان سے کہا: اگر آپ کی بجائے کسی اور نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہوتی ، تو ہم نے اس کی بات کی تصدیق نہیں کرنی تھی ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسا ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ثروان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12281
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12282
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ لَهُ : فِي الْفِتْنَةِ لَا تَرَوْنَ الْقَتْلَ شَيْئًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا فِيمَا يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن حبان بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اُن سے کہا: جب فتنہ ہو گا ، تو تم لوگ قتل کرنے کو کچھ بھی نہیں سمجھو گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن حبان کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں اس نوعیت کی کچھ احادیث ، اس باب میں آئیں گی جو فتنوں سے متعلق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12282
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (32/2)»