کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو فتنوں کو ناپسند کرتا ہے اور اس کا بیان ، جو ان سے راضی ہوتا ہے
حدیث نمبر: 12262
عَنِ الْحُسَيْنِ - يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ - وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ شَهِدَ أَمْرًا فَكَرِهَهُ كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهُ ، وَمَنْ غَابَ عَنْ أَمْرٍ فَرَضِيَ بِهِ كَانَ كَمَنْ شَهِدَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَكَذَلِكَ يُوسُفُ بْنُ مَيْمُونٍ الصَّبَّاغُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَمَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی معاملے میں موجود ہو اور اسے ناپسند کرے ، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا ، جو وہاں موجود نہ ہو ، اور جو شخص کسی معاملے میں موجود نہ ہو اور وہ اس سے راضی ہو ، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا ، جو وہاں موجود ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شبیب ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، یوسف بن میمون صباغ کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے ، جبکہ جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ایک راوی منصور بن ابومزاحم ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شبیب ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، یوسف بن میمون صباغ کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے ، جبکہ جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ایک راوی منصور بن ابومزاحم ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 12263
وَعَنْ عَوْنٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ - قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ : إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ ، فَمَنْ رَضِيَهَا مِمَّنْ غَابَ عَنْهَا فَهُوَ كَمَنْ شَهِدَهَا ، وَمَنْ كَرِهَهَا مِمَّنْ شَهِدَهَا فَهُوَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا . فَأَعْجَبَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَوْنٌ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ ، وَالْمَسْعُودِيُّ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
عون بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز سے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے : ” عنقریب کچھ مشتبہ امور آئیں گے اور جو شخص ان کے پاس موجود نہ ہونے کے باوجود ان سے راضی ہو ، تو وہ ان کے پاس موجود ہونے والے کی مانند ہو گا ، اور جو شخص اُن کے پاس موجود ہو ، لیکن پھر بھی انہیں ناپسند کرے ، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا ، جو وہاں موجود نہ ہو ۔ “ تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز کو یہ بات اچھی لگی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عون نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اور مسعودی نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عون نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اور مسعودی نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔