حدیث نمبر: 12258
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ : حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الشَّامُ ، فَإِذَا خُيِّرْتُمُ الْمَنَازِلَ فِيهَا فَعَلَيْكُمْ بِمَدِينَةٍ فِيهَا يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ ، فَإِنَّهَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمَلَاحِمِ وَفُسْطَاطُهَا مِنْهَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . قُلْتُ : وَفِي فَضْلِ الشَّامِ أَحَادِيثُ فِي أَوَاخِرِ الْمَنَاقِبِ . ¤
محمد محی الدین
جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے مجھے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عنقریب تمہارے لئے شام کو فتح کر دیا جائے گا ، جب تمہیں وہاں رہائش کے لئے اختیار دیا جائے ، تو تم پر اس شہر میں رہنا لازم ہو گا ، جس کا نام ” دمشق “ ہو گا ، کیونکہ وہ جنگ کے موقع پر مسلمانوں کے اکٹھے ہونے کی جگہ ہو گی ، اور مسلمانوں کا خیمہ ، ایک ایسی سرزمین پر ہو گا ، جس کا نام ” غوطہ “ ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : شام کی فضیلت کے بارے میں کچھ احادیث ہیں ، جو کتاب المناقب کے آخر میں آئیں گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : شام کی فضیلت کے بارے میں کچھ احادیث ہیں ، جو کتاب المناقب کے آخر میں آئیں گی ۔
حدیث نمبر: 12259
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِهِ ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي فَعَمَدَ بِهِ إِلَىالشَّامِ ، أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْطَاكِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک مرتبہ میں سو رہا تھا ، میں نے ( خواب میں ) دیکھا کہ میرے سر سے ایک لمبی کتاب اٹھائی گئی ہے ، میں نے یہ گمان کیا کہ یہ شاید یہ چلی جائے گی ، میں نے اس کے پیچھے نگاہ رکھی ، پھر وہ شام لے جائی گی ، خبردار ! جب فتنے واقع ہوں گے ، تو ایمان کی جگہ ” شام “ ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عامر انطاکی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عامر انطاکی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔