حدیث نمبر: 12199
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ قَالَ : كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْمَدِينَةِ ، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ : يَا فُلَانُ ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْعَتُ الْإِسْلَامَ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ جَذَعًا ثُمَّ ثَنِيًّا ثُمَّ رَبَاعِيًّا ثُمَّ سَدِيسًا ثُمَّ بَازِلًا " . فَقَالَ عُمَرُ : فَمَا بَعْدَ الْبُزُولِ إِلَّا النُّقْصَانُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بن عبداللہ مزنی بیان کرتے ہیں : مجھے ایک صاحب نے یہ بات بتائی ہے : وہ کہتے ہیں : میں ایک ایسی محفل میں موجود تھا ، جس میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، یہ مدینہ منورہ کی بات ہے ، انہوں نے حاضرین میں سے ایک شخص سے کہا: اے فلاں ! تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کی صفت بیان کرتے ہوئے کیسے سنا ہے ؟ تو ان صاحب نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اسلام کا آغاز جذع ہونے ( یعنی کم سن اونٹ ہونے ) کے عالم میں ہوا ، پھر وہ ثنی ( یعنی تیسرے سال میں داخل ہونے والا ) ہو گیا ، پھر وہ رباعی ( یعنی چوتھے سال میں داخل ہونے والا ) اونٹ ہو گیا ، پھر وہ سدیس ( یعنی آٹھویں سال میں داخل ہونے والا ) اونٹ ہو گیا ، پھر وہ بازل ( یعنی جس کے آٹھ سال پورے ہو گئے اور وہ نویں سال میں داخل ہو گیا ہو ، وہ ) ہو گیا ۔ “ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” بازل “ ہو جانے کے بعد تو کم ہونا ہی باقی رہ جاتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12199
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (192) اخرجه احمد فى المسند (54/4)»