کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو لوگوں کے فساد کے وقت نیکی کا حکم دے گا
حدیث نمبر: 12109
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِهَذَا الدِّينِ إِقْبَالًا وَإِدْبَارًا ، أَلَا وَإِنَّ مِنْ إِقْبَالِ هَذَا الدِّينِ أَنْ تَفْقَهَ الْقَبِيلَةُ بِأَسْرِهَا حَتَّى لَا يَبْقَى فِيهَا إِلَّا الْفَاسِقُ أَوِ الْفَاسِقَانِ ذَلِيلَانِ ، فَهُمَا إِنْ تَكَلَّمَا قُهِرَا وَاضْطُهِدَا . وَإِنَّ مِنْ إِدْبَارِ هَذَا الدِّينِ أَنْ تَجْفُوَ الْقَبِيلَةُ بِأَسْرِهَا فَلَا يَبْقَى فِيهَا إِلَّا الْفَقِيهُ وَالْفَقِيهَانِ ، فَهُمَا ذَلِيلَانِ إِنْ تَكَلَّمَا قُهِرَا وَاضْطُهِدَا . وَيَلْعَنُ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا ، أَلَا وَعَلَيْهِمْ حَلَّتِ اللَّعْنَةُ حَتَّى يَشْرَبُوا الْخَمْرَ عَلَانِيَةً حَتَّى تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالْقَوْمِ فَيَقُومَ إِلَيْهَا بَعْضُهُمْ فَيَرْفَعُ بِذَيْلِهَا كَمَا يَرْفَعُ بِذَنْبٍ النَّعْجَةِ ، فَقَائِلٌ يَقُولُ يَوْمَئِذٍ : أَلَا وَارَيْتَهَا وَرَاءَ الْحَائِطِ ، فَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِيهِمْ مِثْلُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِيكُمْ ، فَمَنْ أَمَرَ يَوْمَئِذٍ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَى عَنِ الْمُنْكَرِ فَلَهُ أَجْرُ خَمْسِينَ مِمَّنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي وَأَطَاعَنِي وَبَايَعَنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس دین کی ایک آمد ہے اور ایک رخصتی ہو گی ، اس دین کی آمد میں یہ بات شامل ہے کہ پورا قبیلہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کر لے گا اور پورے قبیلے میں ایک یا دو فاسق رہ جائیں گے ، جو کمتر ہوں گے اور ان دونوں کا یہ عالم ہو گا کہ اگر وہ کوئی بات کریں گے ، تو دب کے کریں گے اور زیرنگیں ہو کر کریں گے ، اور اس دین کی رخصتی یہ ہو گی کہ پورا قبیلہ زیادتی کرے گا ، ان میں صرف ایک یا دو عالم ہوں گے اور وہ دونوں کمتر ہوں گے ، اگر وہ بات چیت کریں گے ، تو دب کر کریں گے اور مجبور ہو کر کریں گے ، اور اس امت کا آخری حصہ پہلے والوں پر لعنت کرے گا ، خبردار ! ان لوگوں پر لعنت حلال ہو جائے گی ، یہاں تک کہ وہ لوگ اعلانیہ طور پر شراب نوشی کریں گے ، یہاں تک ایک عورت کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے گی ، تو ان میں سے ایک شخص اُٹھ کر اُس عورت کے پاس جائے گا اور اس عورت کے دامن کو یوں اٹھائے گا ، جس طرح بکری کی دم کو اوپر کیا جاتا ہے ، اس وقت کوئی شخص یہ کہے گا : تم اسے دیوار کے پیچھے لے جاؤ ، تو ان لوگوں کے درمیان اُس شخص کا یہ عالم ہو گا ، جو تمہارے درمیان ابوبکر اور عمر کی حالت ہے ، اس وقت میں جو شخص نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا ، اُسے ان پچاس افراد کی مانند اجر ملے گا ، جنہوں نے مجھے دیکھا ، مجھ پر ایمان لائے ، میری اطاعت کی اور میری بیعت کی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12109
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7863 و 7807)»