حدیث نمبر: 11929
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ " ، قِيلَ : وَمَا اسْتَعْمَلَهُ ؟ قَالَ : " يُفْتَحُ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ بَيْنَ يَدَيْ مَوْتِهِ حَتَّى يَرْضَى عَنْهُ مَنْ حَوْلَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اس کی موت سے پہلے اس سے کام لیتا ہے ، عرض کی گئی : وہ اس سے کیا کام لیتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اس کی موت سے پہلے اُس کے لئے نیک عمل کو کھول دیتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اردگرد کے لوگ اس سے راضی ہو جاتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11930
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ " ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : مَا اسْتَعْمَلَهُ ؟ قَالَ : " يَهْدِيهِ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَى الْعَمَلِ الصَّالِحِ قَبْلَ مَوْتِهِ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے تو اس کی موت سے پہلے اس سے کام لیتا ہے ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : وہ اس سے کیسے کام لیتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ نیک عمل کی طرف اُس کی رہنمائی کرتا ہے جو اس کی موت سے پہلے ہوتی ہے اور پھر اسی حالت میں ، اس کی جان قبض کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، جس نے سماع کی تصریح کی ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، جس نے سماع کی تصریح کی ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11931
وَعَنْ أَبِي عِنَبَةَ قَالَ شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ، وَلَهُ صُحْبَةٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَّلَهُ " . قِيلَ : وَمَا عَسَّلَهُ ؟ قَالَ : " يَفْتَحُ لَهُ عَمَلًا صَالِحًا قَبْلَ مَوْتِهِ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ فِي الْمُسْنَدِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعنبہ بیان کرتے ہیں : سیدنا شریح بن نعمان رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لیتا ہے ، تو اسے شہد والا کرتا ہے ، عرض کی گئی : اس کو شہد والا کرنے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اس کی موت سے پہلے اس کے لئے نیک عمل کو کھول دیتا ہے اور پھر اسی حالت میں اس کی جان قبض کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، جس نے ” مسند “ میں سماع کی صراحت کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، جس نے ” مسند “ میں سماع کی صراحت کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11932
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا طَهَّرَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا طَهُورُ الْعَبْدِ ؟ قَالَ : " عَمَلٌ صَالِحٌ يُلْهِمُهُ إِيَّاهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ وَفِي بَعْضِهَا " عَسَلَهُ " بَدَلَ " طَهَّرَهُ " ، وَفِي إِحْدَى طُرُقِهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اس کی موت سے پہلے اسے پاک کر دیتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : بندے کے پاک ہونے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اسے نیک عمل ، الہام کرتا ہے ، یہاں تک کہ اس ( نیک عمل ) پر اس ( شخص کی روح کو ) قبض کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ، جس کی بعض روایات میں لفظ ” طہرہ “ کی جگہ لفظ ” عسلہ “ ہے ، اور اس کے ایک طریق میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، جس نے سماع کی صراحت کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ، جس کی بعض روایات میں لفظ ” طہرہ “ کی جگہ لفظ ” عسلہ “ ہے ، اور اس کے ایک طریق میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، جس نے سماع کی صراحت کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11933
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا غَسَلَهُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ غَسَلَهُ ؟ قَالَ : " يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ مَوْتِهِ فَيَقْبِضُهُ عَلَيْهِ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يُونُسَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اسے دھو دیتا ہے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ اُسے کیسے دھوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اس کی موت سے پہلے اُسے نیک عمل کی توفیق دیتا ہے اور پھر اسی حالت میں اس کی جان قبض کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یونس بن عثمان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یونس بن عثمان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 11934
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ " ، ثُمَّ صَمَتَ ، فَقَالُوا : فِي مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَسْتَعْمِلُهُ عَمَلًا صَالِحًا قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے تو اس سے کام لیتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کس قسم کا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اُس ( بندے ) کے مرنے سے پہلے اُس سے نیک عمل کرواتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد أحمد بن محمد بن نافع کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد أحمد بن محمد بن نافع کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11935
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : أَسْنَدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى صَدْرِي ، فَقَالَ : " مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ مُسْلِمٍ الْبَتِّيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے کے ساتھ ٹیک دی ہوئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ” لا الہ الا اللہ “ پڑھ لے اور اس کا خاتمہ بھی اس پر ہو ، وہ جنت میں داخل ہو گا ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک دن کا روزہ رکھے ، اور اس کا خاتمہ بھی اس پر ہو ، وہ جنت میں داخل ہو گا ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوئی چیز صدقہ کرے اور اس کا خاتمہ بھی اس پر ہو ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عثمان بن مسلم بتی نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عثمان بن مسلم بتی نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔