کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اعمال میں ، خاتمے کا اعتبار ہو گا
حدیث نمبر: 11917
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تُعْجَبُوا بِأَحَدٍ حَتَّى تَنْظُرُوا بِمَاذَا يُخْتَمُ لَهُ ، فَإِنَّ الْعَامِلَ يَعْمَلُ زَمَانًا مِنْ عُمُرِهِ أَوْ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ صَالِحٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ لَدَخَلَ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ لِيَعْمَلَ عَمَلًا سَيِّئًا ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ سَيِّئٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ ؟ قَالَ : " يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا کہ اگر تم کسی شخص پر حیرانگی کا اظہار نہ کرو ، جب تک تم اس بات کا جائزہ نہیں لیتے کہ اس کا خاتمہ کس صورت حال پر ہوا ہے ؟ کوئی عمل کرنے والا اپنے زندگی کے ایک طویل عرصے تک نیک عمل کرتا رہتا ہے ، اور وہ ایسا عمل ہوتا ہے کہ اگر وہ اس عمل پر مرتا ، تو وہ جنت میں داخل ہوتا اور پھر وہ منتقل ہو کر ، برا عمل کرنا شروع کر دیتا ہے ، اور کوئی بندہ ایک طویل عرصے تک برے عمل کرتا رہتا ہے کہ اگر وہ اُس برے عمل پر مرتا ، تو جہنم میں چلا جاتا ، لیکن پھر وہ منتقل ہو کر ، نیک عمل کرنا شروع کر دیتا ہے ، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لیتا ہے ، تو اس کی موت سے پہلے اس سے کام لیتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ اُس سے کیسے کام لیتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اُسے نیک عمل کی توفیق عطا کرتا ہے اور پھر اسی چیز پر اُس کی جان قبض کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3756) اخرجه احمد فى المسند (120/3)»
حدیث نمبر: 11918
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمَاتَ فَدَخَلَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِأَسَانِيدَ ، وَبَعْضُ أَسَانِيدِهِمَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” آدمی اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے اور لوح محفوظ میں اُس کا نام اہل جہنم میں ہوتا ہے ، جب اس کی موت سے پہلے کا وقت آتا ہے ، تو وہ منتقل ہو کر ، اہل جہنم کے سے عمل کرنے لگتا ہے ، اور پھر مر کر جہنم میں چلا جاتا ہے ، اور کوئی شخص اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے ، حالانکہ لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جنت میں ہوتا ہے ، تو آدمی مرنے سے پہلے منتقل ہو کر ، اہل جنت کے سے عمل کرنے لگتا ہے ، اور اسی حالت میں مر کے جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں حضرات کی بعض اسانید کے رجال ، صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11918
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4668) اخرجه احمد فى المسند (107/6)»
حدیث نمبر: 11919
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَابِضًا يَدَهُ عَلَى شَيْءٍ فِي يَدِهِ ، فَفَتَحَ يَدَهُ الْيُمْنَى ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِيهِ أَهْلُ الْجَنَّةِ بِأَعْدَادِهِمْ ، وَأَسْمَائِهِمْ ، وَأَحْسَابِهِمْ ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَحَدٌ وَلَا يُزَادُ فِيهِمْ أَحَدٌ ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِالسَّعِيدِ طَرِيقُ الشَّقَاءِ حَتَّى يُقَالَ هُوَ مِنْهُمْ مَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ ، ثُمَّ يُزَالُ إِلَى سَعَادَتِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَلَوْ بِفَوَاقِ نَاقَةٍ " ، وَفَتَحَ يَدَهُ الْيُسْرَى فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِيهِ أَهْلُ النَّارِ بِأَعْدَادِهِمْ وَأَسْمَائِهِمْ ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ وَلَا يُزَادُ فِيهِمْ أَحَدٌ ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِالْأَشْقِيَاءِ طَرِيقُ أَهْلِ السَّعَادَةِ حَتَّى يُقَالَ هُوَ مِنْهُمْ وَمَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ ، ثُمَّ يُدْرِكُ أَحَدَهُمْ شَقَاؤُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ وَلَوْ بِفَوَاقِ نَاقَةٍ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَمَلُ بِخَوَاتِيمِهِ " ثَلَاثًا ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقَالَ الْبَزَّارُ : هُوَ صَالِحٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے اپنی مٹھی میں کوئی چیز لی ہوئی تھی ، آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو کھولا اور فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ بڑے مہربان ، نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے تحریر ہے ، اس میں اہل جنت ، ان کی تعداد ، ان کے اسماء ، ان کے حسب نسب کا بیان ہے ، جو قیامت کے دن تک ہوں گے ، ان لوگوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ، بعض اوقات کسی سعادت مند شخص کو بدنصیبی کے راستے پر چلایا جاتا ہے ، یہاں تک کہ یہ کہا: جاتا ہے : یہ اُن ( بدنصیب لوگوں ) میں سے ہو گا ، اور یہ ان کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتا ہے ؟ لیکن پھر وہ مرنے سے پہلے سعادت کی طرف چلا جاتا ہے ، خواہ وہ مرنے سے اتنی دیر پہلے جائے ، جتنی دیر میں اونٹنی کا دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کا وقفہ ہوتا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بایاں ہاتھ کھولا اور ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ تحریر بڑے مہربان ، نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے ہے ، اس میں اہل جہنم ، ان کی تعداد ، اور ان کے نام ہیں ، قیامت تک جتنے بھی لوگ ہوں گے ، ان سب کا اس میں ذکر ہے ، ان میں کوئی کی نہیں ہو گی اور ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ، یہ لوگ جو بدنصیب ہوتے ہیں ، یہ سعادت مندوں کے راستوں پر چل رہے ہوتے ہیں ، اور یہ کہا: جاتا ہے کہ یہ ( سعادت مندوں ) میں سے ایک ہوں گے ، اور ان کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتے ہیں ، لیکن پھر ان میں سے کسی ایک کو اُس کے مرنے سے پہلے ، اُس کی بدنصیبی لاحق ہو جاتی ہے ، خواہ وہ اتنی پہلے ہو ، جتنی دیر دو مرتبہ انفٹنی کا دودھ دوہنے کے درمیان کا وقت ہوتا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عمل میں خاتمے کا اعتبار ہوتا ہے ۔ “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میمون قداح ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، امام بزار کہتے ہیں : یہ صالح ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11919
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2156)»
حدیث نمبر: 11920
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ - أَوْ قَالَ : يَعْمَلُ - بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ سَبْعِينَ سَنَةً ، ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَيَعْمَلُ الْعَامِلُ سَبْعِينَ سَنَةً بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک شخص ستر سال تک اہل جہنم کا سا عمل کرتا رہتا ہے ، لیکن اس کے لئے اہل جنت کے سے عمل کا خاتمہ ہوتا ہے اور کوئی شخص ستر سال تک اہل جنت کا سا عمل کرتا رہتا ہے ، لیکن اس کے لئے اہل جہنم کے عمل کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11920
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (5158)»
حدیث نمبر: 11921
وَعَنِ الْعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، ثُمَّ تَعْرِضُ لَهُ الْجَادَّةُ مِنْ جَوَادِّ الْجَنَّةِ فَيَعْمَلُ بِهَا حَتَّى يَمُوتَ عَلَيْهَا ، وَذَلِكَ لِمَا كُتِبَ لَهُ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرِهِ ، ثُمَّ تَعْرِضُ لَهُ الْجَادَّةُ مِنْ جَوَادِّ أَهْلِ النَّارِ فَيَعْمَلُ بِهَا حَتَّى يَمُوتَ عَلَيْهَا ، وَذَلِكَ لِمَا كُتِبَ لَهُ " ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک شخص طویل عرصے تک ، اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے ، پھر اس کے لئے جنت کے راستوں میں ایک راستہ سامنے آتا ہے ، وہ اس پر عمل کرتا ہے ، یہاں تک کہ اسی حالت میں وہ مر جاتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیز اُس کے نصیب میں لکھی ہوتی ہے ، اور ایک شخص ایک طویل عرصے تک اہل جنت کا سا عمل کرتا رہتا ہے ، پھر اس کے سامنے اہل جہنم کے راستوں میں سے ایک راستہ آتا ہے اور وہ اس پر عمل کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر جاتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیز اس کے نصیب میں لکھی ہوئی ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11921
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (512) أخرجه البزار فى المسند (2159)»
حدیث نمبر: 11922
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَبْدَ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَعِيشُ مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا ، وَإِنَّ الْعَبْدَ يُولَدُ كَافِرًا وَيَعِيشُ كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا ، وَالْعَبْدُ يَعْمَلُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِالسَّعَادَةِ ثُمَّ يُدْرِكُهُ مَا كُتِبَ لَهُ فَيَمُوتُ كَافِرًا ، وَالْعَبْدُ يَعْمَلُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِالشَّقَاءِ ثُمَّ يُدْرِكُهُ مَا كُتِبَ لَهُ فَيَمُوتُ سَعِيدًا " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : حَدِيثُهُ عَنْ قَتَادَةَ مُضْطَرِبٌ ، قُلْتُ : وَهَذَا مِنْهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک بندہ مومن پیدا ہوتا ہے ، مومن ہونے کے طور پر زندہ رہتا ہے اور مومن ہونے کے طور پر مر جاتا ہے ، ایک بندہ کافر پیدا ہوتا ہے ، کافر ہونے کے طور پر زندہ رہتا ہے اور کافر ہونے کے طور پر مر جاتا ہے ، ایک بندہ ایک طویل عرصے تک سعادت مندی کے عمل کرتا رہتا ہے ، پھر اس تک وہ چیز پہنچ جاتی ہے جو اس کے نصیب میں لکھی ہوتی ہے ، اور وہ کافر ہونے کے طور پر مرتا ہے اور ایک بندہ ایک طویل عرصے تک بدنصیبی کے عمل کرتا رہتا ہے پھر اس کے نصیب میں جو چیز لکھی ہوتی ہے وہ اس تک پہنچ جاتی ہے اور وہ شخص سعادت مند ہونے کے طور پر مرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم عبدی ہے ، جسے ایک سے زیادہ لوگوں نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : قتادہ کے حوالے سے اس کی نقل کردہ حدیث مضطرب ہے ، میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت بھی اُن میں سے ایک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11922
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10542)»
حدیث نمبر: 11923
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ يُكْتَبُ مُؤْمِنًا أَحْقَابًا ثُمَّ أَحْقَابًا ، ثُمَّ يَمُوتُ وَاللَّهُ عَلَيْهِ سَاخِطٌ ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيُكْتَبُ كَافِرًا أَحْقَابًا ثُمَّ أَحْقَابًا ، ثُمَّ يَمُوتُ وَاللَّهُ عَنْهُ رَاضٍ ، وَمَنْ مَاتَ هَمَّازًا لَمَّازًا مُلَقِّبًا لِلنَّاسِ كَانَ عَلَامَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَسِمَهُ اللَّهُ عَلَى الْخُرْطُومِ مِنْ كِلَا الشَّفَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک بندہ ایک طویل عرصے تک مومن ہونے کے طور پر رہتا ہے ، پھر وہ ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے اور ایک بندہ ایک طویل عرصے تک کافر ہونے کے طور پر رہتا ہے اور پھر وہ ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوتا ہے ، جو شخص روبرو طعنہ زنی کرنے والے اور پس پشت عیب جوئی کرنے والے اور لوگوں کو ( برے ) القاب دینے والے کے عالم میں مرے ، تو اس کی مخصوص علامت قیامت کے دن یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اُس کے منہ پر ، یعنی دونوں ہونٹوں پر نشان لگا دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جسے عبدالملک بن شعیب نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11923
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11924
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " كِتَابٌ كَتَبَهُ اللَّهُ ، فِيهِ أَهْلُ الْجَنَّةِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَنْسَابِهِمْ ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، صَاحِبُ الْجَنَّةِ مَخْتُومٌ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَصَاحِبُ النَّارِ مَخْتُومٌ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِأَهْلِ السَّعَادَةِ طَرِيقُ أَهْلِ الشَّقَاءِ حَتَّى يُقَالَ مَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ بَلْ هُوَ مِنْهُمْ ، وَتُدْرِكُهُمُ السَّعَادَةُ فَتَسْتَنْقِذُهُمْ ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِأَهْلِ الشَّقَاءِ طَرِيقُ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، حَتَّى يُقَالَ مَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ بَلْ هُوَ مِنْهُمْ ، وَيُدْرِكُهُمُ الشَّقَاءُ ، مَنْ كَتَبَهُ اللَّهُ سَعِيدًا فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَمْ يُخْرِجْهُ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى يَسْتَعْمِلَهُ بِعَمَلٍ يُسْعِدُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ وَلَوْ بِفَوَاقِ نَاقَةٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " الْأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا الْأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا " ثَلَاثًا ، قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي الْقَدَرِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ وَافِدٍ الصَّفَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” ایک کتاب ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے اسماء ، اُن کے نسب ، ان سب کے بارے میں لکھا ہے ، اس میں قیامت کے دن تک کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور کوئی کمی نہیں ہو گی ، جنتی شخص کے لئے اہل جنت کے عمل کی مہر لگا دی گئی ہے ، اور جہنمی شخص کے لئے اہل جہنم کے عمل کی مہر لگا دی گئی ہے ، خواہ وہ جو بھی عمل کرے ( بعض اوقات ایسا ہوتا ہے ) کوئی شخص جو اہل سعادت میں سے ہوتا ہے ، وہ اہل شقاوت کے راستے پر چل رہا ہوتا ہے ، یہاں تک کہ یہ کہا: جاتا ہے کہ یہ اُن کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتا ہے ، حالانکہ وہ اُن ( خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہوتا ہے اور پھر اسے خوش نصیبی لاحق ہوتی ہے اور اسے بچا لیتی ہے ، اسی طرح بدنصیب لوگوں سے تعلق رکھنے والا شخص سعادت مندوں کے راستے پر چل رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ کہا: جاتا ہے کہ یہ ان کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتا ہے ، حالانکہ درحقیقت اُن ( بدنصیب لوگوں ) میں سے ہوتا ہے ، اور پھر بدنصیبی اس تک پہنچ جاتی ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں سعادت مند لکھ دیا ہے ، اللہ تعالیٰ اُسے دنیا سے نکالنے سے پہلے ، اس سے وہ عمل لے گا کہ جو اس کے مرنے سے پہلے اسے سعادت مند بنا دے گا ، خواہ وہ اس کے مرنے سے اتنی دیر پہلے ہو ، جتنا اونٹنی کے دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کا وقفہ ہوتا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اعمال میں ، خاتمے کا اعتبار ہوتا ہے ، اعمال میں ، خاتمے کا اعتبار ہوتا ہے ۔ “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو تقدیر کے بارے میں ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن وافد صفار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11924
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11925
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ أَمْرَهُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ قَاتَلَ الرَّجُلُ فَأَبْلَى ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ وَأَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَنَحَرَ نَفْسَهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَدَقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ فَنَادِ : إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَإِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : رَجُلُ سُوءٍ كَذَّابٌ ، وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بارے میں یہ فرمایا : یہ جہنمی ہے ، لوگ اُس کے معاملے کا انتظار کرنے لگے ، جب غزوہ حنین کا موقع آیا ، تو اس شخص نے بھرپور لڑائی کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ جہنمی ہے ، پھر وہ شخص زخمی ہو گیا ۔ اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اس کے ذریعے خودکشی کر لی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرمان کو صحیح ظاہر کر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اُٹھو ! اور یہ اعلان کرو کہ جنت میں صرف مومن داخل ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ بعض اوقات کسی گنہگار شخص کے ذریعے بھی اس دین کی تائید کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خالد واسطی ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے ، اور وہ غلطی کرتا ہے اور دوسروں کے برخلاف روایت نقل کرتا ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ ایک برا کذاب شخص ہے انہوں نے ایک اور سند کے ساتھ بھی
یہ روایت نقل کی ہے ، جس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن لوگوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11925
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (83/19)»
حدیث نمبر: 11926
وَعَنْ أَكْثَمَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فُلَانٌ يَجْرِي فِي الْقِتَالِ ، قَالَ : " هُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا كَانَ فُلَانٌ فِي عِبَادَتِهِ وَاجْتِهَادِهِ وَلِينِ جَانِبِهِ فِي النَّارِ ، فَأَيْنَ نَحْنُ ؟ قَالَ : " ذَلِكَ إِخْبَاتُ النِّفَاقِ وَهُوَ فِي النَّارِ " ، قَالَ : كُنَّا نَتَحَفَّظُ فِي الْقِتَالِ ، كَانَ لَا يَمُرُّ بِهِ فَارِسٌ وَلَا رَاجِلٌ إِلَّا وَثَبَ عَلَيْهِ فَكَثُرَ جِرَاحُهُ ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتُشْهِدَ فُلَانٌ ، قَالَ : " هُوَ فِي النَّارِ " ، فَلَمَّا اشْتَدَّ بِهِ أَلَمُ الْجِرَاحِ أَخَذَ سَيْفَهُ فَوَضَعَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِهِ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ تُدْرِكُهُ الشِّقْوَةُ وَالسَّعَادَةُ عِنْدَ خُرُوجِ نَفَسِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اکثم بن ابوجون رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص لڑائی میں جرأت کا اظہار کر رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ جہنمی ہے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر فلاں شخص اپنی عبادت اور بھرپور کوشش کے باوجود جہنمی ہے تو پھر ہمارا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس نے نفاق چھپایا ہوا ہے اور وہ جہنمی ہے ، راوی کہتے ہیں : جنگ کے دوران ہم اس کا خیال رکھتے رہے ، وہ جس بھی گھڑ سوار ، یا پیادہ شخص کے پاس سے گزرتا تھا ، اُس پر حملہ کر دیتا تھا ، وہ خود بھی زخمی ہو گیا ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص نے جام شہادت نوش کر لیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جہنمی ہے ، راوی کہتے ہیں : جب اس شخص کو زخموں کی تکلیف زیادہ ہو گئی ، تو اس نے اپنی تلوار لے کر سینے پر رکھی اور پھر اس پر اپنا وزن ڈالا ، یہاں تک کہ وہ تلوار پشت کی طرف سے پار ہو گئی ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک شخص بظاہر اہل جنت کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے اور ایک شخص بظاہر اہل جہنم کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور اس کی جان نکلنے کے وقت بدنصیبی یا خوش نصیبی اُسے لاحق ہو جاتی ہیں اور اس ( مخصوص حال ) کے مطابق ، اُس کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11926
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (872)»
حدیث نمبر: 11927
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَعْجَبُوا لِعَمَلِ عَامِلٍ حَتَّى تَنْظُرُوا بِمَا يُخْتَمُ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی عمل کرنے والے کے عمل پر حیران نہ ہوؤ ! جب تک تم اس بات کا جائزہ نہیں لیتے کہ اس کا خاتمہ کس چیز پر ہوا ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11927
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8025)»
حدیث نمبر: 11928
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ بِخَيْبَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] قَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ : " إِنَّ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ " فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ ، فَأَتَاهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ الَّذِي ذَكَرْتَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَقَدْ قَاتَلَ وَاللَّهِ أَشَدَّ الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتَابَ ، فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحِ فَأَهْوَى يَدَهُ إِلَى كِنَانَتِهِ فَانْتَزَعَ مِنْهَا سَهْمًا فَانْتَحَرَ بِهِ ، فَاشْتَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ صَدَقَ اللَّهُ قَوْلَكَ ، فَقَدْ نَحَرَ فُلَانٌ نَفْسَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن عبدالله بن كعب بن مالک بیان کرتے ہیں : انہیں ایک ایسے شخص نے یہ بات بتائی ہے کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خبیر میں شریک ہوئے تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ موجود افراد میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ فرمایا : یہ جہنمی ہے ، جب لڑائی کا موقع آیا ، تو اس شخص نے بھرپور لڑائی کی ، یہاں تک کہ اسے بہت سے زخم لاحق ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اس شخص کو ملاحظہ فرمایا ؟ جس کے بارے میں آپ نے یہ ذکر کیا تھا کہ وہ جہنمی ہے ، اللہ کی قسم ! اس نے تو اللہ کی راہ میں بھرپور لڑائی کی ہے اور اس کو کئی زخم لاحق ہوئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جہنمی ہی ہے ، لوگوں میں سے کچھ کو اس بارے میں شک ہوا ، اسی دوران اس شخص نے زخم کی تکلیف محسوس کی ، تو اپنا ہاتھ ترکش کی طرف بڑھایا ، اس میں سے ایک تیر نکالا اور اس کے ذریعے خودکشی کر لی ، تو مسلمانوں میں سے ایک شخص دوڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرمان کو سچ ظاہر کر دیا ہے ، فلاں شخص نے خودکشی کر لی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11928
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (135/4)»