کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: دل کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 11909
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُزِيغَ قَلْبَ عَبْدٍ أَعْمَى عَلَيْهِ الْحِيَلَ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّرَسُوسِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ وہ کسی بندے کو دل کو ٹیڑھا کر دے ، تو اللہ تعالیٰ اُس کو حیلوں کے حوالے سے نابینا کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عیسیٰ طرسوسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11909
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11910
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ إِلَّا قَالَ : " يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى طَاعَتِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، قَالَ بَعْضُهُمْ : وَصَوَابُهُ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ أَكْثَرُ النَّاسِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھتے تھے تو یہ کہتے تھے : اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو میرے دل کو ، اپنی اطاعت پر ثابت رکھنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن محمد بن زائدہ ہے ، بعض حضرات نے یہ کہا: ہے : درست یہ ہے کہ یہ صالح بن محمد بن زائدہ ہے ، امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، زیادہ تر لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11910
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11911
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو : " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَخَافُ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ ، فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُقَلِّبَهُ مِنَ الضَّلَالَةِ إِلَى الْهُدَى أَوْ مِنَ الْهُدَى إِلَى الضَّلَالَةِ فَعَلَ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : فِي بَعْضِ مَا يَرْوِيهِ نَكِرَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا وَفِيهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے : ” اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا آپ کو بھی اندیشہ ہے حالانکہ آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ ! اولاد آدم کے دل ، رحمن کی انگلیوں میں سے ، دو انگلیوں کے درمیان ہیں ، وہ جس کے بارے میں چاہتا ہے کہ اُسے گمراہی سے ہدایت کی طرف پلٹ دے یا ہدایت سے گمراہی کی طرف پلٹ دے ، تو وہ ایسا کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن فضل ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ بعض روایات میں منکر ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11911
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1553)»
حدیث نمبر: 11912
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ فِي دُعَائِهِ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنْ بَشَرٍ مِنْ بَنِي آدَمَ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ إِصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَإِنْ شَاءَ أَقَامَهُ ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا ، وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَبَعْضُهُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ” اے اللہ ! اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا ۔ “ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دل بھی تبدیل ہو جاتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ، بنی آدم میں سے ہر انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے ، دو انگلیوں کے درمیان ہے ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے ٹھیک رکھتا ہے اور اگر چاہے تو اُسے ٹیڑھا کر دیتا ہے ، تو ہم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ہیں ، کہ وہ ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرے ، اور ہم اس سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کرے ، بے شک وہ بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس کا کچھ حصہ امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11913
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا قَلْبُ ابْنِ آدَمَ بَيْنَ إِصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” انسان کا دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جسے عبدالملک بن شعیب نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11913
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11914
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ الْغَطَفَانِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ آدَمِيٍّ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ ، إِنْ شَاءَ أَنْ يُزِيغَهُ أَزَاغَهُ ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يُقِيمَهُ أَقَامَهُ ، وَكُلَّ يَوْمٍ الْمِيزَانُ بِيَدِ اللَّهِ يَرْفَعُ أَقْوَامًا وَيَضَعُ آخَرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعیم بن ہمار غطفانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر آدمی کا دل ، رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے ، اگر اللہ تعالیٰ اسے ٹیڑھا کرنا چاہے ، تو اسے ٹیڑھا کر دیتا ہے ، اگر وہ اُسے ٹھیک رکھنا چاہے ، تو اُسے ٹھیک رکھتا ہے ، اور روزانہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں میزان ہوتا ہے ، وہ کچھ اقوام کو سربلندی عطا کرتا ہے ، اور کچھ لوگوں کو پست کر دیتا ہے ، ایسا قیامت تک ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11914
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 11915
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمِيزَانُ بِيَدِ اللَّهِ يَرْفَعُ أَقْوَامًا وَيَضَعُ أَقْوَامًا ، وَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ بَيْنَ إِصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ ، إِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ ، وَإِنْ شَاءَ أَقَامَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میزان ( یعنی ترازو ) اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ، وہ کچھ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور کچھ لوگوں کو پست کر دیتا ہے ، اور انسان کا دل ، رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے ، اگر وہ چاہے تو اُسے ٹیڑھا کر دیتا ہے اور اگر چاہے ، تو اُسے ٹھیک کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11915
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (6557)»
حدیث نمبر: 11916
وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ أَسْرَعُ تَقَلُّبًا مِنَ الْقِدْرِ إِذَا اسْتَجْمَعَتْ غَلْيًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” انسان کا دل ، اُس ہنڈیا سے زیادہ تیزی سے تبدیل ہوتا ہے کہ جب وہ جوش مار رہی ہو ( یعنی ابلنے والی ہو ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11916
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (253/20) اخرجه احمد فى المسند (4/6)»