عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - لِلْمُؤْمِنِ ، إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَشَكَرَ ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَصَبَرَ ، الْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهَا كُلُّهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهَا كُلُّهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مومن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر میں حیران ہوتا ہوں ، اگر اُسے بھلائی لاحق ہو تو وہ اپنے پروردگار کی حمد بیان کرتا ہے اور شکر کرتا ہے اور اگر اسے مصیبت لاحق ہو ، تو وہ اپنے پروردگار کی حمد بیان کرتا ہے اور صبر کرتا ہے ، مومن کو ہر صورت حال میں اجر دیا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور ان سب کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور ان سب کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ ، إِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - لَا يَقْضِي لِلْمُؤْمِنِ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : فَذَكَرَهُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي بَحْرٍ ثَعْلَبَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : فَذَكَرَهُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي بَحْرٍ ثَعْلَبَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے مومن پر حیرانگی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کے بارے میں جو بھی فیصلہ کرتا ہے وہ اُس ( مومن ) کے حق میں بہتر ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوبحر ثعلبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوبحر ثعلبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔