کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ نے جو تقدیر میں طے کیا ہے ، اُسے تسلیم کرنا
حدیث نمبر: 11845
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا بَعَثَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ لَأُطِعْتَ ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ فِي ذَلِكَ تُعْصَى ، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ [ فَانْتَهَى مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ ] ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عُزَيْرًا ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ بَعْدَمَا كَانَ رَفَعَهَا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى قَالَ مَنْ قَالَ مِنْهُمْ : إِنَّهُ ابْنُ اللَّهِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ أُطِعْتَ ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ [ فِي ذَلِكَ ] تُعْصَى ، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ، فَأَبَتْ نَفْسُهُ حَتَّى سَأَلَ أَيْضًا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ أُطِعْتَ ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ تُعْصَى ، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ، فَأَبَتْ نَفْسُهُ حَتَّى سَأَلَ أَيْضًا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَظِيمٌ ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ أُطِعْتَ ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ تُعْصَى ، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ، فَأَبَتْ نَفْسُهُ حَتَّى سَأَلَ أَيْضًا ، قَالَ : أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصِرَّ صُرَّةً مِنَ الشَّمْسِ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَجِيءَ بِمِكْيَالٍ مِنْ رِيحٍ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَأْتِيَ بِمِثْقَالٍ مِنْ نُورٍ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَهَكَذَا لَا تَقْدِرُ عَلَى الَّذِي سَأَلْتَ عَنْهُ ، إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ، أَمَا إِنِّي لَا أَجْعَلُ عُقُوبَتَكَ إِلَّا أَنْ أَمْحِيَ اسْمَكَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَلَا تُذْكَرُ فِيهِمْ ، فَمَحَى اسْمَهُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَلَيْسَ يُذْكَرُ فِيهِمْ وَهُوَ نَبِيٌّ ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ عِيسَى ، وَرَأَى مَنْزِلَتَهُ مِنْ رَبِّهِ ، وَعَلَّمَهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ ، وَيُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى ، وَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا يَأْكُلُونَ وَمَا يَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِهِمْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ لَأُطِعْتَ ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ فِي ذَلِكَ تُعْصَى ، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ، وَأَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي ، وَكَلِمَتِي أَلْقَيْتُكَ إِلَى مَرْيَمَ ، وَرُوحٌ مِنِّي ، خَلَقْتُكَ مِنْ تُرَابٍ ، ثُمَّ قُلْتُ لَكَ : كُنْ فَكُنْتَ ، لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ كَمَا فَعَلْتُ بِصَاحِبِكَ بَيْنَ يَدَيْكَ ، إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ، فَجَمَعَ عِيسَى مَنْ تَبِعَهُ ، فَقَالَ : الْقَدَرُ سِتْرُ اللَّهِ فَلَا تَكَلَّفُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ فِي غَيْرِهَا ، وَمُصْعَبُ بْنُ سَوَّارٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر تورات نازل کی ، تو انہوں نے عرض کی : ” اے اللہ ! تو عظمت والا پروردگار ہے ، اگر تو یہ چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت ہی کی جائے ، اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے ، اور تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، لیکن اس کے باوجود یہ صورت حال ہے کہ تیری نافرمانی کی جاتی ہے ، تو اے پروردگار ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ “ ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف وحی کی : ” میں جو کرتا ہوں ، اس کے حوالے سے مجھ سے نہیں پوچھا: جا سکتا ، البتہ لوگوں سے ( ان کے اعمال کے بارے میں ) پوچھا: جائے گا “ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس بارے میں سوال کرنے سے باز آ گئے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عزیر علیہ السلام کو مبعوث کیا اور بنی اسرائیل سے تورات کو اٹھا لینے کے بعد اُن پر تورات نازل کی ، یہاں تک کہ ان لوگوں میں سے کچھ نے یہ کہا: یہ اللہ کے بیٹے ہیں ، تو سیدنا عزیر علیہ السلام نے یہ کہا: ” اے اللہ ! بے شک تو عظمت والا پروردگار ہے ، اگر تو یہ چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت کی جائے اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے ، اور تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے جبکہ صورت حال یہ ہے کہ تیری نافرمانی بھی کی جاتی ہے ، تو اے پروردگار ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ “ ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : ” میں جو کرتا ہوں ، اُس کے حوالے سے مجھ سے نہیں پوچھا: جائے گا اور لوگوں سے ( ان کے اعمال کے بارے میں ) پوچھا: جائے گا ۔ “ سیدنا عزیر علیہ السلام نے اس بات کو نہیں مانا ، یہاں تک کہ انہوں نے پھر یہی سوال کیا اور بولے : ” اے اللہ ! بے شک تو عظیم پروردگار ہے ، اگر تو یہ چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت کی جائے اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے ، اور تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، جبکہ تیری نافرمانی بھی کی جاتی ہے ، تو اے پروردگار ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ “ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : ” میں جو کرتا ہوں ، اُس کے حوالے سے مجھ سے سوال نہیں کیا جا سکتا اور لوگوں سے ( ان کے اعمال کے بارے میں ) سوال کیا جائے گا ۔ “ سیدنا عزیر علیہ السلام نے یہ بات نہیں مانی اور انہوں نے پھر یہی سوال کر دیا اور بولے : ” اے اللہ ! بے شک تو عظمت والا ہے ، اگر تو یہ چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت ہی کی جائے اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے ، اور تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، لیکن پھر بھی تیری نافرمانی کی جاتی ہے ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ اے میرے پروردگار ! “ ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : ” میں جو کرتا ہوں ، اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا جا سکتا ہے اور لوگوں سے ( ان کے اعمال کے بارے میں ) سوال کیا جائے گا ۔ “ سیدنا عزیر علیہ السلام نے یہ بات نہیں مانی ، انہوں نے پھر یہی سوال کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو کہ تم دھوپ کی تپش میں شدت پیدا کر سکو ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو ؟ کہ تم ہوا بنا سکو ، انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو کہ نور کا ایک مثقال لے آؤ ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسی طرح تم اس چیز پر بھی قدرت نہیں رکھتے ، جس کے بارے میں تم نے پوچھا: ہے ، میں جو کرتا ہوں ، اُس کے بارے میں مجھ سے نہیں پوچھا: جا سکتا اور لوگوں سے حساب لیا جائے گا ، البتہ یہ ہے کہ میں تمہیں یہ سزا دیتا ہوں کہ تمہارا نام انبیاء میں سے ( ان کا ذکر ہونے کے حوالے سے ) مٹا دیتا ہوں ، تو تمہارا ان کے درمیان ذکر نہیں کیا جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے اُن کا نام انبیاء میں سے مٹا دیا ، انبیاء کے درمیان ان کا ذکر نہیں کیا جاتا ، حالانکہ وہ نبی ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا اور انہوں نے پروردگار کی بارگاہ میں اپنی قدر و منزلت کو دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کا علم عطا کیا اور وہ پیدائشی نابینا اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیتے تھے اور مردے کو زندہ کر دیتے تھے اور لوگوں کو اس چیز کے بارے میں اطلاع دیدیتے تھے ، جو وہ لوگ کھاتے تھے اور جو وہ لوگ اپنے گھروں میں سنبھال کے رکھتے تھے ( یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد ) انہوں نے عرض کی : ” اے اللہ ! بے شک تو عظمت والا ہے ، پروردگار ہے ، اگر تو چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت ہی کی جائے اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے اور تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، اور اس کے باوجود تیری نافرمانی بھی کی جاتی ہے ، تو اے پروردگار ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ “ ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : ” میں جو کرتا ہوں ، اُس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا جا سکتا ، اور لوگوں سے حساب لیا جائے گا ، تم میرے بندے ، میرے رسول ہو اور میرا کلمہ ہو ، میں نے تمہیں مریم کی طرف القاء کیا تھا ، تم میری طرف سے آنے والی روح ہو ، میں نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ، پھر تم سے یہ فرمایا : تم ہو جاؤ ! تو تم ہو گئے اگر تم اس سے باز نہ آئے تو میں تمہارے ساتھ بھی وہی کروں گا ، جو تم سے پہلے تمہارے ایک ساتھی کے ساتھ کیا تھا ، میں جو کرتا ہوں ، اُس کے بارے میں مجھ سے حساب نہیں لیا جائے گا اور لوگوں سے حساب لیا جائے گا ۔ “ تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیروکار لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا : ” تقدیر ، اللہ تعالیٰ کا ” ستر“ ہے ، تو تم اس کے درپے نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے اور وہ جمہور کے نزیک ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ایک راوی مصعب بن سوار ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے اور وہ جمہور کے نزیک ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ایک راوی مصعب بن سوار ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11846
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ : يَا مُوسَى ، يَخْلُقُ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلْقًا ثُمَّ يُعَذِّبُهُمْ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنِ ازْرَعْ فَزَرَعَ ، ثُمَّ قَالَ : احْصُدْ فَحَصَدَ ، ثُمَّ قَالَ : دَرِّهِ فَدَارَّهُ ، فَاجْتَمَعَ الْقُمَاشُ ، فَقَالَ : لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْلُحُ هَذَا ؟ قَالَ : لِلنَّارِ ، قَالَ : فَكَذَلِكَ لَا أُعَذِّبُ مِنْ خَلْقِي إِلَّا مَنِ اسْتَأْهَلَ النَّارَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : بنی اسرائیل نے کہا: اے سیدنا موسیٰ علیہ السلام ! آپ کے پروردگار نے ایک مخلوق کو پیدا کیا ، پھر وہ انہیں عذاب دے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : تم کوئی چیز بو دو ! انہوں نے وہ چیز بو دی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اب اس کو کاٹو انہوں نے اسے کاٹ دیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اب اس کو چھان لو ! انہوں نے اسے چھان لیا ، پھر صرف بھوسہ باقی رہ گیا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ کس کام آ سکتا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : آگ جلانے کے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسی طرح میں بھی اپنی مخلوق میں سے صرف اس شخص کو عذاب دوں گا ، جسے میں آگ کا اہل بناؤں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11847
وَعَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ : صَحِبْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بَصَرُهُ وَبَعْدَمَا أُصِيبَ ، فَسُئِلَ عَنِ الْقَدَرِ ، فَقَالَ : وَجَدْتُ أَجْرَأَ النَّاسِ فِيهِ حَدِيثًا أَجْهَلَهُمْ بِهِ ، وَأَضْعَفَهُمْ فِيهِ حَدِيثًا أَعْلَمَهُمْ بِهِ ، وَوَجَدْتُ النَّاظِرَ فِيهِ كَالنَّاظِرِ فِي شُعَاعِ الشَّمْسِ ، كُلَّمَا ازْدَادَ فِيهِ نَظَرًا ازْدَادَ [ بَصَرُهُ فِيهَا ] تَحَيُّرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی رخصت ہونے سے پہلے اور بینائی رخصت ہو جانے کے بعد بھی ، اُن کے ساتھ رہا ہوں ، ان سے تقدیر کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے یہ چیز پائی ہے کہ اس کے بارے میں سب سے درست بات وہ شخص کرتا ہے ، جو اس سے سب سے زیادہ ناواقف ہو ، اور اس کے بارے میں سب سے زیادہ ضعیف بات وہ کرتا ہے ، جو اس کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہو ، اور میں نے یہ بات بھی پائی ہے کہ اس کے بارے میں غور و فکر کرنے والے شخص کی مثال ، سورج کی شعاع کی طرف دیکھنے والے کی مانند ہے ، وہ جتنا زیادہ دیکھتا ہے ، اُس کے بارے میں اُس کی بینائی کی حیرت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوسلمہ ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوسلمہ ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔