حدیث نمبر: 11833
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِكُلِّ شَيْءٍ حَقِيقَةٌ ، وَمَا بَلَغَ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور بندہ ایمان کی حقیقت تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ، جب تک وہ یہ بات نہ جان لے کہ جو چیز اسے ملنی ہے ، وہ اسے ملے بغیر نہیں رہے گی ، اور جو چیز اُسے نہیں ملتی ہے ، وہ اُسے نہیں ملے گی“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اسے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اسے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 11834
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُؤْمِنُ الْمَرْءُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آدمی اُس وقت تک مومن نہیں ہوتا ، جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا ، خواہ وہ اچھی ہو یا بری ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 11835
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأُمُورُ كُلُّهَا خَيْرُهَا وَشَرُّهَا مِنَ اللَّهِ " ، وَقَالَ : " الْقَدَرُ نِظَامُ التَّوْحِيدِ ، فَمَنْ وَحَّدَ اللَّهَ وَآمَنَ بِالْقَدَرِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمام امور ، خواہ وہ اچھے ہوں یا برے ہوں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” تقدیر ، توحید کا نظام ہے ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل ہو اور تقدیر پر ایمان رکھتا ہو ، اُس نے مضبوط رسّی کو مضبوطی سے تھام لیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہانی بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہانی بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11836
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ جَالِسًا ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ : قَدَّرَ اللَّهُ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْأَعْمَالَ ، فَقَالَ : فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبَ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْهُ حَتَّى هَمَّ بِالْقِيَامِ ، ثُمَّ سَكَنَ ، فَقَالَ : تَكَلَّمُوا بِهِ ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ فِيهِمْ حَدِيثًا كَفَاهُمْ بِهِ شَرًّا ، وَيْحَهُمْ لَوْ يَعْلَمُونَ ، فَقُلْتُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، مَا هُوَ ؟ قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيَّ وَقَدْ سَكَنَ بَعْضُ غَضَبِهِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَكُونُ قَوْمٌ فِي أُمَّتِي يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَبِالْقُرْآنِ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ كَمَا كَفَرَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى " ، قَالَ : قُلْتُ : جُعِلْتُ فِدَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " يُقِرُّونَ بِبَعْضِ الْقَدَرِ وَيَكْفُرُونَ بِبَعْضِهِ " ، قَالَ : قُلْتُ : [ ثُمَّ ] مَا يَقُولُونَ ؟ قَالَ : " يَقُولُونَ : الْخَيْرُ مِنَ اللَّهِ وَالشَّرُّ مِنْ إِبْلِيسَ ، فَيُقِرُّونَ عَلَى ذَلِكَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَكْفُرُونَ بِالْقُرْآنِ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَالْمَعْرِفَةِ ، فَمَا تَلْقَى أُمَّتِي مِنْهُمْ مِنَ الْعَدَاوَةِ وَالْبَغْضَاءِ وَالْجِدَالِ ، أُولَئِكَ زَنَادِقَةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي زَمَانِهِمْ ، يَكُونُ ظُلْمُ السُّلْطَانِ فَيَا لَهُ مِنْ ظُلْمٍ وَحَيْفٍ وَأَثَرَةٍ ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِمْ طَاعُونًا فَيُفْنِي عَامَّتَهُمْ ، ثُمَّ يَكُونُ الْخَسْفُ ، فَمَا أَقَلَّ مَنْ يَنْجُو مِنْهُمْ ، الْمُؤْمِنُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ فَرَحُهُ شَدِيدٌ غَمُّهُ ، ثُمَّ يَكُونُ الْمَسْخُ فَيَمْسَخُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَامَّةَ أُولَئِكَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ قَرِيبًا " ، ثُمَّ بَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَكَيْنَا لِبُكَائِهِ فَقُلْنَا : مَا يُبْكِيكَ ؟ فَقَالَ : " رَحْمَةً لَهُمُ الْأَشْقِيَاءُ لِأَنَّ فِيهِمُ الْمُتَعَبِّدَ وَمِنْهُمُ الْمُتَهَجِّدَ ، وَمَعَ أَنَّهُمْ لَيْسُوا بِأَوَّلِ مَنْ سَبَقَ إِلَى هَذَا الْقَوْلِ وَضَاقَ بِحَمْلِهِ ذَرْعًا ، إِنَّ عَامَّةَ مَنْ هَلَكَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِالتَّكْذِيبِ بِالْقَدَرِ " ، قُلْتُ : جُعِلْتُ فِدَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقُلْ لِي كَيْفَ الْإِيمَانُ بِالْقَدَرِ ؟ قَالَ : " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ، وَأَنَّهُ لَا يَمْلِكُ مَعَهُ [ أَحَدٌ ] ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ، وَتُؤْمِنُ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، وَتَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ خَالِقُهُمَا قَبْلَ خَلْقِ الْخَلْقِ ، ثُمَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فَجَعَلَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَمَنْ شَاءَ مِنْهُمْ لِلنَّارِ عَدْلًا ذَلِكَ مِنْهُ ، وَكُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا فُرِغَ لَهُ مِنْهُ وَهُوَ صَائِرٌ لِمَا فُرِغَ مِنْهُ " ، فَقُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ فِي أَحْسَنِهَا ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں : میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے ایک شخص کو سنا ، جو یہ کہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اعمال کے علاوہ ہر چیز تقدیر میں طے کر دی ہے ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے سعید بن مسیب کو اس سے زیادہ شدید غصے میں کبھی نہیں دیکھا ، یہاں تک کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اُٹھ کر ( اس شخص کی پٹائی کریں ) پھر ان کا غصہ ذرا کم ہوا ، تو انہوں نے فرمایا : یہ لوگ اس بارے میں کلام کر رہے ہیں ، اللہ کی قسم ! میں نے ان لوگوں کے بارے میں ایک حدیث سنی ہوئی ہے جو ان کے برا ہونے کے لئے کافی ہے ، ان کا ستیاناس ہو ! کاش یہ لوگ علم رکھتے ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، اے ابومحمد ! وہ حدیث کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : انہوں نے میری طرف دیکھا ، اس دوران ان کا غصہ کچھ کم ہو گیا تھا ، پھر انہوں نے بتایا : سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت میں ایک قوم ہو گی ، جو اللہ تعالیٰ کا اور قرآن کا انکار کریں گے اور انہیں اس کا شعور بھی نہیں ہو گا ، اور وہ اس طرح کریں گے ، جس طرح یہودیوں اور عیسائیوں نے کفر کیا تھا ۔ “ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کر دے ، وہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کچھ تقدیر کا اقرار کریں گے ، اور تقدیر کے کچھ حصے کا انکار کریں گے ، راوی کہتے ہیں : پھر میں نے دریافت کیا : وہ لوگ کیا کہیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ یہ کہیں گے کہ بھلائی ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برائی ، ابلیس کی طرف سے ہے ، اور پھر وہ اس چیز کی نسبت ، اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف کر دیں گے ، تو وہ ایمان لانے کے بعد اور معرفت رکھنے کے بعد ، قرآن کے منکر ہو جائیں گے ، اور پھر میری امت کو ان لوگوں کی طرف سے دشمنی ، بغض اور لڑائی کا سامنا کرنا پڑے گا ، یہ لوگ اس امت کے زندیق ہوں گے ، ان کے زمانے میں حکمرانوں کا ظلم ہو گا ، کاش ان کے لئے ظلم اور ترجیحی سلوک اور زیادتی ہوئی ، پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر طاعون کو بھیجے گا ، جو ان کے زیادہ تر لوگوں کو فنا کر دے گا ، پھر انہیں زمین میں دھنسایا جائے گا ، ان میں سے تھوڑے سے لوگ ہی اس سے نجات پائیں گے ، اس زمانے میں مؤمن کی خوشی کم ہو گی اور پریشانی زیادہ ہو گی ، پھر مسخ کرنے کا عذاب ہو گا ، اللہ تعالیٰ ان کے زیادہ تر لوگوں کو مسخ کر دے گا اور وہ خنزیر اور بندر بن جائیں گے اور اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد دجال کا خروج ہو گا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے ، آپ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے ، ہم نے عرض کی : آپ کس بات پر رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں کے لئے رحمت کی وجہ سے وہ بدنصیب لوگ ہوں گے ، کیونکہ ان میں عبادت گزار بھی ہوں گے ، ان میں تہجد گزار بھی ہوں گے اور اس کے ساتھ یہ پہلے لوگ نہیں ہیں ، جو اس موقف کو اختیار کریں گے اور اس کے بارے میں آستینیں چڑھائیں گے ، بنی اسرائیل کے زیادہ تر لوگ تقدیر کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ پر فدا ہو جاؤں ، آپ مجھے بتائیے کہ تقدیر پر ایمان کیسے ہونا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھو اور اس بات پر ایمان رکھو کہ اس کے علاوہ اور کوئی بھی ، کسی قسم کا نقصان کرنے یا نفع پہنچانے کا مالک نہیں ہے ، اور تم جنت اور جہنم پر ایمان رکھو اور تم یہ بات جان لو ! کہ مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں ( یعنی جنت اور جہنم ) کو پیدا کر دیا تھا ، پھر اس نے اپنی مخلوق ( یعنی بنی نوع انسان ) کو پیدا کیا اور اُن میں سے جس کو چاہا اسے جنت کے لئے بنا دیا اور ان میں سے جس کو چاہا اسے جہنم کے لئے بنا دیا ، اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے عدل کے طور پر ہے اور ہر ایک اُس کے مطابق عمل کرے گا ، جس حوالے سے اس کی طرف سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، اور ہر ایک شخص اس طرف جائے گا ، جس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے “ تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے سب سے بہتر سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے سب سے بہتر سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔
حدیث نمبر: 11837
وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ عُبَادَةَ لَمَّا حَضَرَ قَالَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : يَا أَبَتَاهُ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : أَجْلِسُونِي ، فَأَجْلَسُوهُ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، اتَّقِ اللَّهَ ، وَلَنْ تَتَّقِيَ اللَّهَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِاللَّهِ ، وَلَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ، وَأَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ ، وَإِنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْقَدَرُ عَلَى هَذَا ، مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِهِ دَخَلَ النَّارَ " . ¤
محمد محی الدین
ولید بن عبادہ بیان کرتے ہیں جب سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا تو ان کے صاحبزادے عبدالرحمن نے ان سے گزارش کی : ابا جان ! آپ ہمیں کوئی نصیحت کیجئے ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ مجھے بٹھاؤ ! لوگوں نے انہیں بٹھایا ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹو ! تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور تم اللہ تعالیٰ سے اس وقت تک نہیں ڈرو گے ، جب تک تم اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے اور تم اللہ تعالیٰ پر اس وقت تک ایمان نہیں رکھو گے ، جب تک تم اچھی اور بری ، ہر قسم کی تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے ، اور یہ نہیں جان لیتے کہ جو چیز تمہیں ملنی ہے ، وہ تمہیں ملے بغیر نہیں رہے گی اور جو چیز تمہیں نہیں ملنی ہے ، وہ تمہیں نہیں ملے گی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تقدیر پر ایمان ، اس کے مطابق ہوتا ہے ، جو شخص اس کے علاوہ پر مرے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ۔ “
حدیث نمبر: 11838
وَفِي رِوَايَةٍ " لَمْ يَطْعَمْ طَعْمَ الْإِيمَانِ ، [ وَ ] إِنَّكَ لَنْ تَبْلُغَ حَقِيقَةَ الْعِلْمِ بِاللَّهِ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ " ، قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مَوْقُوفًا بِاخْتِصَارٍ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ وَفِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي أَحَدِهِمَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ ایمان کا ذائقہ نہیں چکھے گا ، تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم کی حقیقت تک ، اُس وقت تک نہیں پہنچ سکتے ، جب تک تم تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر اور مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کی سند میں ایک راوی عثمان بن ابوعاتکہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر اور مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کی سند میں ایک راوی عثمان بن ابوعاتکہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 11839
وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ الْقَدَرِ ، فَقَالَ : إِنِّي قَدْ خَاصَمْتُ أَهْلَ الْقَدَرِ حَتَّى أَخْرَجُونِي ، فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُحَدِّثُونِي ؟ فَقَالُوا : لَوْ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - عَذَّبَ أَهْلَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ ، وَلَوْ أَدْخَلَهُمْ فِي رَحْمَتِهِ كَانَتْ رَحْمَتُهُ أَوْسَعَ مِنْ ذُنُوبِهِمْ ، وَلَكِنَّهُ كَمَا قَضَى يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ ، فَمَنْ عُذِّبَ فَهُوَ الْحَقُّ ، وَمَنْ رُحِمَ فَهُوَ الْحَقُّ ، وَلَوْ كَانَ لَكَ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قُبِلَ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ، ثُمَّ قَالَ عِمْرَانُ لِأَبِي الْأَسْوَدِ حِينَ حَدَّثَهُ الْحَدِيثَ : سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمِعَهُ مَعِي عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَسَأَلَهُمَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، فَحَدَّثَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابواسود دؤلی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا اور بولے : میں قدریہ فرقے کے لوگوں کے ساتھ بحث کرتا رہا ، یہاں تک کہ ان لوگوں نے مجھے نکال دیا ، تو کیا آپ لوگوں کے پاس اس حوالے سے کوئی علم ہے ؟ اگر ہے تو آپ مجھے بیان کریں ! ان حضرات نے یہ فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان والوں اور زمین کو والوں عذاب دے ، تو وہ انہیں عذاب دیتے ہوئے ظلم کرنے والا نہیں ہو گا اور اگر وہ اُن سب کو اپنی رحمت میں داخل کر لے ، تو اُس کی رحمت ان لوگوں کے گناہوں کے مقابلے میں زیادہ وسعت والی ہے ، لیکن صورت حال اسی طرح ہے ، جس طرح اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ جسے چاہے گا ، اسے عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا ، اس پر رحم کرے گا ، تو جسے وہ عذاب دے گا ، تو یہ بھی حق کے مطابق ہو گا ، اور جس پر وہ رحم کرے گا ، تو یہ بھی حق کے مطابق ہو گا ، اگر تمہارے پاس اُحد پہاڑ جتنا سونا ہو ، اور اُسے تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو ، تو یہ تمہاری طرف سے اُس وقت تک قبول نہیں ہو گا ، جب تک تم اچھی اور بری ، ہر قسم کی تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے ۔ “ پھر سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ابواسود دؤلی کو یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا : میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، اور میرے ساتھ یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بھی سنی ہے ، ابواسود نے اُن دونوں صاحبان سے یہ سوال کیا ، تو ان دونوں حضرات نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث انہیں بیان کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور اس طریق کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور اس طریق کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11840
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَعْجَلْ عَلَى شَيْءٍ تَظُنُّ أَنَّكَ إِنِ اسْتَعْجَلْتَ إِلَيْهِ أَنَّكَ مُدْرِكُهُ إِنْ كَانَ اللَّهُ لَمْ يُقَدِّرْ ذَلِكَ ، وَلَا تَسْتَأْخِرَنَّ عَنْ شَيْءٍ تَظُنُّ أَنَّكَ إِنِ اسْتَأْخَرْتَ عَنْهُ أَنَّهُ مَدْفُوعٌ عَنْكَ إِنْ كَانَ اللَّهُ قَدْ قَدَّرَهُ عَلَيْكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم کسی چیز کے حوالے سے یوں جلدی نہ کرو کہ تم یوں سمجھتے ہو کہ اگر تم نے اس کے بارے میں جلدی کر لی ، تو تم اس تک پہنچ جاؤ گے ، اگر اللہ تعالیٰ نے وہ تمہارے نصیب میں نہ لکھی ہو اور تم کسی چیز کے حوالے سے اس وجہ سے تاخیر نہ کرو کہ تم یہ سمجھو کہ اگر تم نے تاخیر کی ، تو وہ تم سے پرے ہو جائے گی ، اگر اللہ تعالیٰ نے اُسے تمہارے بارے میں ، تقدیر میں طے کر دیا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن مجاہد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن مجاہد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11841
وَعَنِ الْحَارِثِ قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَبُلُّ إِصْبَعَهُ فِي فِيهِ ثُمَّ يَقُولُ : وَاللَّهِ لَا يَجِدُ عَبْدٌ طَعْمَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ ، وَيَعْلَمَ أَنَّهُ مَيِّتٌ ثُمَّ مَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْحَارِثُ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حارث بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے منہ میں انگلی ڈال کر اسے تر کیا اور پھر ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! انسان ، ایمان کا ذائقہ اس وقت تک نہیں پا سکتا ، جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا اور یہ بات جان نہیں لیتا کہ ایک دن وہ مر جائے گا اور پھر مرنے کے بعد اُسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، حارث نامی راوی ضعیف ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، حارث نامی راوی ضعیف ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11842
وَعَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ الْأَزْدِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ سَلْمَانَ بِأَصْبَهَانَ يَقُولُ : لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو الْحَجَّاجِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوحجاج ازدی بیان کرتے ہیں : میں نے اصبہان میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” بندہ اُس وقت تک مومن نہیں ہوتا ، جب تک وہ یہ بات نہیں جان لیتا کہ جو چیز اسے ملنی ہے وہ اسے ملے بغیر نہیں رہے گی ، اور جو چیز اسے نہیں ملنی ہے ، وہ اسے نہیں ملے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابوحجاج نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابوحجاج نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11843
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ أَنْبِيَاءَهُمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَيْهِمْ ، وَلَنْ يُؤْمِنَ أَحَدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور لوگوں کے پاس ٹھہر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے ( غیر ضروری ) سوالات کرنے کی وجہ سے اور اُن سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، اور کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا ، جب تک وہ اچھی اور بری ( ہر قسم کی ) تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11844
وَعَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ الْكُوفَةَ ، فَأَتَيْتُهُ فِي نَاسٍ مِنْ عُلَمَاءِ الْكُوفَةِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ شَابٌّ ، فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : نَعَمْ ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُسْلِمَ ، فَقَالَ : " يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ " ، قُلْتُ : وَمَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُؤْمِنُ بِالْأَقْدَارِ كُلِّهَا خَيْرِهَا وَشَرِّهَا حُلْوِهَا وَمُرِّهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي بَابِ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
عامر شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے ، علمائے کوفہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ہمراہ ، میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں ان دنوں نوجوان تھا ، ہم نے گزارش کی کہ آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ، جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، میں اسلام قبول کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عدی بن حاتم ! تم اسلام قبول کر لو ، تم سلامت رہو گے ، میں نے عرض کی : اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور تم اس بات کی گواہی دو کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور تم ہر قسم کی تقدیر پر ایمان رکھو ، خواہ وہ اچھی ہو یا بری ہو ، میٹھی ہو یا کڑوی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس نوعیت کی کچھ احادیث اس باب میں آئیں گی ، جس میں یہ مذکور ہے کہ ہر چیز تقدیر کے مطابق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس نوعیت کی کچھ احادیث اس باب میں آئیں گی ، جس میں یہ مذکور ہے کہ ہر چیز تقدیر کے مطابق ہے ۔