کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جسے نبی اکرم ﷺ نے خواب میں دیکھا ہو
حدیث نمبر: 11737
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انبیاء کا خواب ، وحی ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11737
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (12302)»
حدیث نمبر: 11738
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ غَدَاةٍ وَهُوَ طَيِّبُ النَّفْسِ مُشْرِقُ الْوَجْهِ ، أَوْ مُسْفِرُ الْوَجْهِ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَرَاكَ مُسْفِرَ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقَ الْوَجْهِ ؟ فَقَالَ : " مَا يَمْنَعُنِي ، وَأَتَانِي رَبِّي اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي أَيْ رَبِّ . قَالَ ذَاكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، قَالَ : فَوَضَعَ كَفَّيْهِ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى تَجَلَّى لِي مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ . ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : " وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ " الْآيَةَ . [ ثُمَّ ] قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : فِي الْكَفَّارَاتِ ، قَالَ : وَمَا الْكَفَّارَاتُ ؟ قُلْتُ : الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ [ إِلَى الْجَمَاعَاتِ ] ، وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسْجِدِ خِلَافَ الصَّلَوَاتِ ، وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، وَمِنَ الدَّرَجَاتِ طِيبُ الْكَلَامِ ، وَبَذْلُ السَّلَامِ ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ . وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ ، وَإِذَا أَرَدْتَ فِي النَّاسِ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن عائش ، ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، تو آپ کا مزاج خوشگوار تھا اور آپ کا چہرہ مبارک جگمگا رہا تھا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ کا چہرہ جگمگا رہا ہے ( یہاں الفاظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن مفہوم یہی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا کیوں نہ ہو ؟ جبکہ گزشتہ رات میرا پروردگار ، میرے پاس خوبصورت ترین شکل میں آیا اور اس نے فرمایا : اے محمد ! میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار میں حاضر ہوں اور سعادت تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ، پروردگار نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : اے اللہ ! میں نہیں جانتا ، پروردگار نے دو یا تین مرتبہ یہ بات کہی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر اُس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھے ، تو میں نے اُن کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی ، یہاں تک کہ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے ، وہ میرے سامنے روشن ہو گیا ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی دکھائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ پھر پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفاروں کے بارے میں ، پروردگار نے دریافت کیا : کون سے کفارے ؟ میں نے عرض کی : با جماعت نماز کی طرف پیدل چل کر جانا ، نماز کے علاوہ مسجد میں بیٹھے رہنا ، جب طبیعت کو نا گوار گزرے ، اُس وقت اچھی طرح وضو کرنا ، جو شخص ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندہ رہے گا اور بھلائی کے ساتھ مرے گا ، اور اپنے گناہوں کے حوالے سے یوں ہو جائے گا ، جیسے اُس دن تھا ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا اور ( ملاء اعلیٰ اس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ) کہ درجات میں ، پاکیزہ کلام کرنا ، سلام پھیلانا ، کھانا کھلانا اور رات کے وقت نماز پڑھنا شامل ہے ، جب لوگ سو رہے ہیں ، پھر پروردگار نے فرمایا : ” اے محمد ! جب تم نماز پڑھو ، تو یہ پڑھو : ” اے اللہ ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزیں مانگتا ہوں اور منکرات کو ترک کرنے کا اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری توبہ قبول فرما لے ، اور جب تو لوگوں میں کوئی فتنہ پیدا کرنے کا ارادہ کرے ، تو مجھے ایسی حالت میں وفات دینا کہ میں فتنے سے محفوظ ہوؤں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11738
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (66/4)»
حدیث نمبر: 11739
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : أَنْتَ أَعْلَمُ أَيْ رَبِّ . فَوَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ ، فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ . ثُمَّ تَلَا : " وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ " . ثُمَّ قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى يَا مُحَمَّدُ ؟ فَقُلْتُ : فِي الْكَفَّارَاتِ ، قَالَ : وَمَا هُنَّ ؟ قُلْتُ : الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ ، وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ خِلَافَ الصَّلَوَاتِ ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ أَمَاكِنَهُ فِي الْمَكَارِهِ " . قَالَ : " وَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : مَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَعِشْ بِخَيْرٍ وَيَمُتْ بِخَيْرٍ وَيَكُونُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، وَمِنَ الدَّرَجَاتِ إِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَبَذْلُ السَّلَامِ ، وَأَنْ تَقُومَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ . ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الطَّيِّبَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ، وَتَرْحَمَنِي ، وَتَتُوبَ عَلَيَّ ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَلَّمُوهُنَّ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُنَّ الْحَقُّ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عائش رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے اپنے پروردگار کو خوبصورت ترین شکل میں دیکھا ، اس نے فرمایا : اے محمد ! ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو زیادہ بہتر جانتا ہے ، تو اُس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا ، تو میں نے اُس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی ، تو مجھے ان چیزوں کا علم ہو گیا ، جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی دکھائی ، تاکہ وہ یقین رکھنے والوں میں ہو جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ پھر پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! املاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفاروں کے بارے میں ، اس نے دریافت کیا : وہ کیا چیزیں ہیں ؟ میں نے عرض کی : باجماعت نماز کی طرف پیدل چل کر جانا ، نماز کے علاوہ مساجد میں بیٹھے رہنا ، اور جس وقت طبیعت کو ناگوار ہو ، اُس وقت اچھی طرح وضو کرنا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پروردگار نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسا کرے گا ، وہ بھلائی کے ساتھ زندہ رہے گا اور بھلائی کے ساتھ مرے گا ، اور اپنے گناہوں کے حوالے سے یوں ہو جائے گا ، جیسے اُس دن تھا ، جب اُس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اور درجات کے بارے میں ( ملاء اعلیٰ گفتگو کر رہے ہیں ) کہ وہ کھانا کھلانا ، سلام پھیلانا ہے اور رات کے وقت اس وقت نماز ادا کرنا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں ، پھر پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! تم یہ پڑھو : ” اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ میں پاکیزہ کام کروں ، منکر چیزیں ترک کر دوں ، مسکینوں سے محبت رکھوں اور تو میری مغفرت کر دے ، اور تو مجھ پر رحم کر اور تو میری توبہ قبول فرما ، اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے ایسی حالت میں وفات دینا کہ میں آزمائش سے محفوظ ہوؤں “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ان کلمات کو سیکھ لو ! اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ کلمات حق ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11739
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11740
وَفِي رِوَايَةٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَدَا مُسْتَبْشِرًا عَلَى أَصْحَابِهِ يَعْرِفُونَ السُّرُورَ فِي وَجْهِهِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : " وَإِذَا صَلَّيْتَ يَا مُحَمَّدُ فَقُلْ " ، وَقَالَ فِيهِ : " وَالدَّرَجَاتُ : الصَّوْمُ وَطِيبُ الْكَلَامِ "
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے ، تو آپ کے چہرہ مبارک سے خوشی کا اظہار ہو رہا تھا اور لوگوں کو آپ کے چہرے سے خوشی کا پتہ چل گیا ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ایک روایت میں ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ( پروردگار نے فرمایا : ) ” اے محمد ! جب تم نماز ادا کر لو ، تو یہ پڑھو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اور درجات ، روزہ رکھنا اور پاکیزہ کلام کرنا ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11740
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن صحیح
حدیث نمبر: 11741
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَائِشٍ يَقُولُ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ غَدَاةٍ . قَالَ : فَذَكَرَ نَحْوَ الَّذِي قَبْلَ هَذِهِ الرِّوَايَةِ . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْحَدِيثِ الَّذِي فِيهِ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثِقَاتٌ ، وَكَذَلِكَ الرِّوَايَةُ الْأُولَى ، وَفِي الرِّوَايَةِ الْوُسْطَى مُعَاوِيَةُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَرْمِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . وَقَدْ سُئِلَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ ، عَنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَذَا الْحَدِيثِ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ صَوَابٌ ، هَذَا مَعْنَاهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : خالد بن لجلاج بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبدالرحمن بن عائش رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” ایک دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے ، اس سے پہلے والی روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور اس حدیث کے رجال جس میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، وہ رجال ثقہ ہیں ، اسی طرح پہلی روایت کے رجال بھی ہیں اور درمیانی روایت میں ایک راوی معاویہ بن عمران حرمی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔ امام أحمد بن حنبل سے ، سیدنا عبدالرحمن بن عائش رضی اللہ عنہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نقل کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے یہ بات ذکر کی کہ یہ درست ہے ، اس کا مفہوم یہی بنتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11741
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 11742
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَقَالَ : " إِنَّ رَبِّي أَتَانِي اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ " . قَالَ : " قُلْتُ : لَا " . قَالَ : ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا قَالَ : " فَخُيِّلَ لِي مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " . قَالَ : " قُلْتُ : نَعَمْ ، يَخْتَصِمُونَ فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ ، فَأَمَّا الدَّرَجَاتُ : فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَبَذْلُ السَّلَامِ ، وَقِيَامُ اللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ، وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ : فَمَشْيٌ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ ، وَجُلُوسٌ فِي الْمَسَاجِدِ خَلْفَ الصَّلَوَاتِ ، ثُمَّ قَالَ : يَامُحَمَّدُ ، قُلْ تُسْمَعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ " . قَالَ : " قُلْتُ : فَعَلِّمْنِي . قَالَ : قُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي ، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي إِلَيْكَ وَأَنَا غَيْرُ مَفْتُونٍ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ ، وَحُبًّا يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحْبِيِّ ، وَأَبُو يَحْيَى لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے بعد ، ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گزشتہ رات میرا پروردگار ، میرے پاس خوبصورت ترین شکل میں آیا اور اس نے فرمایا : اے محمد ! کیا تم جانتے ہو ؟ ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! راوی بیان کرتے ہیں : پھر آپ نے کچھ چیزیں ذکر کیں پھر فرمایا : میرے سامنے آسمان اور زمین کے درمیان موجود چیزیں ظاہر ہو گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو میں نے عرض کی جی ہاں ! وہ کفاروں اور درجات کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ، جہاں تک درجات کا تعلق ہے ، تو وہ کھانا کھلانا ، سلام پھیلانا اور رات کو اس وقت نماز ادا کرنا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں اور جہاں تک کفاروں کا تعلق ہے ، تو وہ باجماعت نماز کے لئے پیدل چل کر جانا ، طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا اور نماز ادا کرنے لینے کے بعد مسجد میں بیٹھنا ہے ، پھر پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! تم بولو سنا جائے گا ، تم مانگو ، تمہیں دیا جائے گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : میں نے عرض کی : تو مجھے تعلیم دے ! تو پروردگار نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ” اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ میں بھلائی کے کام کروں ، منکرات کو ترک کر دوں ، مسکینوں سے محبت رکھوں ( اور یہ سوال کرتا ہوں ) کہ تو میری مغفرت کر دے اور تو مجھ پر رحم کر اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے وفات دے دینا ، ایسی حالت میں کہ میں فتنے سے محفوظ ہوؤں ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت اور اس شخص کی محبت کا سوال کرتا ہوں ، جو تجھ سے محبت رکھتا ہو ، اور اس محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ، ابویحیی کے حوالے سے ، ابواسماء رحبی سے نقل کی ہے اور ابویحیی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11742
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2129)»
حدیث نمبر: 11743
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَلَبَّثَ عَنْ أَصْحَابِهِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى قَالُوا : طَلَعَتِ الشَّمْسُ - أَوْ تَطْلُعُ - ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَالَ : " اثْبُتُوا عَلَى مَصَافِّكُمْ " . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُمْ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمْ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنِّي صَلَّيْتُ فِي مُصَلَّايَ فَضُرِبَ عَلَى أُذُنِي ، فَجَاءَنِي رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ . قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي يَا رَبِّ . فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ ، فَعَلِمْتُ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ . قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ . قَالَ : وَمَا الْكَفَّارَاتُ وَالدَّرَجَاتُ ؟ قُلْتُ : الْكَفَّارَاتُ : إِسْبَاعُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْكَرِيهَاتِ ، وَمَشْيٌ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ ، وَجُلُوسٌ فِي الْمَسَاجِدِ خَلْفَ الصَّلَوَاتِ ، وَأَمَّا الدَّرَجَاتُ : فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَطِيبُ الْكَلَامِ ، وَالسُّجُودُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ . فَقَالَ لِي رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : سَلْنِي يَا مُحَمَّدُ . قُلْتُ : أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي حَتَّى أَعْلَمَ أَنَّهُ لَا يُصِيبُنِي إِلَّا مَا كُتِبَ لِي ، وَرِضًا بِمَا قَضَيْتَ لِي " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ ، وَلَمْ يُلْتَفَتْ إِلَيْهِ فِي ذَلِكَ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز کے لئے ، اپنے اصحاب کے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ، یہاں تک کہ لوگ یہ کہنے لگے کہ شاید سورج طلوع ہونے والا ہے ، پھر آپ تشریف لائے ، آپ نے ان لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہو ، پھر آپ اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ کس چیز نے مجھے تمہارے پاس آنے سے روکے رکھا ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنی جائے نماز پر ، نماز ادا کی ، پھر میرے کانوں پر بندش ڈال دی گئی ( یعنی میری آنکھ لگ گئی یا میری توجہ دنیا سے ہٹ گئی ) میرا پروردگار میرے پاس بہترین صورت میں آیا ، اُس نے فرمایا : اے محمد ! میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں حاضر ہوں اور سعادت تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ، اس نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں نہیں جانتا ، پھر اُس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا ، یہاں تک کہ میں نے اُس کی ٹھنڈک اپنے سینے کے درمیان محسوس کی اور میں نے وہ چیز جان لی ، جس کے بارے میں اس نے مجھ سے پوچھا: تھا ، پھر اس نے فرمایا : اے محمد ! میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں ، اے میرے پروردگار ! اور سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ، اس نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کسی چیز کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفاروں کے بارے میں ، اور درجات کے بارے میں ، اس نے دریافت کیا : کفارات کیا ہیں ؟ اور درجات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفارات یہ ہیں : طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا ، باجماعت نماز کے لئے پیدل چل کر جانا اور نمازوں کے بعد مساجد میں بیٹھے رہنا ، اور جہاں تک درجات کا تعلق ہے ، تو وہ کھانا کھلانا ، پاکیزہ گفتگو کرنا اور رات کے وقت سجدے کرنا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں ، میرے پروردگار نے مجھ سے فرمایا : اے محمد ! تم مجھ سے مانگو ! میں نے عرض کی : ” میں تجھ سے بھلائی کے کام سر انجام دینے ، منکرات کو ترک کرنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں ، اور تجھ سے یہ چیز مانگتا ہوں ، کہ تو میری مغفرت کر دے اور تو مجھ پر رحم کر اور جب تو کسی قوم کے لئے کسی آزمائش کا ارادہ کرے ، تو مجھے ایسی حالت میں موت دینا کہ میں آزمائش سے محفوظ رہوں ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت اور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں ، جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں کہ جو میرے دل میں یوں پیوست ہو جائے کہ میں یہ بات جان لوں کہ مجھے صرف وہی چیز نصیب ہو گی ، جو میرے نصیب میں لکھی ہوئی ہے اور اس چیز کے حوالے سے رضا مندی کا سوال کرتا ہوں ، جو تو نے میرے بارے میں فیصلہ دیا ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ہے اور وہ ضعیف ہے ، بعض حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن اس بات کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث اچھی طرح وضو کرنے اور نماز ادا کرنے اور دیگر ابواب میں گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11743
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11744
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَتَانِي رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي . فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ، فَعَلِمْتُ فِي مَقَامِي ذَلِكَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : فِي الدَّرَجَاتِ ، وَالْكَفَّارَاتِ ، فَأَمَّا الدَّرَجَاتُ : فَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبَرَاتِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ . قَالَ : صَدَقْتَ ، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ . وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ : فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ ، وَطِيبُ الْكَلَامِ ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ . ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَلَ الْحَسَنَاتِ ، وَتَرْكَ السَّيِّئَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَمَغْفِرَةً ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَنَجِّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرا پروردگار ، میرے پاس بہترین صورت میں آیا اس نے فرمایا : اے محمد ! میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں اور سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ، اس نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، تو اس نے اپنا ہاتھ میرے سینے کے درمیان رکھا ، تو میں نے اپنی جگہ پر موجود رہتے ہوئے ، اُس چیز کے بارے میں جان لیا ، جس کے بارے میں اس نے مجھ سے دریافت کیا تھا ، خواہ اس کا تعلق دنیا کے امور سے ہو ، یا آخرت سے ہو ، اس نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ تو میں نے عرض کی : درجات کے بارے میں اور کفارات کے بارے میں ، جہاں تک درجات کا تعلق ہے ، تو اس میں سردی کے موسم میں اچھی طرح وضو کرنا ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا شامل ہے ، پروردگار نے فرمایا : تم نے سچ کہا: ہے ، جو شخص ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندہ رہے گا اور بھلائی کے ساتھ مرے گا اور اپنے گناہوں کے حوالے سے یوں ہو جائے گا ، جیسے اُس دن تھا ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) جہاں تک کفارات کا تعلق ہے ، تو وہ کھانا کھلانا ، سلام پھیلانا ، پاکیزہ گفتگو کرنا اور رات کے وقت ، اُس وقت نماز ادا کرنا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ” اے اللہ ! میں تجھ سے یہ دعا مانگتا ہوں کہ میں نیکیاں کروں اور برائیاں ترک کر دوں اور مسکینوں سے محبت رکھوں اور مغفرت مانگتا ہوں ، اور یہ مانگتا ہوں کہ تو میری توبہ قبول فرما لے اور جب تو کسی قوم کو فتنے میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے ، تو مجھے ایسی حالت میں نجات دینا کہ میں فتنے سے محفوظ رہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11744
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8117)»
حدیث نمبر: 11745
وَعَنْ أُمِّ الطُّفَيْلِ امْرَأَةِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " رَأَيْتُ رَبِّي فِي الْمَنَامِ فِي صُورَةِ شَابٍّ مُوَفِّرٍ فِي خُفٍّ ، عَلَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، عَلَى وَجْهِهِ فِرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ " قَالَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ : إِنَّهُ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لِأَنَّ عُمَارَةَ بْنَ عَامِرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ الطُّفَيْلِ ، ذَكَرَهُ فِي تَرْجَمَةِ عُمَارَةَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ، سیدہ ام طفیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں نے اپنے پروردگار کو ایک نوجوان کی شکل میں خواب میں دیکھا ، جس کے بال بڑے تھے اس نے موزے پہنے ہوئے تھے ، اور اس پر سونے کے جوتے پہنے ہوئے تھے اور اس کے چہرے پر سونے کا فراش تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابن حبان کہتے ہیں : یہ منکر حدیث ہے ، کیونکہ عمارہ بن عامر بن حزم انصاری نے سیدہ ام طفیل رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ، انہوں نے کتاب ” الثقات “ میں عمارہ نامی راوی کے حالات میں یہ بات ذکر کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11745
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منکر
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (143/25)»
حدیث نمبر: 11746
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ عَجَبًا ، رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدِ احْتَوَشَتْهُ مَلَائِكَةٌ ، فَجَاءَهُ وُضُوءُهُ فَاسْتَنْقَذَهُ مِنْ ذَلِكَ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدْ سُلِّطَ عَلَيْهِ عَذَابُ الْقَبْرِ ، فَجَاءَتْهُ صِلَاتُهُ فَاسْتَنْقَذَتْهُ مِنْ ذَلِكَ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدِ احْتَوَشَتْهُ الشَّيَاطِينُ ، فَجَاءَهُ ذِكْرُ اللَّهِ فَخَلَّصَهُ مِنْهُمْ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي يَلْهَثُ مِنَ الْعَطَشِ ، فَجَاءَهُ صِيَامُ رَمَضَانَ فَسَقَاهُ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ظُلْمَةٌ وَمِنْ خَلْفِهِ ظُلْمَةٌ ، وَعَنْ يَمِينِهِ ظُلْمَةٌ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ظُلْمَةٌ ، وَمِنْ فَوْقِهِ ظُلْمَةٌ ، وَمِنْ تَحْتِهِ ظُلْمَةٌ ، فَجَاءَهُ حَجُّهُ ، وَعُمْرَتُهُ ، فَاسْتَخْرَجَاهُ مِنَ الظُّلْمَةِ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ لِيَقْبِضَ رُوحَهُ ، فَجَاءَتْهُ صِلَةُ الرَّحِمِ ، فَقَالَتْ : إِنَّ هَذَا كَانَ وَاصِلًا لِرَحِمِهِ فَكَلَّمَهُمْ ، وَكَلَّمُوهُ وَصَارَ مَعَهُمْ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي يَتَّقِي وَهَجَ النَّارِ عَنْ وَجْهِهِ ، فَجَاءَتْهُ صَدَقَتُهُ ، فَصَارَتْ ظِلًّا عَلَى رَأْسِهِ وَسِتْرًا عَنْ وَجْهِهِ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي جَاءَتْهُ زَبَانِيَةُ الْعَذَابِ ، فَجَاءَهُ أَمْرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُهُ عَنِ الْمُنْكَرِ ، فَاسْتَنْقَذَهُ مِنْ ذَلِكَ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي هَوَى فِي النَّارِ ، فَجَاءَتْهُ دُمُوعُهُ الَّتِي بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ فَأَخْرَجَتْهُ مِنَ النَّارِ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدْ هَوَتْ صَحِيفَتُهُ إِلَى شِمَالِهِ ، فَجَاءَهُ خَوْفُهُ مِنَ اللَّهِ فَأَخَذَ صَحِيفَتَهُ فِي يَمِينِهِ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدْ خَفَّ مِيزَانُهُ ، فَجَاءَهُ إِقْرَاضُهُ فَثَقُلَ مِيزَانُهُ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي يُرْعِدُ كَمَا تُرْعِدُ الزَّعْفَةُ ، فَجَاءَهُ حُسْنُ ظَنِّهِ بِاللَّهِ فَسَكَّنَ رِعْدَتَهُ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي يَزْحَفُ عَلَى الصِّرَاطِ مَرَّةً وَيَجْثُو مَرَّةً وَيَتَعَلَّقُ مَرَّةً ، فَجَاءَتْهُ صَلَاتُهُ عَلَيَّ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَأَقَامَتْهُ عَلَى الصِّرَاطِ حَتَّى جَاوَزَ . وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي انْتَهَى إِلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَغُلِّقَتِ الْأَبْوَابُ دُونَهُ ، فَجَاءَتْهُ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَتْهُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، وَفِي الْآخَرِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے گزشتہ رات حیران کن خواب دیکھا ہے ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جسے فرشتوں نے گھیر لیا تھا ، پھر اس کا وضو اس کے پاس آیا اور اسے اس چیز سے بچا لیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جس پر قبر کا عذاب مسلط کیا جا رہا تھا ، پھر اس کی نماز اس کے پاس آئی اور اس نے اس شخص کو اس عذاب سے بچا لیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جسے شیاطین نے گھیر لیا تھا ، تو اللہ کا ذکر اس شخص کے پاس آیا ، تو اُس ذکر نے اس شخص کو ان شیاطین سے نجات دلوائی میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جو پیاس کی شدت کی وجہ سے زبان باہر نکالے ہوئے تھا ، تو رمضان کا روزہ اس کے پاس آیا اور اس نے اسے پانی پلایا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جس کے آگے تاریکی تھی اور اس کے پیچھے تاریکی تھی اس کے دائیں طرف تاریکی تھی اس کے بائیں طرف تاریکی تھی اس کے اوپر تاریکی تھی اس کے نیچے تاریکی تھی ، تو اس کا حج اور اس کا عمرہ اس کے پاس آئے اور اُن دونوں نے اس شخص کو تاریکی سے نکال دیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ ملک الموت اس کی روح قبض کرنے کے لئے ، اس کے پاس آیا ، تو صلہ رحمی اس شخص کے پاس آئی اور بولی: یہ شخص صلہ رحمی کرنے والا تھا ، تو اس نے ان کے ساتھ بات چیت کی ، اور انہوں نے اس کے ساتھ بات چیت کی ، تو وہ اُن کے ساتھ ہو گیا ۔ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جو اپنے چہرے کو آگ کی تپش سے بچانا چاہ رہا تھا ، تو اس کا صدقہ اس کے پاس آیا اور اس کے سر پر سائے کے طور پر اور چہرے کے آگے رکاوٹ کے طور پر ہو گیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ عذاب کے فرشتے اس کے پاس آئے ، تو اس کا نیکی کا حکم دینا اور اس کا برائی سے منع کرنا ، اس شخص کے پاس آئے اور اسے اس چیز سے نجات دلوا دی ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ جہنم میں گرنے لگا تھا ، تو اس کے وہ آنسو اس کے پاس آئے کہ جب وہ اللہ کے خوف کی وجہ سے رویا تھا اور آنسوؤں نے اسے جہنم سے نکال دیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جس کا صحیفہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جا رہا تھا ، تو اللہ سے اس کا خوف اس کے پاس آیا ، اور اس نے وہ صحیفہ لے کر اس کے دائیں ہاتھ میں دے دیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جس کا ( نیکیوں کا ) پلڑا ہلکا تھا ، تو اس نے جو قرض دیا تھا ، وہ اس کے پاس آیا تو اس کا ( نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جو یوں کانپ رہا تھا ، جس طرح کھجور کی ٹہنی کانپتی ہے ، تو اس کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن اس کے پاس آیا ، تو اس کی کپکپاہٹ ختم ہو گئی ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ جو پل صراط پر کبھی گھسٹ کر اور کبھی بیٹھ کر گزر رہا تھا ، کبھی وہ لٹک جاتا تھا ، تو اُس نے جو مجھ پر درود بھیجا تھا ، وہ ( درود ) اس کے پاس آیا اور اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے پل صراط پر کھڑا کر کے اُسے پار کروا دیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جو جنت کے دروازوں تک پہنچ چکا تھا ، لیکن اس کے لئے دروازے بند تھے ، تو اس بات کی گواہی دینا ، اُس کے پاس آیا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اس نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور اُسے جنت میں داخل کروا دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی سلیمان بن أحمد واسطی ہے اور دوسری سند میں ایک راوی خالد بن عبدالرحمن مخزومی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11746
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11747
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنِّي أُتِيتُ بِكُتْلَةِ تَمْرٍ ، فَعَجَمْتُهَا فِي فَمِي ، فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً آذَتْنِي فَلَفَظْتُهَا ، ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى ، فَعَجَمْتُهَا فِي فَمِي ، فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً فَلَفَظْتُهَا ، ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً فَلَفَظْتُهَا " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : دَعْنِي فَلْأَعْبُرْهَا قَالَ : " عَبِّرْهَا " . قَالَ : هُوَ جَيْشُكَ الَّذِي بَعَثْتَ ، فَيَسْلَمُونَ وَيَغْنَمُونَ ، فَيَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ . قَالَ : " كَذَلِكَ قَالَ الْمَلَكُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میرے پاس کھجوروں کا گچھا آیا ، میں نے ایک کجھور کو اپنے منہ میں ڈالا ، تو میں نے اس میں ایسی گٹھلی پائی ، جس نے مجھے تکلیف پہنچائی ، تو میں نے اسے پھینک دیا ، پھر میں نے ایک اور کھجور لی اور اسے اپنے منہ میں ڈالا ، تو میں نے اس میں بھی گٹھلی پائی ، میں نے اسے بھی پھینک دیا ، پھر میں نے ایک اور کھجور لی ، میں نے اس میں بھی گٹھلی پائی ، تو میں نے اسے بھی پھینک دیا “ ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیان کرو ! انہوں نے عرض کی : اس سے مراد آپ کا بھیجا ہوا وہ شکر ہے جسے آپ نے بھیجا ہو اور وہ سلامت رہے ہوں ، انہوں نے غنیمت حاصل کی ہو ، اور وہ لوگ ایک ایسے شخص سے ملے ہوں کہ جس نے آپ کی دی ہوئی پناہ کے حوالے سے انہیں واسطہ دیا ہو ، تو ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ہو ، پھر وہ لوگ ایک شخص سے ملے ہوں اور اس نے انہیں آپ کی دی ہوئی پناہ کا واسطہ دیا ہو ، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا ہو ، پھر وہ لوگ ایک ایسے شخص سے ملے ہوں ، جس نے انہیں آپ کی دی ہوئی پناہ کا واسطہ دیا ہو ، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فرشتے نے ( یا بادشاہ نے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے ) اسی طرح کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11747
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (399/3)»
حدیث نمبر: 11748
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنْ رَجُلًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ شُرْبًا ضَعِيفًا - أَوْ قَالَ : وَفِيهِ ضَعْفٌ - ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ فَانْتَشَطَتْ مِنْهُ فَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا پھر ابوبکر آیا اور اس نے ڈول کے منہ پر موجود لکڑی کو پکڑا اور کمزوری کے ساتھ اس کا مشروب پیا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس میں کمزوری تھی ، پھر عمر آیا اس نے اس کی لکڑی کو پکڑا اور پیا یہاں تک کہ سیر ہو گیا ، پھر عثمان آیا ، اس نے اس کی لکڑی کو پکڑا ، اور پیا ، یہاں تک کہ وہ اس سے خوش ( یا سیر ) ہو گیا ، پھر اس ڈول میں سے کچھ پانی اس پر چھلک گیا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11748
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6965) اخرجه احمد فى المسند (21/5)»
حدیث نمبر: 11749
وَعَنْ جَعْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى لِرَجُلٍ رُؤْيَا قَالَ : فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَقُصُّهَا عَلَيْهِ ، قَالَ : وَكَانَ الرَّجُلُ عَظِيمَ الْبَطْنِ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَقُولُ بِأُصْبُعِهِ فِي بَطْنِهِ : " لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا لَكَانَ خَيْرًا لَكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خواب میں دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیغام بھیج کر بلوایا ، وہ آپ کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خواب سنانا شروع کیا ، راوی کہتے ہیں : وہ ایک ایسا شخص تھا ، جس کا پیٹ بڑا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی اس کے پیٹ پر لگاتے ہوئے کہا: کہ اگر یہ ( یعنی پیٹ کی چربی ، یا موٹاپا ) اس کے علاوہ کہیں اور ہوتا ، تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11749
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (339/4)»
حدیث نمبر: 11750
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ ضَبَّةَ سَيْفِي انْكَسَرَتْ ، وَكَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ كَسْرَ ضَبَّةِ سَيْفِي قَتْلُ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِي ، وَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا أَنْ أَقْتُلَ كَبْشَ الْقَوْمِ " . فَقَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلْحَةَ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبَ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ ، وَقُتِلَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے اور جیسے میں ایک دنبے کو پیچھے بٹھائے ہوئے ہوں ، تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ میری تلوار کی دھار ٹوٹنے سے مراد ، میری قوم کا ایک شخص قتل ہو جائے گا ، اور میرے دنبے کو پیچھے بٹھانے سے مراد یہ ہے کہ میں دشمن کے ایک شخص کو قتل کروں گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے علم بردار طلحہ بن ابوطلحہ کو قتل کیا اور سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن خراب حافظے کا مالک ہے ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11750
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2131) اخرجه احمد فى المسند (267/3)»
حدیث نمبر: 11751
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنَّ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا ، فَأَوَّلْتُهُ قَتْلًا يَكُونُ فِيكُمْ ، وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا ، فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ ، وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ ، فَأَوَّلْتُهُ الْمَدِينَةَ ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ " . فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طَرِيقُهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ ، وَفِي إِسْنَادِ هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ” ذالفقار “ نفل کے طور پر دی اور یہ وہی تلوار ہے کہ جس کے بارے میں آپ نے غزوہ احد کے موقع پر خواب میں دیکھا اور ارشاد فرمایا : کہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ جیسے میری تلوار ” ذوالفقار “ کی دھار خراب ہو گئی ہے ، تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ تم میں سے لوگ مارے جائیں گے اور میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے دنبے کو پیچھے بٹھایا ہوا ہے ، تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ یہ دشمن کا دنبہ ہے اور میں نے خواب دیکھا کہ جیسے میں ایک محفوظ زرہ میں ہوں ، تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ اس سے مراد مدینہ منورہ ہے اور میں نے گائے کو دیکھا کہ اُسے ذبح کیا گیا ہے ، تو اللہ کی قسم ! گائے کی تعبیر اچھی ہی ہو گی ، اللہ کی قسم ! گائے کی تعبیر اچھی ہی ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : تو اُسی طرح ہوا ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے اس سے پہلے اس روایت کا ایک طریق غزوہ احد سے متعلق باب میں گزر چکا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11751
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2132)»
حدیث نمبر: 11752
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، ثُمَّ رَأَيْتُ فِي يَدِي سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَكَرِهْتُهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ صَاحِبَ الْيَمَنِ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ رُؤْيَةُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں خواب میں ، شب قدر کو دیکھا ، پھر وہ مجھے بھلا دی گئی ، پھر میں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے بنے ہوئے دو کنگن دیکھے ، مجھے وہ برے لگے ، میں نے ان کو پھونک ماری تو وہ اُڑ گئے میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ اس سے مراد ، نبوت کے دو جھوٹے دعویدار ہیں ایک وہ جو یمن سے تعلق رکھتا ہے ، اور ایک وہ جو یمامہ سے تعلق رکھتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے ، شب قدر کو دیکھنے والا حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام أحمد نے نقل کی ہے ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11752
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2134) اخرجه احمد فى المسند (86/3)»
حدیث نمبر: 11753
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّ فِي سَاعِدَيْهِ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَنَفَخَهُمَا فَطَارَا ، فَقَالَ : " هُمَا كَذَّابَا أُمَّتِي صَاحِبُ الْيَمَنِ ، وَصَاحِبُ الْيَمَامَةِ ، وَلَيْسَا بِضَارَّيْ أُمَّتِي شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ جیسے آپ کی کلائیوں میں سونے کے کنگن ہیں ، آپ نے ان کو پھونک ماری ، تو وہ دونوں اُڑ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ میری امت کے دو کذاب ( یعنی نبوت کے جھوٹے دعوے دار ) ہیں ، ایک یمن سے تعلق رکھتا ہے اور ایک یمامہ سے تعلق رکھتا ہے ، اور یہ میری اُمت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11753
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5657) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13601)»