کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس چیز کا بیان ، جو خواب کے سچے ہونے پر دلالت کرے
حدیث نمبر: 11736
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ ، وَرُبَّمَا قَالَ : " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا ؟ " . قَالَ : فَإِذَا رَأَى الرَّجُلُ رُؤْيَا سَأَلَ عَنْهُ ، فَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ [ إِلَيْهِ ] . قَالَ : فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، سَمِعْتُ فِيهَا وَجْبَةً ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا قَدْ جِيءَ بِفُلَانِ [ بْنِ فُلَانٍ ] وَفُلَانِ [ بْنِ فُلَانٍ ] حَتَّى عَدَّتِ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا - وَقَدْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً قَبْلَ ذَلِكَ - فَجِيءَ بِهِمْ ، عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ تَشْخُبُ أَوْدَاجُهُمْ ، فَقِيلَ : اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى أَرْضِ الْبَيْدَخِ - أَوْ قَالَ : نَهْرِ الْبَيْدَخِ - فَغُمِسُوا فِيهِ ، فَخَرَجُوا مِنْهُ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، ثُمَّ أُتُوا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَعَدُوا عَلَيْهَا ، وَأُتِيَ بِصَحْفَةٍ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - فِيهَا بُسْرَةٌ ، فَأَكَلُوا مِنْهَا [ فَمَا يَقْلِبُونَهَا لَشَقٍّ إِلَّا أَكَلُوا ] مِنْ فَاكِهَةٍ مَا أَرَادُوا وَأَكَلْتُ مَعَهُمْ ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا ، وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ عَدَّتْهُمُ الْمَرْأَةُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ " . فَجَاءَتْ ، فَقَالَ : " قُصِّي عَلَى هَذَا رُؤْيَاكِ " . فَقَصَّتْ ، فَقَالَ : هُوَ كَمَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھے خواب پسند تھے ، بعض اوقات آپ یہ دریافت کر لیتے تھے : کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : جب کسی شخص نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تھا ، تو وہ اُس کے بارے میں دریافت کر لیتا تھا ، اگر اس میں کوئی حرج نہیں ہوتا تھا ، تو وہ آپ کے نزدیک ( یا اس شخص کے نزدیک ) عمدہ خواب ہوتا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک خاتون آئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں جنت میں داخل ہوئی ہوں وہاں میں نے گونج کی آواز سنی ، جس کی وجہ سے جنت میں گونج پیدا ہوئی تھی ، جب میں نے دیکھا تو فلاں بن فلاں صاحب آ رہے ہیں ، یہاں تک کہ اس خاتون نے بارہ افراد شمار کروائے ، یہ وہ لوگ تھے ، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے ایک جنگی مہم پر بھیج چکے تھے ( اس خاتون نے بتایا ) جب وہ لوگ آئے تو ان کے جسم پر عمدہ قسم کے کپڑے تھے اور ان کی رگوں سے خون بہہ رہا تھا ، یہ بات کہی گئی کہ انہیں بیدخ کی سرزمین کی طرف لے جاؤ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں ) بیدخ کی نہر کی طرف لے جاؤ اور وہاں انہیں ڈبکی دو ، پھر وہ لوگ وہاں سے نکلے ، تو ان کے چہرے یوں تھے ، جیسے چودھویں رات کا چاند ہوتا ہے ، پھر وہ سونے کی کرسیوں کے پاس آئے اور ان پر بیٹھ گئے ، پھر ایک تھال لایا گیا ، جس میں کھجوریں موجود تھیں ، ان لوگوں نے ان میں سے کھانا شروع کیا ، وہ ان تھالوں میں سے مختلف پھل کھاتے رہے ، میں نے بھی ان کے ساتھ پھل کھایا ۔ راوی کہتے ہیں : اس جنگی مہم کے حوالے سے جب اطلاع دینے والا شخص آیا ، تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھ یہ یہ صورت حال پیش آئی اور فلاں حضرات شہید ہو گئے ہیں ، تو اس نے انہی بارہ افراد کا شمار کروایا ، جن کا شمار اس خاتون نے کروایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس عورت کو میرے پاس لے کر آؤ ! وہ عورت آئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کے سامنے اپنا خواب بیان کرو ! اس عورت نے خواب بیان کیا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ اُسی طرح تھا ، جس طرح اُس عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( وہ خواب ) بیان کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ نے بھی ان کے ساتھ پھل کھایا ۔ راوی کہتے ہیں : اس جنگی مہم کے حوالے سے جب اطلاع دینے والا شخص آیا تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھ یہ یہ صورت حال پیش آئی اور فلاں حضرات شہید ہو گئے ہیں ، تو اس نے انہی بارہ افراد کا شمار کروایا جن کا شمار اس خاتون نے کروایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس عورت کو میرے پاس لے کر آؤ ! وہ عورت آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کے سامنے اپنا خواب بیان کرو ! اس عورت نے خواب بیان کیا راوی کہتے ہیں تو وہ اُسی طرح تھا ، جس طرح اُس عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( وہ خواب ) بیان کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11736
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3289) أخرجه احمد فى المسند (135/3)»