کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: اس شخص کا باین ، جو ایسی چیز دیکھتا ہے ، جو اسے پسند ہو ، یا اس کے علاوہ ( کچھ دیکھتا ہے )
❮
❯
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، فَمَنْ رَأَى خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - [ عَلَيْهِ ] وَلَيَذْكُرْهُا ، وَمَنْ رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ شَرِّ رُؤْيَاهُ وَلَا يَذْكُرْهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْهَاشِمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نیک خواب ، نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہیں ، جو شخص بھلائی کی بات دیکھے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور اس کا ذکر کرے اور جو شخص اس کے علاوہ ( یعنی کوئی ناگوار خواب ) دیکھے ، تو وہ اپنے خواب کے شر سے ، اللہ کی پناہ مانگے ، اور اُس کا ذکر نہ کرے ، تو وہ خواب اُسے نقصان نہیں پہنچائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ سلیمان بن داؤد ہاشمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11732
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (260/23) اخرجه احمد فى المسند (6215) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 2889، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 11727»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يُبَشَّرُهَا الْمُؤْمِنُ عَلَى جُزْءٍ مِنْ تِسْعَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، فَمَنْ رَأَى ذَلِكَ فَلْيُخْبِرْ بِهَا ، وَمَنْ رَأَى سِوَى ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيُحْزِنَهُ ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا ، وَلْيَسْكُتْ وَلَا يُخْبِرْ بِهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، وَحَدِيثُهُمَا حَسَنٌ ، وَفِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” ان لوگوں کے لئے دنیاوی زندگی میں خوشخبری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نیک خواب ، جس کے ذریعے مومن شخص کو خوشخبری دی جاتی ہے ، یہ نبوت کے انچاس اجزاء میں سے ایک جزء ہے ، جو شخص ایسا خواب دیکھے ، تو وہ اُس کے بارے میں ( کسی کو ) بتا دے ، اور جو شخص اُس کے علاوہ ( یعنی کوئی ناگوار ، یا ڈراؤنا ) خواب دیکھے ، تو وہ خواب ، شیطان کی طرف سے ہو گا ، تاکہ وہ شیطان اُسے غمگین کر دے ، اُس شخص کو اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور خاموش رہنا چاہیے اور اس خواب کے بارے میں ( کسی کو ) نہیں بتانا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ابن لہیعہ کے حوالے سے دراج سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11733
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (219/2) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 7004»
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ فِي مَنَامِهِ مَا يَكْرَهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَسْتَعِذْ مِمَّا رَأَى " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے ، کوئی ایک شخص خواب میں وہ چیز دیکھے جسے وہ ناپسند کرے ، تو اسے اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور جو اُس نے دیکھا ہے ، اُس کے حوالے سے پناہ مانگنی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11734
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ اللَّهِ وَالسَّيِّئَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَذَكَرَهُ فِي الضُّعَفَاءِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسے خواب دیکھتا ہوں ، جو مجھے بیمار کر دیتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اچھا خواب ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب ، شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ، جب تم میں سے کوئی شخص کوئی ایسا ( برا ) خواب دیکھے ، تو اسے اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے ، تو وہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن سلیم ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن انہوں نے اس کا ذکر کتاب ” الضعفاء “ میں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11735
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف