حدیث نمبر: 11729
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَفْرَى الْفِرَى ، مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، وَأَفْرَى الْفِرَى أَرَى عَيْنَيْهِ مَا لَمْ تَرَ وَمَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو عُثْمَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَصْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی شخص ، اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے ، اور سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی آنکھوں کو وہ چیز دکھائے ، جو انہوں نے نہ دیکھی ہو ( یعنی جھوٹا خواب بیان کرے ) اور کوئی شخص زمین کے ( حد بندی کے ) نشانات تبدیل کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوعثمان عباس بن فضل بصری ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوعثمان عباس بن فضل بصری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11730
وَعَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ كَذَبَ فِي الرُّؤْيَا مُتَعَمِّدًا كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ قَوْلِهِ : " مُتَعَمِّدًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَامِرٍ الثَّعْلَبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جان بوجھ کر ، خواب کے بارے میں جھوٹ بولے : گا ، قیامت کے دن اُسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جو ( کے دانوں میں ) گرہ لگائے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ” جان بوجھ کر“ کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن عامر ثعلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ” جان بوجھ کر“ کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن عامر ثعلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11731
وَعَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مِنْ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ، أَوْ طَلَبَ بِدَمِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي الْإِسْلَامِ ، أَوْ بَصَّرَ عَيْنَيْهِ فِي النَّوْمِ مَا لَمْ تُبْصِرْ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قَوْلِهِ : " أَوْ بَصَّرَ عَيْنَيْهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے بارے میں ، لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش وہ شخص ہے ، جو اپنے قاتل کے علاوہ کسی کو قتل کرے ، یا زمانہ اسلام میں زمانہ جاہلیت کے کسی خون کا بدلہ طلب کرے ، یا اپنی آنکھوں کو نیند کے حوالے سے وہ چیز دکھائے ، جو انہوں نے نہیں دیکھی ( یعنی جھوٹا خواب بیان کرے ) “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” وہ اپنی آنکھوں کو دکھائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” وہ اپنی آنکھوں کو دکھائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔