کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کتنے عرصے میں پورا قرآن پڑھا جائے ؟
حدیث نمبر: 11711
عَنْ سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي ثَلَاثٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : وَكَانَ يَقْرَؤُهُ حَتَّى تُوُفِّيَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن منذر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں تین دن میں پورا قرآن پڑھ لیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : تو وہ اپنے انتقال تک ، اسی طرح قرآن پڑھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے ایسی احادیث کتاب الصلوۃ میں گزر چکی ہیں کہ کتنے عرصے میں پورا قرآن پڑھنا چاہیے ؟
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11711
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5481)»