حدیث نمبر: 11701
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " زَيِّنُوا أَصْوَاتَكُمْ بِالْقُرْآنِ "
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنی آوازوں کو قرآن کے ذریعے آراستہ کرو “ ۔
حدیث نمبر: 11702
وَفِي رِوَايَةٍ " أَحْسِنُوا أَصْوَاتَكُمْ بِالْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَفِي أَحَدِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ ، وَوَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اپنی آوازوں کو قرآن کے ساتھ عمدہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور وہ کہتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور وہ کہتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11703
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ قَالَ : بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ إِذْ مَرَّ بِنَا أَبُو لُبَابَةَ ، فَاتَّبَعْنَاهُ حَتَّى دَخَلَ بَيْتَهُ ، فَاسْتَأْذَنَّا فَأَذِنَ لَنَا ، فَإِذَا رَجُلٌ رَبُّ الْمَتَاعِ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتُمْ ؟ فَانْتَسَبْنَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِجَارِ كَبْشِهِ . فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ " . قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : قُلْتُ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَكُنْ حَسَنَ الصَّوْتِ ؟ قَالَ : يُحَسِّنُهُ مَا اسْتَطَاعَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابونہیک بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں اور عبداللہ بن ابوسائب کھڑے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے ، ہم اُن کے پیچھے گئے ، وہ گھر میں داخل ہو گئے ، ہم نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، انہوں نے ہمیں اجازت دے دی ، وہاں ایک شخص موجود تھا ، جو ساز و سامان کا مالک تھا اس نے کہا: تم کون ہو ؟ ہم نے ان کے سامنے اپنا اسم منسوب بیان کیا : تو اس نے کہا: ساتھیوں کو خوش آمدید ہے ، پھر میں نے اس کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ، جو قرآن کو اچھی آواز میں نہ پڑھے “ ۔ ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اے ابومحمد ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ جس کی آواز اچھی نہ ہو ؟ انہوں نے فرمایا : اُس سے جہاں تک ہو سکے ، آواز کو اچھا کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11704
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کو اپنی آوازوں کے ذریعے آراستہ کرو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11705
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِكُلِّ شَيْءٍ حِلْيَةٌ وَحِلْيَةُ الْقُرْآنِ حُسْنُ الصَّوْتِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر چیز کا ایک زیور ہوتا ہے اور قرآن کا زیور ، اچھی آواز ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمر بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمر بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11706
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِكُلِّ شَيْءٍ حِلْيَةٌ وَحِلْيَةُ الْقُرْآنِ الصَّوْتُ الْحَسَنُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحْرِزٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر چیز کا ایک زیور ہوتا ہے اور قرآن کا زیور اچھی آواز ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محرز ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محرز ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11707
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ حُسْنَ الْقُرْآنِ تَزْيِينٌ لِلْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زُرْبَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اچھی آواز ، قرآن کو آراستہ کرنے کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زرق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زرق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11708
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا قَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ حُسْنَ الصَّوْتِ[ بِالْقُرْآنِ ] ، وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يُرْسِلُ إِلَيَّ فَأَقْرَأُ عَلَيْهِ الْقُرْآنَ ، فَكُنْتُ إِذَا فَرَغْتُ مِنْ قِرَاءَتِي قَالَ : زِدْنَا مِنْ هَذَا فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " حُسْنُ الصَّوْتِ زِينَةٌ لِلْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ أَبِي زُرْبَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : میں ایک ایسا شخص تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے لئے مجھے اچھی آواز عطا کی تھی ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مجھے پیغام بھیج کر بلواتے تھے ، میں ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتا تھا ، جب میں تلاوت کر کے فارغ ہو جاتا تھا ، تو وہ فرماتے تھے : تم مزید تلاوت کرو ! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اچھی آواز ، قرآن مجید کی زینت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن ابوزربی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن ابوزربی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11709
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هُوَ وَعَائِشَةَ مَرَّا بِأَبِي مُوسَى وَهُوَ يَقْرَأُ فِي بَيْتِهِ ، فَقَامَا يَسْتَمِعَانِ لِقِرَاءَتِهِ ، ثُمَّ إِنَّهُمَا مَضَيَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ لَقِيَ أَبَا مُوسَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَبَا مُوسَى ، مَرَرْتُ بِكَ الْبَارِحَةَ وَمَعِي عَائِشَةُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ فِي بَيْتِكَ فَقُمْنَا وَاسْتَمَعْنَا " . فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : أَمَا إِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ عَلِمْتُ لَحَبَّرْتُهُ لَكَ تَحْبِيرًا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ، وہ اپنے گھر میں تلاوت کر رہے تھے ، یہ دونوں کھڑے ہو کر اُن کی تلاوت سننے لگے ، پھر یہ دونوں چلے گئے ، اگلے دن صبح سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوموسی ! میں گزشتہ رات تمہارے گھر کے پاس سے گزرا تھا ، میرے ساتھ عائشہ بھی تھی ، تم اپنے گھر میں تلاوت کر رہے تھے ، تو ہم کھڑے ہو کر تمہاری تلاوت سنتے رہے ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر مجھے یہ پتہ ہوتا ، تو میں اپنی تلاوت کو اور زیادہ بنا سنوار کر تلاوت کرتا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔