کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: قرآن کو اچھی آواز میں پڑھنا
❮
❯
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ، جو قرآن اچھی آواز میں نہ پڑھے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11698
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2332) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11239) ، أخرجه مسند البزار برقم: 2192»
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ، جو قرآن کو اچھی آواز میں نہ پڑھے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11699
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2333) ، أخرجه مسند البزار برقم: 2192»
وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَاهَانَ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ، جو قرآن کو اچھی آواز میں نہ پڑھے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ماہان ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11700
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2335) ، أخرجه مسند البزار برقم: 2192»