حدیث نمبر: 11668
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قِرَاءَةُ الرَّجُلِ فِي غَيْرِ الْمُصْحَفِ أَلْفُ دَرَجَةٍ ، وَقِرَاءَتُهُ فِي الْمُصْحَفِ تُضَاعَفُ عَلَى ذَلِكَ أَلْفَيْ دَرَجَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدِ بْنُ عَوْنٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعْينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عثمان بن عبداللہ بن اوس ثقفی ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دیکھے بغیر ، قرآن مجید کی تلاوت کرنا ، ایک ہزار درجات کا باعث ہے ، قرآن مجید کو دیکھ کر اس کی تلاوت کرنا ، اس سے دگنا ہو جاتا ہے اور دو ہزار درجات کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید بن عون ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید بن عون ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11669
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَدِيمُوا النَّظَرَ فِي الْمُصْحَفِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اپنی نظر ہمیشہ قرآن مجید پر رکھو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11670
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ ظَاهِرًا أَوْ بَاطِنًا أَعْطَاهُ اللَّهُ شَجَرَةً فِي الْجَنَّةِ ، لَوْ أَنَّ غُرَابًا أَفْرَغَ فِي غُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا ثُمَّ طَارَ لَأَدْرَكَهُ الْهَرَمُ قَبْلَ أَنْ يَقْطَعَ وَرَقَهَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَوْ أَنَّ غُرَابًا أَفْرَخَ تَحْتَ وَرَقَةٍ مِنْهَا ثُمَّ أَدْرَكَ ذَلِكَ الْفَرْخَ فَنَهَضَ لَأَدْرَكَهُ الْهَرَمُ قَبْلَ أَنْ تُقْطَعَ تِلْكَ الْوَرَقَةُ " ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهُجَيْمِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَسَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص زبانی طور پر ، یا قرآن مجید کو دیکھ کر قرآن کی تلاوت کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں ایک درخت عطا کرے گا کہ اگر کوئی ” بچہ کوا “ اس کی کسی شاخ میں موجود ہو اور پھر وہ اُڑے تو اس کے کسی پتے کو پار کرنے سے پہلے وہ کوا بوڑھا ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اگر کوئی ” بچہ کوا “ ہو اور وہ اس کے پتے کے نیچے ہو اور پھر وہ ” کوا “ بن جائے اور اُڑتا رہے ، تو اس پتے کو پار کرنے سے پہلے اسے بڑھاپا لاحق ہو جائے گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن محمد ہجیمی ہے اور ایک راوی سعید بن سالم قداح ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ امام بزار کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اگر کوئی ” بچہ کوا “ ہو اور وہ اس کے پتے کے نیچے ہو اور پھر وہ ” کوا “ بن جائے اور اُڑتا رہے ، تو اس پتے کو پار کرنے سے پہلے اسے بڑھاپا لاحق ہو جائے گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن محمد ہجیمی ہے اور ایک راوی سعید بن سالم قداح ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ امام بزار کی سند ضعیف ہے ۔