حدیث نمبر: 11633
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ ، فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ ، وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ " . قَالَ : ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ ، وَآلَ عِمْرَانَ ، فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ يُظِلَّانِ صَاحِبَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ ، أَوْ غَيَابَتَانِ ، أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ . وَإِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يَنْشَقُّ عَنْهُ قَبْرُهُ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ فَيَقُولُ : هَلْ تَعْرِفُنِي ؟ فَيَقُولُ : مَا أَعْرِفُكَ ، فَيَقُولُ : أَنَا صَاحِبُكَ الْقُرْآنُ الَّذِي أَظْمَأْتُكَ فِي الْهَوَاجِرِ ، وَأَسْهَرْتُ لَيْلَكَ ، وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تِجَارَةٍ . فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ ، وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا تَقُومُ لَهُمَا الدُّنْيَا ، فَيَقُولَانِ : بِمَ كُسِينَا هَذَا ؟ فَيُقَالُ : بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ . ثُمَّ يُقَالُ : اقْرَأْ ، وَاصْعَدْ فِي دَرَجِ الْجَنَّةِ ، وَغُرَفِهَا . فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ حَدْرًا كَانَ أَوْ تَرْتِيلًا " . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ طَرَفًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” تم لوگ سورت بقرہ سیکھو ! کیونکہ اس کو سیکھنا برکت ہے اور اس کو چھوڑ دینا حسرت ہے اور باطل لوگ ( یا جادوگر ) اس کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ سورت بقرہ اور سورت آل عمران سیکھو ! کیونکہ یہ دونوں دو بادل ہیں ، جو قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے پر سایہ کیے ہوئے ہوں گے ، یوں جیسے یہ دونوں بادل ہوتے ہیں ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) یا یہ صف باندھے ہوئے پرندوں کی دو قطاریں ہیں ، قیامت کے دن قرآن اپنے پڑھنے والے سے ملے گا ، جب اس شخص کو اس کی قبر سے اُٹھایا جائے گا قرآن ایک خوبصورت شکل والے شخص کی شکل میں اس کو ملے گا ، اور کہے گا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ وہ شخص کہے گا : میں تمہیں نہیں پہچانتا ، قرآن کہے گا : میں تمہارا ساتھی وہ قرآن ہوں کہ میں نے تمہیں گرمیوں میں پیاسا رکھا اور رات کو جگائے رکھا ، جبکہ ہر شخص اپنی تجارت میں مصروف تھا ، اور آج تم ہر قسم کی تجارت سے الگ ہو ، پھر بادشاہی اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی ، اور ہمیشہ رہنا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، اور اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا ، اور اس کے ماں باپ کو دو حلے پہنائے جائیں گے کہ ان دونوں حلوں کی قیمت پوری دنیا بھی نہیں ہو سکتی ، وہ دونوں کہیں گے : ہمیں یہ کس وجہ سے پہنائے گئے ہیں ؟ تو انہیں بتایا جائے گا کہ تمہارے بچے کے قرآن سیکھنے کی وجہ سے ، پھر ( اس شخص سے ) یہ کہا: جائے گا : تم تلاوت شروع کرو اور جنت کے درجات اور بالا خانوں پر چڑھنا شروع کرو ، تو جب تک وہ تلاوت کرتا رہے گا ، وہ مسلسل چڑھتا رہے گا ، خواہ وہ تیزی سے تلاوت کرے یا ٹھہر ، ٹھہر کے کرے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11634
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامٌ ، وَسَنَامُ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، وَإِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ لُبَابًا ، وَإِنَّ لُبَابَ الْقُرْآنِ الْمُفَصَّلُ ، وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَتَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، وَإِنَّ أَصْغَرَ الْبُيُوتِ الْجَوْفُ الَّذِي فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے ، قرآن کی چوٹی سورت بقرہ ہے ، اور ہر چیز کا ایک دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کا دروازہ ، مفصل ( سورتیں ) ہیں ، اور شیاطین اُس گھر سے نکل جاتے ہیں ، جس میں سورت بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے اور سب سے زیادہ چھوٹا گھر وہ ہے ، جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11635
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَعْلِيمِ الْقُرْآنِ ، وَحَثَّنَا عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " إِنَّ الْقُرْآنَ يَأْتِي أَهْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحْوَجَ مَا كَانُوا إِلَيْهِ ، فَيَقُولُ لِلْمُسْلِمِ : تَعْرِفُنِي ؟ فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا الَّذِي كُنْتَ تُحِبُّ ، وَتَكْرَهُ أَنْ يُفَارِقَكَ الَّذِي كَانَ يَسْحَبُكَ ، وَيُدْنِيكَ . فَيَقُولُ : لَعَلَّكَ الْقُرْآنُ . فَيَقْدَمُ بِهِ عَلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ السَّكِينَةُ ، وَيُنْشَرُ عَلَى أَبَوَيْهِ حُلَّتَانِ لَا تَقُومُ لَهُمَا الدُّنْيَا ، أَضْعَافًا ، فَيَقُولَانِ : لِأَيِّ شَيْءٍ كُسِينَا هَذَا وَلَمْ تَبْلُغْهُ أَعْمَالُنَا ؟ فَيَقُولُ : هَذَا بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ هُشَيْمٌ خَيْرًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قرآن سیکھنے کا حکم دیا اور اس کی ترغیب دی اور ارشاد فرمایا : ” یہ قرآن ، قیامت کے دن ، اپنے پڑھنے والے شخص کے پاس اُس وقت آئے گا کہ جب اُسے سب سے زیادہ اس کی ضرورت ہو گی ، وہ مسلمان شخص سے کہے گا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ مسلمان شخص کہے گا : تم کون ہو ؟ وہ کہے گا : میں وہ ہوں ، جس سے تم محبت رکھتے تھے ، اور جس کے بارے میں تم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ تم سے جدا ہو ، یہ وہ ہے ، جو تمہیں اٹھاتا تھا اور تمہارے ساتھ ہوتا تھا ، تو مسلمان کہے گا : شاید تم قرآن ہو ، پھر قرآن اُس کو ساتھ لے کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں آئے گا ، تو اُس شخص کے دائیں ہاتھ بادشاہی اور بائیں ہاتھ میں ہمیشہ رہنا دیا جائے گا اور اس کے سر پر سکینت کا تاج رکھا جائے گا اور اس کے ماں باپ کو دو حلے پہنائے جائیں گے کہ پوری دنیا اُن کی قیمت نہیں بن سکتی ، خواہ وہ کئی گنا ہو جائے ، وہ دونوں کہیں گے : یہ ہمیں کیوں پہنائے گئے ہیں ؟ جبکہ ہمارے اعمال ، تو اس مقام تک نہیں پہنچتے ہیں ، تو پروردگار فرمائے گا : یہ تمہارے بچے کے قرآن سیکھنے کی وجہ سے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے ، ہشیم نے بھلائی کے ہمراہ ، اُس کی تعریف بیان کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے ، ہشیم نے بھلائی کے ہمراہ ، اُس کی تعریف بیان کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11636
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ : هَلْ تَعْرِفُنِي ؟ أَنَا الَّذِي كُنْتُ أُسْهِرُ لَيْلَكَ ، وَأُظْمِئُ هَوَاجِرَكَ ، وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ ، وَأَنَا لَكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تَاجِرٍ . فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ ، وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا تَقُومُ لَهُمَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، فَيَقُولَانِ : يَا رَبِّ ، أَنَّى لَنَا هَذَا ؟ فَيُقَالُ لَهُمَا : بِتَعْلِيمِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ " . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ، قرآن ایک حسین و جمیل شخص کی شکل میں آئے گا اور اپنے پڑھنے والے سے کہے گا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ میں وہ ہوں ، جو رات کو تمہیں جگایا کرتا تھا اور دن کے وقت تمہیں پیاسا رکھتا تھا ، ہر تاجر اپنی تجارت سے دور ہو چکا ہے اور آج میں تمہارے کام آؤں گا ، تو اس شخص کے دائیں ہاتھ میں بادشاہی دی جائے گی اور بائیں ہاتھ میں ہمیشہ رہنا دیا جائے گا اور اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا اور اس کے ماں باپ کو دو حلے پہنائے جائیں گے کہ دنیا اور اس میں موجود سب چیزیں اُن کی قیمت نہیں ہو سکتیں ، وہ دونوں عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! یہ ہمیں کیوں دیے گئے ہیں ؟ تو ان سے کہا: جائے گا : کیونکہ تم نے اپنے بچے کو قرآن کی تعلیم دی تھی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالعزیز حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالعزیز حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11637
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ ، وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ ، وَمَاتَ فِي الْجَمَاعَةِ بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ السَّفَرَةِ ، وَالْحُكَّامِ ، وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ ، وَهُوَ يَنْفَلِتُ مِنْهُ لَا يَدَعُهُ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ، وَمَنْ كَانَ حَرِيصًا عَلَيْهِ لَا يَسْتَطِيعُهُ ، وَلَا يَدَعُهُ بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ أَشْرَافِ أَهْلِهِ ، فُضِّلُوا عَلَى الْخَلَائِقِ كَمَا فُضِّلَتِ النُّسُورُ عَلَى سَائِرِ الطُّيُورِ ، وَكَمَا فُضِّلَتْ عَيْنٌ فِي مَرْجٍ عَلَى مَا حَوْلَهَا ، وَيُنَادِي مُنَادٍ : أَيْنَ الَّذِينَ كَانُوا لَا تُلْهِيهِمْ رِعْيَةُ الْأَنْعَامِ عَنْ تِلَاوَةِ كِتَابِي ؟ فَيَقُومُونَ ، فَيُلْبَسُ أَحَدُهُمْ تَاجَ الْكَرَامَةِ ، وَيُعْطَى الْفَوْزَ بِيَمِينِهِ ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ ، فَإِنْ كَانَ أَبَوَاهُ مُسْلِمَيْنِ كُسِيَا حُلَّةً خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، فَيَقُولَانِ : أَنَّى هَذَا لَنَا ؟ فَيُقَالُ : بِمَا كَانَ وَلَدُكُمَا يَقْرَأُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ هُشَيْمٌ خَيْرًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص قرآن سیکھتا ہے اور اس میں موجود احکام پر عمل کرتا ہے اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہتے ہوئے مر جاتا ہے تو قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اسے سٹیروں اور حکام کے ہمراہ اٹھائے گا اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے ، اور وہ اُس سے نہیں پڑھا جاتا ہے اور وہ اُسے نہیں چھوڑتا ، تو اسے دگنا اجر ملے گا اور جو شخص اس کو سیکھنے کے حوالے سے حرص رکھتا ہو ، وہ نہ اس کو سیکھ سکتا ہو اور نہ اسے چھوڑتا ہو ، تو قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اسے اپنے معزز بندوں میں زندہ کرے گا ، جنہیں دیگر تمام مخلوق پر وہ فضیلت حاصل ہو گی جو نسور کو دیگر تمام پرندوں پر حاصل ہوتی ہے ، جس طرح کسی چراگاہ میں موجود چشمے کو اس کے اردگرد جگہ پر حاصل ہوتی ہے پھر ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : وہ لوگ کہاں ہیں ؟ کہ جانوروں کی دیکھ بھال ، اُنہیں میری کتاب کی تلاوت سے غافل نہیں کرتی تھی وہ لوگ کھڑے ہوں گے ، اُن میں سے ہر ایک کے سر پر کرامت کا تاج رکھا جائے گا اور کامیابی اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی اور ہمیشہ رہنا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، اگر اس کے ماں باپ مسلمان ہوں گے ، تو انہیں ایسا حلہ پہنایا جائے گا ، جو دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہو گا ، وہ کہیں گے : یہ ہمیں کیوں دیا جا رہا ہے ؟ تو ان سے کہا: جائے گا : کیونکہ تمہارا بچہ ، قرآن کا عالم تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے ، ہشیم نے بھلائی کے ہمراہ اُس کی تعریف بیان کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے ، ہشیم نے بھلائی کے ہمراہ اُس کی تعریف بیان کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11638
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُؤْتَى بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُمَثَّلُ لَهُ الْقُرْآنُ ، قَدْ كَانَ يُضَيِّعُ فَرَائِضَهُ ، وَيَتَعَدَّى حُدُودَهُ ، وَيُخَالِفُ طَاعَتَهُ ، وَيَرْكَبُ مَعَاصِيَهُ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، حَمَّلْتَ آيَاتِي بِئْسَ حَامِلٍ ، تَعَدَّى حُدُودِي وَضَيَّعَ فَرَائِضِي وَتَرَكَ طَاعَتِي ، وَرَكِبَ مَعْصِيَتِي ، فَمَا يَزَالُ عَلَيْهِ بِالْحُجَجِ حَتَّى يُقَالَ : فَشَأْنَكَ بِهِ ، فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ فَمَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يَكُبَّهُ عَلَى مِنْخَرِهِ فِي النَّارِ . وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ قَدْ كَانَ يَحْفَظُ حُدُودَهُ ، وَيَعْمَلُ بِفَرَائِضِهِ ، وَيَعْمَلُ بِطَاعَتِهِ ، وَيَجْتَنِبُ مَعْصِيَتَهُ فَيَصِيرُ خَصْمًا دُونَهُ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، حَمَّلْتَ آيَاتِي خَيْرَ حَامِلٍ ، اتَّقَى حُدُودِي ، وَعَمِلَ بِفَرَائِضِي ، وَاتَّبَعَ طَاعَتِي ، وَاجْتَنَبَ مَعْصِيَتِي ، فَلَا يَزَالُ لَهُ بِالْحُجَجِ حَتَّى يُقَالَ : فَشَأْنَكَ بِهِ ، فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ ، فَمَا يَزَالُ لَهُ حَتَّى يَكْسُوَهُ حُلَّةَ الْإِسْتَبْرَقِ ، وَيَضَعَ عَلَيْهِ تَاجَ الْمُلْكِ ، وَيَسْقِيَهُ بِكَأْسِ الْمُلْكِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ، ایک شخص کو لایا جائے گا ، قرآن کو اس کے سامنے انسانی شکل میں لایا جائے گا ، یہ وہ شخص ہو گا ، جو قرآن کو ضائع کرتا تھا اور اس کی حدود کو پامال کرتا تھا اور اس کی اطاعت ( کے احکام ) کی مخالفت کرتا تھا اور اس کے بیان کردہ گناہوں کا مرتکب ہوتا تھا ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو نے میری آیات کا علم ایک ایسے شخص کو عطا کیا ، جس نے میری حدود کی خلاف ورزی کی ، میرے فرائض کو ضائع کیا ، میری اطاعت کو ترک دیا ، میری معصیت کا ارتکاب کیا ، پھر قرآن مسلسل اُس شخص کے خلاف دلائل دیتا رہے گا ، یہاں تک کہ کہا: جائے گا : تم اسے سنبھالو ! تو قرآن اس شخص کا ہاتھ پکڑے گا اور اس سے اُس وقت تک جدا نہیں ہو گا ، جب تک اُسے نتھنوں کے بل جہنم میں نہیں ڈال دے گا ، پھر ایک شخص کو لایا جائے گا ، جو قرآن کی حدود کی حفاظت کرتا تھا ، اس کے فرائض پر عمل کرتا تھا ، اس کی حدود پر عمل کرتا تھا ، اس کی معصیت سے اجتناب کرتا تھا ، تو قرآن اس کی طرف سے بحث کرنے والا ہو جائے گا اور کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو نے میری آیات کا علم بہتر شخص کو دیا تھا ، جس نے میری حدود کے حوالے سے میری پرہیز گاری اختیار کی ، میرے فرائض پر عمل کیا ، میری اطاعت کی پیروی کی ، میری معصیت سے اجتناب کیا ، پھر قرآن مسلسل اس کے حق میں دلائل دیتا رہے گا ، یہاں تک کہ کہا: جائے گا : تم اسے سنبھالو ! تو قرآن اس شخص کا ہاتھ پکڑے گا اور مسلسل اس کے ساتھ رہے گا ، یہاں تک کہ اس کو استبرق سے بنا ہوا حلہ پہنائے گا اور اس پر بادشاہی کا تاج رکھوائے گا اور بادشاہی کے جام میں اُسے پینے کے لئے دے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11639
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ اسْتَقْبَلَتْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَضْحَكُ فِي وَجْهِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ، اللہ کی کتاب کی ایک آیت کا علم حاصل کرے گا ، وہ آیت قیامت کے دن مسکراتی ہوئی ، اُس کا استقبال کرے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں
حدیث نمبر: 11640
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْرَافُ أُمَّتِي حَمَلَةُ الْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْجُرْجَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے سب سے زیادہ معزز لوگ ، قرآن کے عالم ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن سعید جرجانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن سعید جرجانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11641
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَمَلَةُ الْقُرْآنِ عُرَفَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن قرآن کے عالم ، اہل جنت کے معززین ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن سعید مدنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن سعید مدنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11642
وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفْدًا إِلَى الْيَمَنِ ، فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَمِيرًا مِنْهُمْ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ ، فَمَكَثَ أَيَّامًا لَمْ يَسِرْ ، فَلَقِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " يَا فُلَانُ ، مَالَكَ ؟ أَمَا انْطَلَقْتَ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِيرُنَا يَشْتَكِي رِجْلَهُ . فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَفَثَ عَلَيْهِ "بِسْمِ اللَّهِ ، وَبِاللَّهِ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا فِيهَا " سَبْعَ مَرَّاتٍ ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ لَهُ شَيْخٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُؤَمِّرُهُ عَلَيْنَا وَهُوَ أَصْغَرُنَا ؟ فَذَكَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِرَاءَتَهُ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ الشَّيْخُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَتَوَسَّدَ فَلَا أَقُومَ بِهِ لَتَعَلَّمْتُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَلَّمْهُ ، فَإِنَّمَا مَثَلُ الْقُرْآنِ كَجِرَابٍ مَلَأْتَهُ مِسْكًا ثُمَّ رَبَطْتَ عَلَى فِيهِ فَإِنْ فَتَحْتَ فَاحَ عَلَيْهِ رِيحُ الْمِسْكِ ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ كَانَ مِسْكًا مَوْضُوعًا ، كَذَلِكَ مَثَلُ الْقُرْآنِ إِذَا قَرَأْتَهُ أَوَكَانَ فِي صَدْرِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : فِي أَحَادِيثِ ابْنِهِ عَنْهُ مَنَاكِيرُ . قُلْتُ : لَيْسَ هَذَا مِنْ رِوَايَةِ ابْنِهِ عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ، ایک وفد یمن کی طرف بھیجا اور ان میں سے ایک شخص کو ان کا امیر بنا دیا جو عمر میں ان لوگوں سے کم تھا ، کچھ دن گزر گئے ، لیکن وہ لوگ روانہ نہیں ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات اُن میں سے ایک شخص سے ہوئی ، تو آپ نے فرمایا : اے فلاں ! کیا وجہ ہے تم لوگ گئے کیوں نہیں ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے امیر کی ٹانگ میں تکلیف کی شکایت تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس امیر کے پاس آئے ، اس کو دم کیا ، اور یہ پڑھا : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ ، میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں ، اُس چیز کے شر سے ، جو اس میں موجود ہے “ ۔ یہ کلمات آپ نے سات مرتبہ پڑھے ، تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا ، اس عمر رسیدہ شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ اسے ہمارا امیر مقرر کر رہے ہیں ؟ جبکہ یہ عمر میں ہم سب سے کم ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرآن کے عالم ہونے کا ذکر کیا ، تو اُس عمر رسیدہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ خوف نہ ہوتا کہ میں اس کو سیکھنے کے باوجود سویا رہوں گا ، اور اس کو قیام کی حالت میں ، اس کی تلاوت نہیں کر پاؤں گا ، تو میں بھی اس کو سیکھ لیتا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا : ” تم اس کو سیکھو ! کیونکہ قرآن کی مثال اس مشکیزے کی مانند ہے ، جس میں تم مشک بھر لیتے ہو اور اس کے منہ کو بند کر دیتے ہو ، اگر تم اس کو کھولو گے ، تو مشک کی خوشبو پھیلے گی اور اگر تم اسے چھوڑ دو گے ، تو مشک رکھی ہوئی تو ہے ، قرآن کی مثال بھی اسی طرح ہے کہ جب تم اسے پڑھو ، یا وہ تمہارے سینے میں موجود ہو ( تو دونوں صورتیں ہی بہتر ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن سلمہ بن کہیل ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ کہتے ہیں : اس کے بیٹے نے اس سے جو احادیث نقل کی ہیں ، وہ منکر ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ ان روایات میں سے ایک نہیں ہے ، جو اس کے بیٹے نے اس سے نقل کی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن سلمہ بن کہیل ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ کہتے ہیں : اس کے بیٹے نے اس سے جو احادیث نقل کی ہیں ، وہ منکر ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ ان روایات میں سے ایک نہیں ہے ، جو اس کے بیٹے نے اس سے نقل کی ہیں ۔
حدیث نمبر: 11643
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ نَبَتَ لَهُ غَرْسٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَأَكْمَلَهُ ، وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا هُوَ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتٍ مِنْ بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيهِ فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهِ ؟ " . قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
- سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص «سبحان الله العظيم» پڑھتا ہے ، اس کے لئے جنت میں پودا لگا دیا جاتا ہے ، جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اسے مکمل پڑھتا ہے اور اس میں موجود احکام پر عمل کرتا ہے ، تو اس کے ماں باپ کو تاج پہنایا جائے گا ، جو اس سے زیادہ روشن ہو گا ، جتنی دنیا کے کسی گھر میں سورج کی روشنی ہوتی ہے ، اگر وہ روشنی اس گھر میں ہو ، تو اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟ جو خود قرآن پر عمل کرتا ہو “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11644
وَعَنْ كُلَيْبِ بْنِ شِهَابٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - قَالَ : كَانَ عَلِيٌّ فِي الْمَسْجِدِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : مَسْجِدِ الْكُوفَةِ - فَسَمِعَ ضَجَّةً شَدِيدَةً ، فَقَالَ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ فَقَالَ : قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، أَوْ يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّهُمْ كَانُوا أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
کلیب بن شہاب بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسجد میں موجود تھے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے تھے : مسجد کوفہ میں موجود تھے ، انہوں نے گونج کی آواز سنی ، تو دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جو قرآن پڑھ رہے ہیں ، یا قرآن سیکھ رہے ہیں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب لوگ تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11645
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ بِخَيْرٍ ] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَلَمْ تَرَوْهُ يَتَعَلَّمُ الْقُرْآنَ ؟ ! " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا بھلائی کے ساتھ ذکر کیا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے اُسے قرآن سیکھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11646
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - كُتِبَ مَعَ الصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ، اللہ کی راہ میں قرآن سیکھتا ہے ، اس کا نام صدیقین ، شہداء اور صالحین کے ساتھ نوٹ کیا جائے گا اور ان لوگوں کا ساتھ اچھا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11647
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - شَكَّ الْأَعْمَشُ - قَالَ : يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : اقْرَأْ وَارْقَ ، فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، یا شاید سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے : یہ شک اعمش نامی راوی کو ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : قیامت کے دن ، قرآن کے عالم سے یہ کہا: جائے گا : تم پڑھو اور چڑھنا شروع کرو ! تمہاری منزل ، اس آخری آیت کے پاس ہو گی ، جس کو تم تلاوت کرو گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت منقول ہے : یہ شک اعمش نامی راوی کو ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : قیامت کے دن ، قرآن کے عالم سے یہ کہا: جائے گا : تم پڑھو اور چڑھنا شروع کرو ! تمہاری منزل ، اس آخری آیت کے پاس ہو گی ، جس کو تم تلاوت کرو گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11648
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الطُّوَلَ فَهُوَ خَيْرٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَبِيبِ بْنِ هِنْدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص سات طویل سورتیں یاد کر لیتا ہے ، تو یہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حبیب بن ہند اسلمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت انہوں نے ایک اور سند کے ساتھ نقل کی ہے جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حبیب بن ہند اسلمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت انہوں نے ایک اور سند کے ساتھ نقل کی ہے جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11649
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مِثْلَهُ ، وَلَكِنْ سَقَطَ مِنَ الْإِسْنَادِ رَجُلٌ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند نقل کیا ہے تا ہم اس کی سند میں ایک راوی کا ذکر ساقط ہے ۔
حدیث نمبر: 11650
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اسْتَمَعَ إِلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ مُضَاعَفَةٌ ، وَمَنْ تَلَاهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ؛ ” جو شخص اللہ کی کتاب کی ایک آیت غور سے سنے تو اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کی جائے گی جو بڑھنے والی ہو گی اور جو شخص اس آیت کو تلاوت کر لے تو یہ چیز اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن میسرہ ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ( متن میں اسی طرح مذکور ہے لیکن شاید یہ طباعت یا ناسخ کی غلطی ہے ) ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن میسرہ ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ( متن میں اسی طرح مذکور ہے لیکن شاید یہ طباعت یا ناسخ کی غلطی ہے ) ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 11651
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِقَارِئِ الْقُرْآنِ إِذَا أَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَنْ يُشَفَّعَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الْحَارِثِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کا قاری ( یا عالم ) جب اس کے حلال کو حلال قرار دے اور اس کے حرام کو حرام قرار دے تو اسے یہ چیز ملے گی کہ وہ اپنے اہل خانہ میں سے دس افراد کی شفاعت کرے گا جن کے لئے جہنم واجب ہو چکی ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن حارث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن حارث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11652
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ أَوْ قَالَ : جَمَعَ الْقُرْآنَ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ إِنْ شَاءَ عَجَّلَهَا لَهُ فِي الدُّنْيَا ، وَإِنْ شَاءَ ادَّخَرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُقَاتِلُ بْنُ دُوَاكَ دُوزَ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ كَمَا قِيلَ فَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَإِنْ كَانَ ابْنَ سُلَيْمَانَ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص قرآن پڑھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جو شخص قرآن جمع کرے ( یعنی حفظ کرے ) تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ چیز ملے گی کہ اس کی دعا مستجاب ہو گی اگر وہ چاہے گا تو دنیا میں اس کی دعا کا اثر ظاہر ہو جائے گا اگر وہ چاہے گا تو ( اللہ تعالٰی ) آخرت کے لئے اس کی دعا کو سنبھال لے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مقاتل بن دواک دوز ہے اگر تو یہ مقاتل بن حیان ہے جیسا کہ کہا: جاتا ہے تو پھر یہ صحیح کے رجال میں سے ہے اور اگر یہ مقاتل بن سلیمان ہے تو پھر یہ ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مقاتل بن دواک دوز ہے اگر تو یہ مقاتل بن حیان ہے جیسا کہ کہا: جاتا ہے تو پھر یہ صحیح کے رجال میں سے ہے اور اگر یہ مقاتل بن سلیمان ہے تو پھر یہ ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11653
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْقُرْآنُ أَلْفُ أَلْفِ حَرْفٍ وَسَبْعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفَ حَرْفٍ ، فَمَنْ قَرَأَهُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا كَانَ لَهُ بِكُلِّ حَرْفٍ زَوْجَةٌ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ ، ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ لِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَلَمْ أَجِدْ لِغَيْرِهِ فِي ذَلِكَ كَلَامًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ” قرآن کے ایک ہزار ، ہزار اور ستائیس ہزار حرف ہیں ، جو شخص صبر کرتے ہوئے اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے اسے پڑھے گا تو اسے ہر ایک حرف کے عوض میں حورعین سے تعلق رکھنے والی ایک بیوی ملے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن عبید بن آدم بن ابوایاس کے حوالے سے نقل کی ہے امام ذہبی نے اس حدیث کے حوالے سے اس کا تذکرہ میزان الاعتدال میں کیا ہے میں نے اس بارے میں ان کے علاوہ کسی اور کا کلام نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن عبید بن آدم بن ابوایاس کے حوالے سے نقل کی ہے امام ذہبی نے اس حدیث کے حوالے سے اس کا تذکرہ میزان الاعتدال میں کیا ہے میں نے اس بارے میں ان کے علاوہ کسی اور کا کلام نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11654
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنَ الْقُرْآنِ كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ ، وَلَا أَقُولُ ( الم ذَلِكَ الْكِتَابُ ) وَلَكِنِ الْأَلِفُ حَرْفٌ ، وَاللَّامُ حَرْفٌ ، وَالْمِيمُ حَرْفٌ ، وَالذَّالُ حَرْفٌ ، وَالْكَافُ حَرْفٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے قرآنِ مجید کا ایک حرف بھی پڑھا اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے ، اور میں یہ نہیں کہتا کہ ﴿الم ذٰلِكَ الْكِتٰبُ﴾ پورا ایک حرف ہے ، بلکہ ”الف“ ایک حرف ہے ، ”لام“ ایک حرف ہے ، ”میم“ ایک حرف ہے ، ”ذال “ایک حرف ہے اور ”کاف“ ایک حرف ہے ۔
(اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم اوسط اور المعجم کبیر میں اور امام بزار رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی ایک راوی ہے جو ضعیف ہے ) ۔
(اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم اوسط اور المعجم کبیر میں اور امام بزار رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی ایک راوی ہے جو ضعیف ہے ) ۔
حدیث نمبر: 11655
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ ، فَإِنَّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَأَعْرَبَهُ فَلَهُ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَكَفَّارَةُ عَشْرِ سَيِّئَاتٍ ، وَرَفْعُ عَشْرِ دَرَجَاتٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَهْشَلٌ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کو صحیح طرح سے پڑھو ! کیونکہ جو شخص قرآن کو پڑھتے ہوئے صحیح طرح سے پڑھے گا ، تو اُسے ہر ایک حرف کے عوض میں دس نیکیاں ملیں گی اور اس کے دس گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور اس کے دس درجات بلند ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نہشل ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نہشل ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11656
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى أَيِّ حَرْفٍ كَانَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ، وَرَفَعَ لَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ ، وَمَنْ قَرَأَ فَأَعْرَبَ بَعْضًا ، وَلَحَنَ بَعْضًا كُتِبَ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً ، وَمُحِيَ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً ، وَرُفِعَ لَهُ عِشْرُونَ دَرَجَةً ، وَمَنْ قَرَأَهُ فَأَعْرَبَهُ كُلَّهُ كُتِبَ لَهُ أَرْبَعُونَ حَسَنَةً وَمُحِيَ عَنْهُ أَرْبَعُونَ سَيِّئَةً وَرُفِعَ لَهُ أَرْبَعُونَ دَرَجَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص قرآن کو کسی بھی حرف کے مطابق پڑھے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کرے گا اس کے دس گناہ مٹا دے گا اور اس کے دس درجات بلند کرے گا اور جو شخص قرآن پڑھتے ہوئے کچھ لفظ ٹھیک پڑھے اور کوئی لفظ غلط پڑھ جائے ، تو اس کو بیس نیکیاں ملیں گی اس کے بیس گناہ معاف ہوں گے اور اس کے بیس درجات بلند ہوں گے اور جو شخص قرآن کو پڑھتے ہوئے پورے کو صیح پڑھے تو اسے چالیس نیکیاں ملیں گی ، اس کے چالیس گناہ معاف ہوں گے اور اس کے چالیس درجات بلند ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن زید عمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن زید عمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11657
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ وَالْتَمِسُوا غَرَائِبَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کو صیح طور پر پڑھو ! اور اس کے مشکل الفاظ کا مفہوم تلاش کرو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید مقبری ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید مقبری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11658
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ ، فَإِنَّهُ عَرَبِيٌّ ، وَإِنَّهُ سَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يَثْقَفُونَهُ وَلَيْسُوا بِخِيَارِكُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ ، وَفِيهَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الطُّرُقِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قرآن کو صحیح عربی میں پڑھو ! کیونکہ یہ عربی ہے ، عنقریب ایسے لوگ آئیں گے ، جو اسے ( راگوں کی طرح ) بنا سنوار کر پڑھیں گے اور وہ تمہارے بہترین لوگ نہیں ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کے ایک طریق کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کے ایک طریق کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11659
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا : جَازَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَجُلٌ يَقْرَأُ الْحِجْرَ أَوْ سُورَةَ الْكَهْفِ ، فَسَكَتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا الْمَجْلِسُ الَّذِي أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ أَبُو الْمِقْدَامِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے ، ایک شخص سورت حجر یا شاید سورت کہف کی تلاوت کر رہا تھا ، وہ شخص خاموش ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ وہ محفل ہے ، جس کے بارے میں مجھے یہ حکم دیا گیا ہے ، میں اپنے آپ کو اُن کے ساتھ رکھوں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ” متصل “ اور ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت ابومقدام ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ” متصل “ اور ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت ابومقدام ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11660
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللَّهِ ، فَتَعَلَّمُوا مِنْ مَأْدُبَةِ اللَّهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ . إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ هُوَ حَبْلُ اللَّهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ ، وَهُوَ النُّورُ الْمُبِينُ وَالشِّفَاءُ النَّافِعُ ، عِصْمَةٌ لِمَنِ اعْتَصَمَ بِهِ ، وَنَجَاةٌ لِمَنْ تَمَسَّكَ بِهِ ، لَا يَعْوَجُّ فَيُقَوَّمُ ، وَلَا يَزِيغُ فَيُسْتَعْتَبُ ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ ، وَلَا يَخْلَقُ مِنْ رَدٍّ . اتْلُوهُ فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَأْجُرُكُمْ بِكُلِّ حَرْفٍ [ مِنْهُ ] عَشْرَ حَسَنَاتٍ . لَمْ أُقَلْ لَكُمْ : ( الم ) حَرْفٌ ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ ، وَلَامٌ حَرْفٌ ، وَمِيمٌ حَرْفٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ قرآن ، اللہ تعالیٰ کا دستر خوان ہے ، تو تم اس کے دستر خوان سے جہاں تک ہو سکے علم حاصل کرو ، یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی وہ رسی ہے ، جس کے بارے میں اس نے حکم دیا ہے اور یہ واضح کرنے والا نور ہے اور نفع دینے والی شفاء ہے اور اس شخص کے لیے عصمت ہے ، جو اس کے ذریعے عصمت حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس شخص کے لئے نجات ہے ، جو اس کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے ، یہ ٹیڑھا نہیں ہو گا کہ اسے سیدھا کیا جائے ، یہ خراب نہیں ہو گا کہ اسے ٹھیک کیا جائے اس کے عجائبات ختم نہیں ہوں گے اور یہ بار ، بار پڑھے جانے سے بوسیدہ نہیں ہو گا ، تم اس کی تلاوت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے ہر ایک حرف کے عوض میں تمہیں دس نیکیاں دے گا ، میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ ” الم “ ایک حرف ہے بلکہ ” ا “ ایک حرف ہے : ” ل “ ایک حرف ہے اور ” م“ ایک حرف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ابراہیم ہجری ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ابراہیم ہجری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11661
وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : هَذَا الْقُرْآنُ مَأْدُبَةُ اللَّهِ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَتَعَلَّمَ مِنْهُ شَيْئًا فَلْيَفْعَلْ ، فَإِنَّ أَصْفَرَ الْبُيُوتِ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ كَخَرَابِ الْبَيْتِ الَّذِي لَا عَامِرَ لَهُ ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ يَسْمَعُ فِيهِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابواحوص بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” یہ قرآن ، اللہ تعالیٰ کا دستر خوان ہے ، تم میں سے جو شخص اس میں سے علم حاصل کر سکتا ہو ، اسے ایسا کرنا چاہیے کیونکہ بھلائی کے اعتبار سے سب سے زیادہ خالی وہ گھر ہوتا ہے ، جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو اور وہ گھر ، جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو ، اس کی مثال برباد گھر کی مانند ہے ، جسے آباد کرنے والا کوئی نہ ہو ، اور شیطان ایسے گھر سے نکل جاتا ہے ، جس میں وہ سورت بقرہ کی تلاوت سنتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں اور اس طریق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں اور اس طریق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11662
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : إِنَّ زَوْجِي مِسْكِينٌ لَا يَقْدِرُعَلَى شَيْءٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِزَوْجِهَا : ( أَتَقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ شَيْئاً ؟ " قَالَ : أَقْرَأُ سُورَةَ كَذَا وَسُورَةَ كَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَخٍ بَخٍ ، زَوْجُكِ غَنِيٌّ " فَانْزَيَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا ثُمَّ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ بَسَطَ اللَّهُ عَلَيْنَا رِزْقَنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : حُيَيٌّ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس نے عرض کی : میرا شوہر غریب آدمی ہے وہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شوہر سے دریافت کیا : کیا تم قرآن کا کوئی حصہ پڑھ سکتے ہو ( یا تم نے قرآن کا کوئی حصہ سیکھا ہوا ہے ؟ ) اس نے عرض کی : میں فلاں سورت اور فلاں سورت پڑھ سکتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بہت خوب ، بہت خوب ، تمہارا شوہر تو خوشحال ہے ، پھر اس عورت نے اپنے شوہر کے ساتھ کام کاج کیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں رزق میں کشادگی عطا کر دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حیی ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حیی ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11663
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْقُرْآنُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ وَمَاحِلٌ مُصَدِّقٌ ، مَنْ جَعَلَهُ أَمَامَهُ قَادَهُ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَمَنْ جَعَلَهُ خَلْفَهُ سَاقَهُ إِلَى النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قرآن ایسا سفارشی ہے ، جس کی سفارش مانی جائے گی اور ایسا بحث کرنے والا ہے ، جس کی بات کی تصدیق کی جائے گی جو شخص اسے اپنا پیشوا بنا لے گا ، تو یہ اسے جنت کی طرف لے جائے گا اور جو شخص اسے پس پشت ڈال دے گا ، یہ اسے ہانک کر جہنم کی طرف لے جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11664
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفِتَنَ فَعَظَّمَهَا وَشَدَّدَهَا ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا ؟ قَالَ : " كِتَابُ اللَّهِ ، فِيهِ حَدِيثُ مَا قَبْلَكُمْ ، وَنَبَأُ مَا بَعْدَكُمْ ، وَفَصْلُ مَا بَيْنَكُمْ ، مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ ، وَمَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ ، هُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ ، وَالذِّكْرُ الْحَكِيمُ ، وَالصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ ، هُوَ الَّذِي لَمَّا سَمِعَتْهُ الْجِنُّ قَالُوا : إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ، هُوَ الَّذِي لَا تَخْتَلِفُ فِيهِ الْأَلْسُنُ ، وَلَا يُخْلِقُهُ كَثْرَةُ الرَّدِّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے ، ان کے بڑے اور سخت ہونے کا ذکر کیا ، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُن سے نجات کا طریقہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی کتاب ، اس میں تم سے پہلے لوگوں کے واقعات ہیں ، تمہارے بعد والے لوگوں کے بارے میں اطلاعات ہیں ، تمہارے معاملات کے بارے میں قول فیصل ہے ، جو شخص تکبر کرتے ہوئے اسے چھوڑ دے گا اللہ تعالیٰ اسے فنا کر دے گا اور جو شخص اس کے علاوہ کسی چیز میں ہدایت تلاش کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کر دے گا ، یہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے اور حکمت والا ذکر ہے اور سیدھا راستہ ہے یہ وہی ہے کہ جب جنات نے اس کو سنا ، تو انہوں نے یہ کہا: ہم نے قرآن کو سنا ہے ، وہ حیران کن چیز ہے ، یہ وہ چیز ہے کہ زبانیں اس کے بارے میں لڑکھڑاتی نہیں ہیں ، اور بکثرت پڑھے جانے سے یہ پرانا نہیں ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11665
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنْ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْتَرَيْتُ مِقْسَمَ بَنِي فُلَانٍ ، فَرَبِحْتُ فِيهِ كَذَا وَكَذَا . قَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكَ بِمَا هُوَ أَكْثَرُ مِنْهُ رِبْحًا ؟ " . قَالَ : وَهَلْ يُوجَدُ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ تَعَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ " . فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَتَعَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے بنو فلاں کی تقسیم کی جگہ خرید لی اور مجھے اس میں اتنا ، اتنا فائدہ ہوا ، نبی اکرم ، نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جس کا فائدہ زیادہ ہے ؟ اس نے دریافت کیا : کیا ایسی بھی کوئی چیز پائی جاتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص دس آیات سیکھ لے “ ۔ پھر وہ شخص گیا ، اس نے دس آیات سیکھ لیں ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11666
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَعْلَمَ أَنَّهُ يُحِبُّ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيَنْظُرْ فَإِنْ كَانَ يُحِبُّ الْقُرْآنَ فَهُوَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ یہ جان لے کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے ؟ تو اسے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا وہ قرآن سے محبت کرتا ہے ؟ تو پھر وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11667
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ فَلْيُثَوِّرِ الْقُرْآنُ ، فَإِنَّ فِيهِ عِلْمَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص علم حاصل کرنا چاہتا ہے ، وہ قرآن کے معانی میں غور و فکر کرے ، کیونکہ اس میں پہلے والوں اور بعد والوں کا علم موجود ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔