حدیث نمبر: 11625
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُعْطِيتُ مَكَانَ التَّوْرَاةِ السَّبْعَ ، وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الزَّبُورِ الْمِئِينَ ، وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الْإِنْجِيلِ الْمَثَانِيَ ، وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے تورات کی جگہ سات ( سورتیں ) عطا کی گئی ہیں ، زبور کی جگہ دو سو ( آیات والی سورتیں ) عطا کی گئی ہیں اور مجھے انجیل کی جگہ ” مثانی “ عطا کی گئیں اور مفصل کے حوالے سے مجھے فضیلت دی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 11626
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَعْطَانِي رَبِّي السَّبْعَ الطُّوَلَ مَكَانَ التَّوْرَاةِ ، وَالْمِئِينَ مَكَانَ الْإِنْجِيلِ ، وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَيُعْتَبَرُ بِحَدِيثِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے پروردگار نے مجھے تورات کی جگہ سات طویل ( سورتیں ) عطا کی ہیں اور انجیل کی جگہ دو سو ( آیتوں والی سورتیں ) عطا کی ہیں اور مفصل سورتوں کے حوالے سے مجھے فضیلت دی گئی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے اس کی حدیث کو معتبر قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے اس کی حدیث کو معتبر قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11627
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ أَنَّ الْقُرْآنَ جُعِلَ فِي إِهَابٍ ، ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ مَا احْتَرَقَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَفَسَّرَهُ بَعْضُ رُوَاةِ أَبِي يَعْلَى بِأَنَّ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ ، ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ فَهُوَ شَرٌّ مِنَ الْخِنْزِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس قرآن کو ، اگر کسی چمڑے میں ڈالا جائے اور پھر اسے آگ میں ڈال دیا جائے ، تو وہ نہیں جلے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ، ابویعلیٰ کے بعض راویوں نے اس کی یہ وضاحت کی ہے : اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص قرآن کا علم حاصل کرنے کے بعد بھی جہنم میں داخل ہو ، تو وہ خنریر سے بھی زیادہ برا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ، ابویعلیٰ کے بعض راویوں نے اس کی یہ وضاحت کی ہے : اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص قرآن کا علم حاصل کرنے کے بعد بھی جہنم میں داخل ہو ، تو وہ خنریر سے بھی زیادہ برا ہے ۔
حدیث نمبر: 11628
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ جُمِعَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ مَا أَحْرَقَتْهُ النَّارُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر قرآن کو کسی چمڑے میں رکھا جائے ، تو آگ اُسے نہیں جلائے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11629
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كَانَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو ، تو آگ اُسے نہیں چھوئے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11630
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْقُرْآنَ غِنًى لَا فَقْرَ بَعْدَهُ ، وَلَا غِنَى دُونَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبَانٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قرآن ایسی خوشحالی ہے کہ اس کے بعد غربت نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی خوشحالی نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابان رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابان رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11631
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْقُرْآنُ لَا فَقْرَ بَعْدَهُ ، وَلَا غِنَى دُونَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کے بعد کوئی غربت نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی خوشحالی نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11632
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَكَأَنَّمَا اسْتُدْرِجَتِ النُّبُوَّةُ بَيْنَ جَنْبَيْهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُوحَى إِلَيْهِ ، وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَرَأَى أَنَّ أَحَدًا أُعْطِيَ أَفْضَلَ مِمَّا أُعْطِيَ فَقَدْ عَظَّمَ مَا صَغَّرَ اللَّهُ ، وَصَغَّرَ مَا عَظَّمَ اللَّهُ ، وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِحَامِلِ الْقُرْآنِ أَنْ يَسْفَهَ فِيمَنْ يَسْفَهُ ، أَوْ يَغْضَبَ فِيمَنْ يَغْضَبُ ، أَوْ يَحْتَدَّ فِيمَنْ يَحْتَدُّ ، وَلَكِنْ يَعْفُو ، وَيَصْفَحُ لِفَضْلِ الْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص قرآن کا علم حاصل کرتا ہے ، تو گویا اس کے دونوں پہلوؤں کے درمیان نبوت ( کے فیوض و برکات ڈال دیے جاتے ہیں ) البتہ یہ ہے کہ اُس کی طرف وحی نہیں کی جاتی اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور پھر یہ سمجھتا ہے کہ جو نعمت اُسے دی گئی ہے ، کسی اور کے پاس ، اُس سے زیادہ فضیلت والی نعمت ہے ، تو اس نے اس چیز کو عظیم قرار دیا ، جسے اللہ نے چھوٹا قرار دیا ہے ، اور اس چیز کو چھوٹا قرار دیا ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے عظمت والا قرار دیا ہے ، قرآن کے عالم کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ دوسروں کی طرح بے وقوفی کا مظاہرہ کرے ، یا دوسروں کی طرح غضب کا مظاہرہ کرے ، یا کسی معاملے میں غصے کا اظہار کرے ، بلکہ اسے معاف کر دینا چاہیے اور درگزر سے کام لینا چاہیئے ، ایسا قرآن کی فضیلت کی وجہ سے کرنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے اور وہ متروک ہے ۔