کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قرأتوں کا بیان ، نیز قرآن کتنے حروف پر نازل ہوا ہے ؟
حدیث نمبر: 11565
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قرآن ، سات حروف پر نازل ہوا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، بزار اور طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11565
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (301/5)»
حدیث نمبر: 11566
عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَقِيتُ جِبْرِيلَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ ، الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالشَّيْخُ الْقَاسِي الَّذِي لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ ، قَالَ : إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد کی سند کے ساتھ ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” احجار مراء “ کے مقام پر ، میری ملاقات جبرائیل سے ہوئی ، میں نے کہا: اے جبرائیل ! مجھے ایک ایسی اُمت کی طرف بھیجا گیا ہے ، جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے ، اس میں مرد ہیں ، خواتین ہیں ، بچے ہیں ، بچیاں ہیں ، بڑی عمر کے لوگ ہیں ، جنہوں نے کبھی کوئی تحریر نہیں پڑھی ، تو جبرائیل نے کہا: بے شک قرآن ، سات حروف پر نازل ہوا ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11566
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (400/5)»
حدیث نمبر: 11567
وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَ جِبْرِيلَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ ، فَقَالَ : " إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ وَإِلَى مَنْ لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ " . قَالَ جِبْرِيلُ : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ . فَقَالَ مِيكَائِيلُ : اسْتَزِدْهُ . فَقَالَ : اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ . فَقَالَ مِيكَائِيلُ : اسْتَزِدْهُ . حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ” احجار مراء “ کے مقام پر ، سیدنا جبرائیل سے ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے ایک ایسی امت کی طرف مبعوث کیا گیا ہے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے ہیں اور ان لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا جنہوں نے کبھی کوئی تحریر نہیں پڑھی تو سیدنا جبرائیل نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو یہ حکم دیتا ہے کہ آپ ایک حرف کے مطابق قرآن پڑھیں سیدنا میکائیل نے کہا: آپ مزید کے بارے میں کہیئے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: ) تو سیدنا جبرائیل نے کہا: آپ دو حروف پر پڑھ لیں سیدنا میکائیل نے کہا: آپ مزید کے بارے میں کہیئے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید کے بارے میں کہا: ) یہاں تک کہ وہ سات حروف تک پہنچ گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2310)»
حدیث نمبر: 11568
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، عَلَى أَيِّ حَرْفٍ قَرَأْتُمْ أَصَبْتُمْ ، فَلَا تُمَارُوا فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ” قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے تم جس بھی حرف کے مطابق تلاوت کرو گے ٹھیک کرو گے تم بحث کا شکار نہ ہونا ، کیونکہ اس کے بارے میں بحث کفر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (204/4)»
حدیث نمبر: 11569
وَعَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : سَمِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ ، فَقَالَ : مَنْ أَقْرَأَكَهَا ؟ قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى غَيْرِ هَذَا . فَذَهَبَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آيَةُ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ قَرَأَهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . وَقَالَ الْآخَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : أَلَيْسَ هَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، فَأَيُّ ذَلِكَ قَرَأْتُمْ فَقَدْ أَصَبْتُمْ ، وَلَا تُمَارُوا فِيهِ فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ أَوْ إِنَّهُ الْكُفْرُ بِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے غلام ابوقیس بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو قرآن کی ایک آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا ، تو اس سے دریافت کیا : تمہیں یہ کس نے پڑھائی ہے ؟ اس نے بتایا : اللہ کے رسول نے ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول نے مجھے تو یہ اس سے مختلف طور پر پڑھائی ہے ، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان دونوں میں سے ایک نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں ، فلاں آیت ، پھر ان صاحب نے وہ آیت تلاوت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ، پھر دوسرے صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہی آیت پڑھی اور دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا یہ اس طرح نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک یہ قرآن ، سات حروف پر نازل ہوا ہے ، تو تم جس بھی قرأت کو کر لو گے ، تم درست کرو گے ، تم اس کے بارے میں بحث کا شکار نہ ہونا ، کیونکہ اس کے بارے میں بحث کرنا کفر ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایسا کرنا اس کا کفر کرنے کے مترادف ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11569
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (205/5)»
حدیث نمبر: 11570
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ : قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ فَغَيَّرَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ . قَالَ : فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَقَرَأَ أَحَدُهُمَا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : " أَحْسَنْتَ " . قَالَ : فَكَأَنَّ عُمَرَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عُمَرُ ، إِنَّ الْقُرْآنَ كُلَّهُ صَوَابٌ مَا لَمْ يُجْعَلْ مَغْفِرَةٌ عَذَابًا أَوْ عَذَابٌ مَغْفِرَةً " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں تلاوت کی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس حوالے سے اس پر اعتراض کیا ، اس نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کو پڑھا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس میں کوئی تبدیلی نہیں کروائی راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ دونوں صاحبان ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے ، تو ان دونوں میں سے ایک نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی تلاوت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم نے ٹھیک تلاوت کی ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس حوالے سے الجھن محسوس ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عمر ! بے شک قرآن پورے کا پورا ٹھیک ہے ، جب تک مغفرت کو عذاب ، یا عذاب کو مغفرت نہ بنا دیا جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (30/4)»
حدیث نمبر: 11571
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ . قَالَ مِيكَائِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اسْتَزِدْهُ ، فَاسْتَزَادَهُ . قَالَ : اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ . قَالَ مِيكَائِيلُ : اسْتَزِدْهُ ، فَاسْتَزَادَهُ . قَالَ : اقْرَأْ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ . قَالَ مِيكَائِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اسْتَزِدْهُ ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ . قَالَ : كُلٌّ شَافٍ كَافٍ مَا لَمْ يَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ ، أَوْ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ ، نَحْوُ قَوْلِكَ : تَعَالَ وَأَقْبِلْ ، وَهَلُمَّ وَاذْهَبْ ، وَأَسْرِعْ وَاعْجَلْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَاذْهَبْ وَأَدْبِرْ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ وَقَدْ تُوبِعَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی : اے سیدنا محمد ! آپ قرآن کو ایک حرف کے مطابق پڑھیں تو سیدنا میکائیل نے کہا: آپ مزید کے بارے میں کہیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزید کے بارے میں کہا: ، تو سیدنا جبرائیل نے کہا: آپ اس کو دو حروف کے مطابق پڑھ لیں ، سیدنا میکائیل نے کہا: آپ مزید کے بارے میں کہیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزید کے بارے میں کہا: ، تو انہوں نے کہا: آپ تین حروف کے مطابق پڑھ لیں ، سیدنا میکائیل نے کہا: آپ مزید کے بارے میں کہیے ، یہاں تک کہ سات حروف تک پہنچ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یا سیدنا جبرائیل نے ) ارشاد فرمایا : سب کافی و شافی ہیں ، جب تک عذاب سے متعلق آیت کو رحمت ، یا رحمت سے متعلق آیت کو عذاب والی نہ بنا دیا جائے ، جیسے آپ کا یہ کہنا : تعال ، یا اقبل ( دونوں کا مطلب یہی ہے کہ تم آ جاؤ ) یا ھلم یا اذہب ( دونوں کا مطلب یہی ہے کہ چلے جاؤ ) یا اسرع ، اور اعجل ( دونوں کا مطلب یہی ہے کہ تم جلدی کرو ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” اذہب اور ادبر “ ( یعنی تم چلے جاؤ ) نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اس کی متابعت کی گئی ہے امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11571
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغیرہ
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (51/5)»
حدیث نمبر: 11572
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلَ ، وَهُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ ، فَقَالَ : " إِنَّ أُمَّتُكَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، فَمَنْ قَرَأَ مِنْهُمْ عَلَى حَرْفٍ فَلْيَقْرَأْ كَمَا عَلِمَ وَلَا يَرْجِعْ عَنْهُ " ، وَقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : " إِنَّ مِنْ أُمَّتِكَ الضَّعِيفَ فَمَنْ قَرَأَ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَتَحَوَّلْ إِلَى غَيْرِهِ رَغْبَةً عَنْهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ، سیدنا جبرائیل سے ہوئی ، آپ اس وقت ” احجار مراء “ کے مقام پر تھے ، سیدنا جبرائیل نے کہا: آپ کی امت قرآن کو سات حروف پر تلاوت کرے گی ، ان میں سے جو شخص ، جس بھی حرف کے مطابق تلاوت سیکھے گا ، وہ اس کے مطابق تلاوت کرے ، جس کی اس نے تعلیم حاصل کی ہے اور اس کو نہ چھوڑے ۔ ابن مہدی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آپ کی امت میں کمزور لوگ بھی ہیں ، تو جو شخص ایک مخصوص حرف کے مطابق تلاوت سیکھے ، تو وہ اس کو چھوڑ کر دوسری کی طرف منتقل نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11572
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11573
وَعَنْ أَبِي الْجُهَيْمِ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ ، قَالَ هَذَا : تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الْآخَرُ : تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَسَأَلَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " الْقُرْآنُ يُقْرَأُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، فَلَا تُمَارُوا فِي الْقُرْآنِ فَإِنَّ مِرَاءً فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجہیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمیوں کے درمیان قرآن کی ایک آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، ایک نے کہا: میں نے یہ آیت خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی ہے ، دوسرے نے کہا: میں نے بھی یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی ہے ، ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کو سات حروف پر پڑھا جا سکتا ہے ، تو تم لوگ قرآن کے بارے میں اختلاف کا شکار نہ ہو ، کیونکہ قرآن میں اختلاف کرنا ( یا بحث کرنا ) کفر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11573
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (169/4)»
حدیث نمبر: 11574
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَمَا عَرَفْتُمْ فَاعْمَلُوا بِهِ ، وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرَدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ " ،
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے اور قرآن کے بارے میں اختلاف کرنا ( یا بحث کرنا ) کفر ہے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، جب تم اس کا علم حاصل کر لو ، تو اس پر عمل کرو اور جس چیز سے تم نا واقف ہو ، اُس کا حکم ، اس کے عالم فرد کی طرف لوٹا دو “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11574
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6016) اخرجه احمد فى المسند (7976)»
حدیث نمبر: 11575
وَفِي رِوَايَةٍ " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " عَلِيمًا حَكِيمًا غَفُورًا رَحِيمًا " . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” قرآن کو سات حروف پر نازل کیا گیا ہے ( جیسے ) علم رکھنے والا ، حکمت والا ۔ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ۔ یہ تمام روایات دو اسناد کے ساتھ منقول ہیں ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین مرتبہ قرآن پڑھا گیا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہماری قرات ہی آخری قرأت ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ ان کی روایت کے یہ الفاظ حدیث کا حصہ ہیں ، یا نہیں ہیں ؟ یعنی یہ الفاظ : ” کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری قرأت ہی“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11575
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2313) اخرجه احمد فى المسند (332 و 340)»
حدیث نمبر: 11575
وَعَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : عُرِضَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ . قَالَ : فَيَرَوْنَ أَنَّ قِرَاءَتَنَا هِيَ الْأَخِيرَةُ ، فَلَا أَدْرِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، أَوْ غَيْرِهِ - يَعْنِي فَيَرَوْنَ أَنَّ قِرَاءَتَنَا - . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ (بن جندب) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «قرآنِ مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تین بار پیش کیا گیا (دہرایا گیا) » ۔ (راوی کہتے ہیں : ) وہ (علماء و صحابہ) سمجھتے تھے کہ ہماری یہ (عام) قرائت وہی آخری پیشی والی (عرضہِ اخیرہ کے مطابق) ہے ؛ (راوی کہتے ہیں : ) اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ جملہ — یعنی ” وہ سمجھتے تھے کہ ہماری قرٱت وہی آخری قرٱت ہے “ — اسی حدیث کا حصہ ہے یا کسی دوسری روایت سے ہے ۔
اسے امام بزار رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کے تمام راوی صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11575
حدیث نمبر: 11576
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قرآن ، سات حروف پر نازل ہوا ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11576
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (16/5)»
حدیث نمبر: 11577
وَفِي رِوَايَةٍ " ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ ، وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تین حروف ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال اور امام طبرانی کی دو میں سے ایک سند کے رجال اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11577
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2316 و 2314) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6853) اخرجه احمد فى المسند (22/5)»
حدیث نمبر: 11578
وَعَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ - يَعْنِي سَيَّارَ بْنَ سَلَامَةَ - قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ يَوْمًا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : أُذَكِّرُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهَا شَافٍ كَافٍ " . لَمَّا قَامَ ، فَقَامُوا حَتَّى لَمْ يُحْصَوْا ، فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهَا شَافٍ كَافٍ " . فَقَالَ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : وَأَنَا أَشْهَدُ مَعَهُمْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
ابومنہال سیار بن سلامہ بیان کرتے ہیں : ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک دن سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جب منبر پر موجود تھے تو انہوں نے یہ فرمایا : کہ میں اُس شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے ، جن میں سے ہر ایک کافی و شافی ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابھی وہ کھڑے ہوئے تھے کہ اسی دوران اتنے لوگ کھڑے ہو گئے کہ انہیں شمار نہیں کیا جا سکتا تھا اور ان لوگوں نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے اور ان میں سے ہر ایک کافی و شافی ہے “ ۔ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان لوگوں کے ساتھ میں بھی ( اس بات کے حوالے سے ) گواہ ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11578
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10090)»
حدیث نمبر: 11579
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، لِكُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ظَهْرٌ وَبَطْنٌ " . وَنَهَى أَنْ يَسْتَلْقِيَ الرَّجُلُ - أَحْسَبُهُ قَالَ - فِي الْمَسْجِدِ وَيَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ " لِكُلِّ حَرْفٍ مِنْهَا بَطْنٌ وَظَهْرٌ " ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارِ آخِرِهِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . وَرِوَايَةُ الْبَزَّارِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ فِي آخِرِهَا : لَمْ يَرْوِ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ ، قُلْتُ : وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ إِنَّمَا رَوَى عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ أَبَا إِسْحَاقَ السَّبِيعِيَّ ، فَرِجَالُ الْبَزَّارِ أَيْضًا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے اور اس کی ہر آیت کا ایک ظاہری پہلو ہے اور ایک باطنی پہلو ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ آدمی چٹ لیٹے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” مسجد میں ، اور ایک پاؤں دوسرے پر رکھ لے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اس کے ہر حرف کا ایک باطنی پہلو ہے اور ایک ظاہری پہلو ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کے آخری حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔ امام بزار کی روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ یہ محمد بن عجلان کے حوالے سے ابواسحاق سے منقول ہے اس کے آخر میں انہوں نے یہ کہا: ہے کہ محمد بن عجلان نے ابراہیم ہجری کے حوالے سے اس کے علاوہ کوئی اور روایت نقل نہیں کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : محمد بن عجلان نے ابواسحاق سبعیی سے روایات نقل کی ہیں اگر تو اس سے مراد ابواسحاق سبعیی ہے ، تو پھر امام بزار کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11579
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 11580
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَقْرَأَ الْقُرْآنَ كَمَا أَقْرَأَنَاهُ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ أُنْزِلَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ ، فَلَا تُحَاجُّوا فِيهِ ، فَإِنَّهُ مُبَارَكٌ كُلُّهُ ، فَاقْرَءُوهُ كَالَّذِي أُقْرِئْتُمُوهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَقَالَ : " لَا تُجَافُوا عَنْهُ " بَدَلَ " وَلَا تُحَاجُّوا فِيهِ " ، وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ مُخْتَصَرَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم قرآن اس طرح پڑھیں ، جس طرح آپ نے ہمیں قرآن پڑھنا سکھایا ہے ، آپ یہ فرماتے تھے : ” یہ تین حروف پر نازل ہوا ہے ، تم اس کے بارے میں اختلاف نہ کرو ، کیونکہ یہ پورے کا پورا ، برکت والا ہے ، تم اسے اسی طرح پڑھو ، جس طرح تمہیں پڑھنا سکھایا گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم اس سے الگ نہ ہو “ انہوں نے ” تم اس کے بارے میں بحث نہ کرو “ کی جگہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں ، ان دونوں کی سند ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے اس کا ایک طریق گزر چکا ہے ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور وہ روایت مختصر ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11580
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن دیگر معتبر سند
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2316) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7032)»
حدیث نمبر: 11581
وَعَنْ فُلْفُلَةَ الْجُعْفِيِّ قَالَ : فَزِعْتُ فِيمَنْ فَزِعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فِي الْمَصَاحِفِ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنَّا لَمْ نَأْتِكَ زَائِرِينَ ، وَلَكِنْ جِئْنَاكَ حِينَ رَاعَنَا هَذَا الْخَبَرُ . فَقَالَ : إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ ] عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ - أَوْ قَالَ : عَلَى حُرُوفٍ - وَإِنَّ الْكِتَابَ قَبْلَهُ كَانَ يَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ . قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ حَسَّانَ الْعَامِرِيُّ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
فلفلہ جعفی بیان کرتے ہیں : میں بھی اُن لوگوں میں شامل تھا ، جو قرآن کے بارے میں پریشانی کا شکار ہوئے تھے اور اس حوالے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب ہم ان کے پاس آئے ، تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: کہ ہم آپ کے پاس ملنے کے لئے نہیں آئے ہیں ، بلکہ ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس بارے میں یہ اطلاع ملی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : یہ قرآن تمہارے نبی پر سات ابواب سے سات حروف پر نازل ہوا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اور اس سے پہلے کی ( ہر الہامی ) کتاب ، ایک دروازے سے ، ایک حروف کے مطابق نازل ہوتی تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُن کے حوالے سے ” صحیح “ میں اس کے علاوہ روایت منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن حسان عامری ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے انہوں نے اس پر کوئی جرح نہیں کی اور اس کی توثیق نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11581
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (4252)»
حدیث نمبر: 11582
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ : حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمَا سَمَّاهُ لَنَا قَالَ : لَمَّا أَرَادَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مِنْ أَفْضَلِ مَا أَصْبَحَ فِي أَجْنَادِ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الدِّينِ ، وَالْفِقْهِ ، وَالْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ لَا يَخْتَلِفُ وَلَا يُسْتَشَنُّ ، وَلَا يَتْفَهُ لِكَثْرَةِ الرَّدِّ ، فَمَنْ قَرَأَهُ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ ، وَمَنْ قَرَأَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ تِلْكَ الْحُرُوفِ الَّتِي عَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَجْحَدْ بِآيَةٍ مِنْهُ يَجْحَدْ بِهِ كُلِّهِ ، فَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ اعْجَلْ وَحَيَّ هَلًا . قُلْتُ : رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن عابس بیان کرتے ہیں : ہمدان سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جن کا تعلق سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے ہے ، انہوں نے ہمیں یہ بات بتائی راوی بیان کرتے ہیں عبدالرحمن نے ان صاحب کا نام بیان نہیں کیا ، وہ صاحب بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے شاگردوں کو جمع کیا اور فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے یہ امید ہے کہ دین ، اس کی سمجھ بوجھ اور قرآن کے علم کے حوالے سے ، تم لوگوں کی صورت حال ، مسلمانوں کے لشکروں میں سے ، سب سے بہتر ہے اور اس قرآن میں اختلاف نہیں پایا جاتا ، اور یہ پرانا نہیں ہوتا اور بکثرت پڑھنے کی وجہ سے یہ بوسیدہ نہیں ہوتا ، جو شخص ایک طریقے کے مطابق اس کو پڑھے ، تو وہ اس سے منہ پھیرتے ہوئے ، اس کو نہ چھوڑے ، اور جو شخص ان حروف میں سے کوئی چیز پڑھے ، جن کی تعلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ، تو وہ اُس سے منہ پھیرتے ہوئے ، اس کو نہ چھوڑے ، کیونکہ جو شخص اس کی ایک آیت کا انکار کرے گا ، وہ اس کے پورے وجود ) کا انکار کرنے کے مترادف ہو گا اور تمہارا کسی دوسرے شخص کو یہ کہنے کی مانند ہو گا ” اعجل ، حی ، ھلا ( یعنی آ جاؤ ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11582
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (3845)»
حدیث نمبر: 11583
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : " إِنَّ الْكُتُبَ كَانَتْ تَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ : حَلَالٌ ، وَحَرَامٌ ، وَمُحْكَمٌ ، وَمُتَشَابِهٌ ، وَضَرْبُ أَمْثَالٍ ، وَأَمْرٌ ، وَزَجْرٌ . فَأَحِلَّ حَلَالَهُ ، وَحَرِّمْ حَرَامَهُ ، وَاعْمَلْ بِمُحْكَمِهِ ، وَقِفْ عِنْدَ مُتَشَابِهِهِ ، وَاعْتَبِرْ أَمْثَالَهُ ، فَإِنَّ كُلًّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” بے شک ( دوسری الہامی ) کتابیں ، آسمان سے ایک ہی دروازے سے نازل ہوئی ہیں اور قرآن سات دروازوں سے سات حروف پر نازل ہوا ہے ، حلال ، حرام ، محکم ، متشابہ ، مثالیں بیان کرنا ، امر اور زجر ( کسی بات سے روکنا ) تو تم اس کے حلال کو حلال قرار دو ، اس کے حرام کو حرام سمجھو ، اس کے محکم پر عمل کرو ، اس کے متشابہ پر خاموش ہو جاؤ ، اس کی مثالوں سے نصیحت حاصل کرو ، کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ، اور صرف عقل مند لوگ ہی ( اس سے ) نصیحت حاصل کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے “ اس کی سند میں ایک راوی عمار بن مطر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، بعض حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11583
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8296)»
حدیث نمبر: 11584
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ لَيْسَ مِنْهُ حَرْفٌ إِلَّا لَهُ حَدٌّ ، وَلِكُلِّ حَدٍّ مَطْلَعٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” بے شک اس قرآن کے ، ہر ایک حرف کی مخصوص حد ہے اور ہر حد کا ایک مطلع ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11584
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8668)»
حدیث نمبر: 11585
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، وَمِرَاءٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن ، سات حروف پر نازل ہوا ہے ، اور قرآن کے بارے میں بحث ( یا اختلاف ) کرنا کفر ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11585
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2313)»
حدیث نمبر: 11586
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهَا شَافٍ كَافٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ أَبُو حَمْزَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے اور یہ پورے کا پورا ، شافی و کافی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوحمزہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11586
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 11587
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدَ قَالَ : أَتَى مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَلَكَانِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ . فَقَالَ الْآخَرُ : زِدْهُ . فَمَا زَالَ يَسْتَزِيدُهُ حَتَّى قَالَ : اقْرَأْ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرٌ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو فرشتے آئے ان میں سے ایک نے کہا: کہ آپ قرآن ایک حرف کے مطابق پڑھیں ، تو دوسرے فرشتے نے کہا: آپ اس کو مزید کے لیے کہیں ، تو آپ مسلسل مزید دینے کے لئے کہتے رہے ، یہاں تک کہ اس فرشتے نے کہا: آپ سات حروف کے مطابق پڑھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11587
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1189)»
حدیث نمبر: 11588
وَعَنْ زَيْدٍ الْقَصَّارِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : كُنَّا مَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَحَدَّثَنَا سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَقْرَأَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ سُورَةً ، وَأَقْرَأَنِيهَا زَيْدٌ ، وَأَقْرَأَنِيهَا أَبِي ، فَاخْتَلَفَتْ قِرَاءَتُهُمْ ، فَقِرَاءَةُ أَيِّهِمْ آخُذُ ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ وَعَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - جَنْبَهُ ] فَقَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : لِيَقْرَأْ كُلُّ إِنْسَانٍ كَمَا عَلِمَ ، فَكُلٌّ حَسَنٌ جَمِيلٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ قِرْطَاسٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
زید قصار ، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ہم ان کے ساتھ مسجد میں موجود تھے انہوں نے ہمیں کچھ دیر احادیث بیان کیں ، پھر انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک سورت سکھائی ہے ، وہی سورت ، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے پڑھائی ہے ، وہی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے پڑھائی ہے تو ان کی قرأت کے درمیان اختلاف ہے ، تو میں اُن میں سے کس کی قرأت کو اختیار کروں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں موجود تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” ہر انسان کو اس طرح پڑھنا چاہیے ، جس طرح اُسے سکھایا گیا ہو ، یہ سب اچھا اور خوبصورت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن قرطاس ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11588
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 11589
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : أُنْزِلَ الْقُرْآنُ [ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ ] عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهَا شَافٍ كَافٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” قرآن ، سات دروازوں سے ، سات حروف پر نازل کیا گیا ہے ، یہ پورے کا پورا ، شافی و کافی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11589
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (150/20)»
حدیث نمبر: 11590
وَعَنْ أُمِّ أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، أَيَّهَا قَرَأْتَ أَصَبْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام ایوب رضی اللہ عنہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” قرآن ، سات حروف پر نازل ہوا ہے ، تم جس کے مطابق تلاوت کرو گے ، ٹھیک کرو گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11590
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8677)»