حدیث نمبر: 11591
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ : " قُلُوبُنَا غُلَّفٌ " مُثْقَلَةٌ أَوْعِيَةٌ لِلْحِكْمَةِ ، كَيْفَ بِمُعَلِّمٍ ، وَإِنَّمَا قُلُوبُنَا أَوْعِيَةٌ لِلْحِكْمَةِ ، أَيْ : أَوْعِيَةٌ لِلْحِكْمَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ الفاظ یوں پڑھتے : «قُلُوبُنَا غُلَّفٌ» یعنی ’ شد ، کے ساتھ پڑھتے تھے یعنی یہ حکمت کے برتن ہیں ، یعنی ان کی تعلیم کیسے دی جا سکتی ہے ، جبکہ ہمارے دل حکمت کے برتن ہیں ، یعنی حکمت کے برتن ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11592
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَرَأَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ سُورَةً أَقْرَأَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَا يَقْرَآنِهَا ، فَقَامَا ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّيَانِ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا مِمَّا نُسِخَ أَوْ أُنْسِيَ فَالْهُوا عَنْهَا " . وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَقْرَأُ : "مَا نَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِيهَا " بِضَمِّ النُّونِ مُخَفَّفَةً خَفِيفَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں نے ایک سورت پڑھی ، وہ سورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو سکھائی تھی ، وہ دونوں اُس کو پڑھ رہے تھے ، ایک رات وہ دونوں نماز ادا کر رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ان میں سے ہے ، جسے نسخ کر دیا گیا ہے ، یا جسے بھلا دیا گیا ، تو تم دونوں اس سے غافل ہو جاؤ گے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : زہری اس آیت کو یوں پڑھا کرتے تھے : ” ہم جو بھی آیت منسوخ کرتے ہیں ، یا اُسے بھلا دیتے ہیں “ یعنی ” ان “ پر پیش پڑھتے تھے اور اُسے تخفیف کے ساتھ پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11593
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ فِي عَهْدِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَاسْتَكْتَبَتْنِي حَفْصَةُ مُصْحَفًا ، وَقَالَتْ : إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَلَا تَكْتُبْهَا حَتَّى تَأْتِيَنِي بِهَا فَأُمْلِيَهَا عَلَيْكَ كَمَا حَفِظْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَلَمَّا بَلَغْتُهَا جِئْتُهَا بِالْوَرَقَةِ الَّتِي أَكْتُبُهَا فِيهَا ، فَقَالَتْ : اكْتُبْ : " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى ) وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ( وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ) " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام عمرو بن رافع بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے زمانہ میں قرآن مجید لکھا کرتے تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے قرآن مجید لکھوایا اور یہ فرمایا : جب تم سورت بقرہ کی اس آیت پر پہنچو گے ، تو اسے تم اس وقت تک نہ لکھنا ، جب تک تم پہلے میرے پاس نہیں لے آتے ، میں یہ تمہیں اُس طرح املا کرواؤں گی ، جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر یہ یاد رکھی ہے ، راوی کہتے ہیں : جب میں اُس مقام پر پہنچا ، تو میں وہ ورقہ لے کے آیا ، جس میں ، میں نے وہ آیت لکھنی تھی ، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم یہ لکھو : ” تم نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی اور عصر کی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11594
وَعَنْ أَبِي خَالِدٍ الْكِنَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا : "الْحَيُّ الْقَيَّامُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو خَالِدٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوخالد کنانی ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ اس کو یوں پڑھتے تھے :
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابوخالد نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابوخالد نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11595
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ : "وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ" بِنَصْبِ النَّفْسِ ، وَرَفْعِ الْعَيْنِ . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ قَوْلِهِ : نَصْبِ النَّفْسِ ، وَرَفْعِ الْعَيْنِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور ہم نے اس کتاب میں ، اُن پر یہ لازم قرار دیا تھا کہ جان کا بدلہ جان ، اور آنکھ کا بدلہ آنکھ ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ” نفس “ پر ” زبر “ پڑھی اور لفظ ” عین “ پر پیش پڑھی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : لفظ ” نفس “ پر ” زبر “ پڑھی اور لفظ ” عین “ پر ” پیش “ پڑھی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعلی بن یزید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : لفظ ” نفس “ پر ” زبر “ پڑھی اور لفظ ” عین “ پر ” پیش “ پڑھی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعلی بن یزید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 11596
وَعَنْ مَسْعُودِ بْنِ يَزِيدَ الْكِنْدِيِّ قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يُقْرِئُ رَجُلًا ، فَقَرَأَ الرَّجُلُ : " إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ " مُرْسَلَةً . فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : مَا هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَيْفَ أَقْرَأَكَهَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : أَقْرَأَنِيهَا : " إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ " فَمَدِّدُوهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مسعود بن یزید کندی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک شخص کو پڑھا رہے تھے ، اُس شخص نے یہ آیت پڑھی : ” بے شک صدقات ، غریبوں اور مسکینوں کے لئے ہیں “ ۔ یعنی اس نے اسے ” مرسل “ طور پر پڑھا ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول نے مجھے یہ اس طرح نہیں پڑھائی ہے ، اس نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! انہوں نے آپ کو یہ کیسے پڑھائی ہے ؟ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہوں نے مجھے یوں پڑھائی ہے : ” بے شک صدقات ، غریبوں اور مسکینوں کے لئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور پھر انہوں نے اُسے کھینچا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11597
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ : "مَجْرَاهَا وَمَرْسَاهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ اس آیت کو یوں پڑھتے تھے : «مجراها وَمَرْسَاهَا»
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11598
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ الْأَزْرَقِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو یوں پڑھا : ” بے شک یہ ایسا عمل ہے ، جو نیک نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید بن ازرق ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید بن ازرق ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11599
وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ : قُلْنَا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ : ( هِيتَ لَكَ ) فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَا ( هَيْتَ لَكَ ) إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ ، وَأَنْ أَقْرَأَ كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَيَّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
شقیق بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، ہم نے یہ پڑھا : ” «هيت لك» “ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! ” «هَيْتَ لَك» “ پڑھو ، ہم نے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : میں اس طرح پڑھوں جس طرح مجھے تعلیم دی گئی ہے یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11600
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "وَمِنْ عِنْدِهِ عُلِمَ الْكِتَابُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11601
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ قَرَأَ : "أَيْنَمَا يُوَجَّهُ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی : ” اس کا رُخ جس طرف بھی کیا جائے ، وہ بھلائی نہیں لائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11602
وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَقْرَأُ : "وَقَضَى رَبُّكَ أَلَا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
اعمش بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے تھے : ” اور تمہارے پروردگار نے یہ طے کیا ہے کہ تم لوگ صرف اُسی کی عبادت کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند منقطع ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند منقطع ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11603
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ ( فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، عَنْ شَيْخِهِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْمِصْرِيِّ ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : «فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ» ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں ، اپنے استاد ولید بن عباس مصری کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں ، اپنے استاد ولید بن عباس مصری کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 11604
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَدْ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا ، وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يُقْرَأُ هَذَا الْحَرْفُ : "وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عُتِيًّا" أَوْ عُسِيًّا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے پوری سنت کو یاد رکھا ہے ، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ قرآن میں یہ حرف کیسے پڑھا جائے گا : ﴿وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عَتِيًّا﴾ پڑھا جائے گا یا اس کو «عسيا» پڑھا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11605
وَعَنْ تَمِيمِ بْنِ حَذْلَمٍ قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ الْقُرْآنَ ، فَلَمْ يَأْخُذْ عَلَيَّ إِلَّا حَرْفَيْنِ ، قُلْتُ : "وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ" ، قَالَ : "وَكُلٌّ آتَوْهُ دَاخِرِينَ" . وَقُلْتُ : "حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا" قَالَ : "وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِّبُوا" . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
تمیم بن حذلم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے پورا قرآن پڑھا ، انہوں نے صرف دو مقام پر میری غلطی نکالی ، میں نے پڑھا تھا : «وَكُلٌّ آتَوُهُ دَاخِرِينَ» تو انہوں نے کہا: «وَكُلُّ أَتَوْهُ دَاخِرِين» میں نے یہ پڑھا تھا : «حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا» تو انہوں نے پڑھا : «وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا ۔ »
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11606
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَرَأَ : "بَلْ عَجِبْتُ وَيَسْخَرُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَالْإِسْنَادُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی : ﴿بَلْ عَجِبْتُ وَيَسْخَرُونَ﴾
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 11607
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ "بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمٌ الْجَحْدَرِيُّ ، وَهُوَ قَارِئٌ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : قِرَاءَتُهُ شَاذَّةٌ ، وَفِيهَا مَا يُنْكَرُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ ، وَلَمْ يَسْمَعْ عَاصِمٌ مِنْ أَبِي بَكْرَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” جی ہاں ! بلکہ تمہارے پاس میری آیات آ گئیں اور تم نے اُن کی تکذیب کی اور تم نے تکبر کیا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم جحدری ہے اور وہ قرآن کا عالم ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : اس کی قرأت شاذ ہوتی ہے اور اس کی قرات میں منکر چیزیں ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، عاصم نے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم جحدری ہے اور وہ قرآن کا عالم ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : اس کی قرأت شاذ ہوتی ہے اور اس کی قرات میں منکر چیزیں ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، عاصم نے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 11608
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ : "عَلَى رَفَارِفَ خُضْرٍ وَعَبَاقِرِيَّ حِسَانٍ" . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمٌ الْجَحْدَرِيُّ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ قَبْلَ هَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیات پڑھا کرتے تھے :
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم جحدری ہے ، جس کے بارے میں کلام ، اس سے پہلے والی حدیث میں گزر چکا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم جحدری ہے ، جس کے بارے میں کلام ، اس سے پہلے والی حدیث میں گزر چکا ہے ۔
حدیث نمبر: 11609
وَعَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ : "وَالنَّخْلَ بَاصِقَاتٍ" بِالصَّادِّ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ ، وَغَيْرِهِ بِالسِّينِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صُبَيْحٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : «وَالنَّخْلَ بَاصِقَاتٍ» ، یعنی یہ ” ص “ کے ساتھ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ لفظ ” صحیح “ میں اور دیگر کتابوں میں ” س“ کے ساتھ ( یعنی «وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ» ) مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اپنے استاد عبیداللہ بن محمد بن صبیح کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ لفظ ” صحیح “ میں اور دیگر کتابوں میں ” س“ کے ساتھ ( یعنی «وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ» ) مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اپنے استاد عبیداللہ بن محمد بن صبیح کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11610
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ : "فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ﴿فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ﴾
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11611
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُورَةَ الْوَاقِعَةِ ، فَلَمَّا بَلَغْتُ "فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ" قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا ابْنَ عُمَرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورت واقعہ پڑھی ، جب میں اس مقام پر پہنچا «فَروخ و ريحان» تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اے ابن عمر ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے والی روایت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے والی روایت کی ہے ۔
حدیث نمبر: 11612
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ "فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی :
﴿فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيم ﴾
” وہ یوں پیں گے ، جیسے سخت پیاسے اونٹ پیتے ہیں “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
﴿فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيم ﴾
” وہ یوں پیں گے ، جیسے سخت پیاسے اونٹ پیتے ہیں “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 11613
وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - "وَأَقْوَمُ قِيلًا" قَالَ : وَأَصْدَقُ . فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهَا تُقْرَأُ : وَأَقْوَمُ ، فَقَالَ : أَقْوَمُ وَأَصْدَقُ وَاحِدٌ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَأَصْوَبُ قِيلًا ، وَقَالَ : إِنَّ أَقْوَمَ وَأَصْوَبَ ، وَأَهْيَأَ ، وَأَشْبَاهَ هَذَا وَاحِدٌ ، وَلَمْ يَقُلِ الْأَعْمَشُ سَمِعْتُ أَنَسًا ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّوْعِ فِي سُوَرِهَا . ¤
محمد محی الدین
اعمش بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا : «وَ أَقْوَمُ قِيلًا» انہوں نے فرمایا : «واصدق» بھی ہو سکتا ہے ، اُن سے کہا: گیا : آپ تو «واقوم» پڑھتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : ” اقوم “ اور ” اصدق“ ایک ہی مطلب رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : «و اصوب قيلا» انہوں نے یہ فرمایا کہ اقوم ، اصوب ، احیا اور اس جیسے دیگر الفاظ ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں اور اس میں اعمش نے یہ بات نہیں کہی ہے کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو سنا ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث ، اس متعلقہ سورت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : «و اصوب قيلا» انہوں نے یہ فرمایا کہ اقوم ، اصوب ، احیا اور اس جیسے دیگر الفاظ ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں اور اس میں اعمش نے یہ بات نہیں کہی ہے کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو سنا ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث ، اس متعلقہ سورت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔