حدیث نمبر: 11556
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ - يَعْنِي يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ - قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ ، وَالنَّاسُ يَعْتَقِبُونَ ، وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ ، فَحَانَتْ نَزْلَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَزْلَتِي ، فَلَحِقَنِي مِنْ بَعْدِي فَضَرَبَ مَنْكِبَيَّ ، فَقَالَ : " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ " . فَقُلْتُ : أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ . فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ، فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ ، قَالَ : " إِذَا أَنْتَ صَلَّيْتَ فَاقْرَأْ بِهِمَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوالعلاء یزید بن عبدالله بن شخیر بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے یہ بات بیان کی ہے : ہم ایک سفر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، لوگ باری ، باری سواریوں پر سوار ہوتے تھے ، سواریاں کم تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُترنے اور میرے اترنے کا موقع آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، آپ نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا ، اور فرمایا : تم ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [الفلق : 1] پڑھو ، تو میں ﴿أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ پڑھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوری سورت تلاوت کی ، میں نے بھی آپ کی پیروی میں اس کو پڑھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” تم ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [الناس : 1] پڑھو “، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت تلاوت کی ، میں نے بھی آپ کے ساتھ اس کو پڑھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز ادا کرو ، تو تم ان دونوں ( سورتوں ) کی تلاوت کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11557
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : ثُمَّ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ سُوَرًا مَا أُنْزِلَ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهُنَّ ؟ لَا تَأْتِي لَيْلَةٌ إِلَّا قَرَأْتُ بِهِنَّ فِيهَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ " . قُلْتُ : حَدِيثُ عُقْبَةَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے عقبہ بن عامر ! کیا میں تمہیں ایسی سورتوں کی تعلیم نہ دوں کہ تورات میں ، نہ زبور میں ، نہ انجیل میں ، اور نہ ہی قرآن میں ، اُن جیسی سورتیں نازل ہوئی ہیں ؟ جو بھی رات آتی ہیں ، میں اُس میں اِن کی تلاوت کرتا ہوں ( وہ سورتیں یہ ہیں : ) سورت اخلاص ، سورت فلق اور سورت ناس “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں اس کی بہ نسبت اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11558
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ مِثْلُهُنَّ : الْمُعَوِّذَتَيْنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھ پر ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ مجھ پر ان جیسی ( آیات ) نازل نہیں ہوئی ہیں ، وہ معوذتین ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11559
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عُمْرَةٍ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَطْنِ وَاقِمٍ اسْتَقْبَلَتْنَا ضَبَابَةٌ فَأَضَلَّتْنَا الطَّرِيقَ ، فَلَمْ نَشْعُرْ حَتَّى طَلَعْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَلِكَ عَدَلَ إِلَى كَثِيبٍ فَأَنَاخَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَامَ وَقَامَ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَمَا زَالَ يُصَلِّي حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَأْسِ نَاقَتِهِ ، ثُمَّ مَشَى وَعَبْدُ اللَّهِ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى جَنْبِهِ ، مَا أَحَدٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَهُ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " قُلْ " . قُلْتُ : مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، حَتَّى فَرَغْتُ مِنْهَا . ثُمَّ قَالَ : " قُلْ " . قُلْتُ : مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ، حَتَّى فَرَغْتُ مِنْهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَكَذَا فَتَعَوَّذْ ، فَمَا تَعَوَّذَ الْعِبَادُ بِمِثْلِهِنَّ قَطُّ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اور سیدنا عبداللہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عمرے میں (سفر پر) تھے ، یہاں تک کہ جب ہم بطنِ واقم کے مقام پر پہنچے تو ہمیں شدید دھند (یا بادل) نے آ گھیرا اور ہم راستہ بھول گئے ۔ ہمیں خبر ہی نہ ہوئی یہاں تک کہ ہم ایک گھاٹی پر جا نکلے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ریت کے ٹیلے کی طرف مڑے اور وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لیے ) کھڑے ہو گئے اور اللہ نے جن کو چاہا وہ بھی آپ کے ساتھ (نماز میں) کھڑے ہو گئے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کی مَہار (نکیل) پکڑی اور پیدل چلنے لگے اور عبداللہ اسلمی رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ ساتھ تھے ، (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے علاوہ کوئی اور نہ تھا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا (مبارک) ہاتھ ان کے سینے پر رکھا اور فرمایا : ” پڑھو ! “ ۔ میں نے عرض کیا : میں کیا پڑھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ - مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾ ، یہاں تک کہ میں اس (پوری سورت) سے فارغ ہو گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” پڑھو ! “۔ میں نے عرض کیا : میں کیا پڑھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ ، یہاں تک کہ میں اس (پوری سورت) سے بھی فارغ ہو گیا ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسی طرح پناہ مانگو ، کیونکہ بندوں نے ان سورتوں کے جیسے کلمات سے کبھی پناہ نہیں مانگی “ ۔
(اسے امام بزار رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں) ۔
(اسے امام بزار رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں) ۔
حدیث نمبر: 11560
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الشَّيْطَانَ وَاضِعٌ خَطْمَهُ عَلَى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ ، فَإِنْ ذَكَرَ اللَّهَ خَنَسَ ، وَإِنْ نَسِيَ الْتَقَمَ قَلْبَهُ ، فَذَلِكَ الْوَسْوَاسُ الْخَنَّاسُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ أَبِي عُمَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شیطان ، انسان کے دل پر اپنی لگام ڈال دیتا ہے اگر آدمی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اگر آدمی ( اللہ کا ذکر کرنا ) بھول جائے تو شیطان اس کے دل کو نگل لیتا ہے اور یہی وسوسے ڈالنے والا اور پیچھے ہٹنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عدی بن عمارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عدی بن عمارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11561
وَعَنْ زِرٍّ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي : إِنَّ أَخَاكَ يَحُكُّهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ . قِيلَ لِسُفْيَانَ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمْ يُنْكِرْ . قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " قِيلَ لِي فَقُلْتُ " . فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا حَكَّهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے بھائی قرآن مجید میں سے ، ان دو سورتوں کو مٹا دیتے ہیں ، یہاں سفیان نامی راوی سے دریافت کیا گیا : کیا اُن کی مراد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ؟ تو سفیان نے اس بات کا انکار نہیں کیا ، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے زر کو جواب دیا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھ سے یہ کہا: گیا کہ ( میں ان کو پڑھوں ) تو میں نے ان کو پڑھا ( سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ) تو ہم بھی اُسی طرح پڑھتے ہیں ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تا ہم اس میں یہ ذکر نہیں ہے : اُن دونوں کو مصحف میں سے مٹایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تا ہم اس میں یہ ذکر نہیں ہے : اُن دونوں کو مصحف میں سے مٹایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11562
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ - يَعْنِي النَّخَعِيَّ - قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَحُكُّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ مِنْ مَصَاحِفِهِ وَيَقُولُ : إِنَّهُمَا لَيْسَتَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ عَبْدِ اللَّهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے قرآن مجید میں سے ” معوذتین “ مٹا دیتے تھے اور یہ فرماتے تھے : یہ دونوں ، اللہ کی کتاب کا حصہ نہیں ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور طبرانی نے نقل کی ہے ، عبداللہ کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور طبرانی نے نقل کی ہے ، عبداللہ کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11563
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَحُكُّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ مِنَ الْمُصْحَفِ وَيَقُولُ : إِنَّمَا أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُتَعَوَّذَ بِهِمَا ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَقْرَأُ بِهِمَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ ، وَقَالَ الْبَزَّارُ : لَمْ يُتَابِعْ عَبْدَ اللَّهِ أَحَدٌ مِنَ الصَّحَابَةِ ، وَقَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَرَأَ بِهِمَا فِي الصَّلَاةِ ، وَأُثْبِتَتَا فِي الْمُصْحَفِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ مصحف میں سے معوذتین مٹا دیتے تھے اور یہ فرماتے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے ذریعے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے ، راوی کہتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان دونوں سورتوں کی تلاوت نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ، امام بزار کہتے ہیں : صحابہ کرام میں سے کسی ایک نے بھی اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی متابعت نہیں کی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات مستند طور پر منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دونوں سورتیں پڑھا کرتے تھے اور ان دونوں سورتوں کو مصحف میں برقرار رکھا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ، امام بزار کہتے ہیں : صحابہ کرام میں سے کسی ایک نے بھی اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی متابعت نہیں کی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات مستند طور پر منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دونوں سورتیں پڑھا کرتے تھے اور ان دونوں سورتوں کو مصحف میں برقرار رکھا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 11564
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ قَالَ : " قِيلَ لِي فَقُلْتُ . فَقُولُوا كَمَا قُلْتُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دو سورتوں کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ پڑھنے کے لئے کہا: گیا ، تو میں نے یہ جس طرح پڑھی ہیں ، اُس طرح تم بھی پڑھو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔