کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت اخلاص کا بیان نیز اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے اور اس کے ساتھ جو فضیلت ملائی گئی ہے “
حدیث نمبر: 11530
عَنْ بُرَيْدَةَ رَفَعَهُ قَالَ : الصَّمَدُ الَّذِي لَا جَوْفَ لَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حِبَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” صمد ، سے مراد وہ ذات ہے ، جس کا پیٹ نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حبان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11530
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (1162)»
حدیث نمبر: 11531
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ أَنَّ نَافِعَ بْنَ الْأَزْرَقِ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - الصَّمَدُ أَمَّا الْأَحَدُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ ، فَمَا الصَّمَدُ ؟ قَالَ : الَّذِي يُصْمَدُ إِلَيْهِ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا . قَالَ : فَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ الْأَسَدِيَّةِ : ¤ أَلَا بَكَّرَ النَّاعِي بِخَبَرِ بَنِي أَسَدِ بِعَمْرِو بْنِ مَسْعُودٍ وَبِالسَّيِّدِ الصَّمَدِ قَالَ : صَدَقْتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي بَابِ كَيْفَ يُفَسَّرُ الْقُرْآنُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ جُوَيْبِرٌ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں : نافع بن ازرق نے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا ” الصمد “ اُس نے کہا: جہاں تک لفظ ” احد “ کا تعلق ہے ، تو اس کو تو ہم جانتے ہیں ، ” صمد “ سے کیا مراد ہے ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جس کی طرف تمام اُمور میں رجوع کیا جائے ، اُس نے دریافت کیا : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس مفہوم سے واقف تھے ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے اسدیہ کا یہ شعر نہیں سنا ہے : ” خبردار ! موت کی اطلاع دینے والے کو بنو اسد کو ، عمرو بن مسعود کی اطلاع دے دینی چاہیے ، جو سردار تھا اور جس کی طرف رجوع کیا جاتا تھا “ ۔ تو نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے ” قرآن کی تفسیر کیسے کی جائے گی ؟ “ میں گزر چکی ہے اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11531
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 11532
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ : " أَوْجَبَ هَذَا أَوْ وَجَبَتْ لِهَذَا الْجَنَّةُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس نے ( اپنے لئے جنت ) واجب کر لی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اس کے لئے جنت واجب ہو گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11532
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7866) اخرجه احمد فى المسند (266/5)»
حدیث نمبر: 11533
وَعَنْ شَيْخٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ ، فَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقْرَأُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ فَقَالَ : " أَمَّا هَذَا فَقَدَ بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ " . وَإِذَا آخَرُ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِهَا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤
محمد محی الدین
ایک بزرگ ، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر نکلا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو سورت کافرون کی تلاوت کر رہا تھا آپ نے ارشاد فرمایا جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے تو یہ شرک سے لاتعلق ہو گیا ہے ایک اور شخص سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کی وجہ سے اس شخص کے لئے جنت واجب ہو گئی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11533
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (63/4)»
حدیث نمبر: 11534
وَفِي رِوَايَةٍ أَمَّا هَذَا فَقَدْ غُفِرَ لَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا شَرِيكٌ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ، تو اس کی مغفرت ہو گئی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک راوی شریک ہے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11534
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (65/4)»
حدیث نمبر: 11535
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : إِذًا نَسْتَكْثِرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُ أَكْثَرُ وَأَطْيَبُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ ، وَقَالَ : عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَقُلْ عَنْ أَبِيهِ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهَا سَقَطَتْ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَزَبَّانُ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ وَفِيهِمَا تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دس مرتبہ سورت اخلاص پڑھ لے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا “ ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس صورت میں تو ہم بکثرت ( گھر بنوا لیں گے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ( کا فضل و کرم ) کہیں زیادہ اور پاکیزہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ سیدنا سہل بن معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، اُن کے حوالے سے منقول ہے ، انہوں نے یہ نہیں کہا: کہ یہ اُن کے والد کے حوالے سے منقول ہے ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ کلمات ساقط ہو گئے ، ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد اور ایک راوی زبان ہے ، یہ دونوں ضعیف ہیں اور ان دونوں کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11535
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (183/20) اخرجه احمد فى المسند (437/3)»
حدیث نمبر: 11536
وَعَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، وَهُوَ ابْنُ أُخْتِ النَّجَاشِيِّ وَقَدْ خَدَمَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مِائَةَ مَرَّةٍ فِي الصَّلَاةِ أَوْ غَيْرِهَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْجَوْهَرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن دیلمی رضی اللہ عنہ ، جو نجاشی کے بھانجے ہیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص نماز میں ، یا نماز کے علاوہ ، ایک سو مرتبہ سورت اخلاص کی تلاوت کر لے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جہنم سے بری ہونا نوٹ کر لے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قدامہ جوہری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11536
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (331)»
حدیث نمبر: 11537
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ بُنِيَ لَهُ قَصْرٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَمَنْ قَرَأَهَا عِشْرِينَ مَرَّةً بُنِيَ لَهُ قَصْرَانِ ، وَمَنْ قَرَأَهَا ثَلَاثِينَ مَرَّةً بُنِيَ لَهُ ثَلَاثٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دس مرتبہ سورت اخلاص پڑھے گا ، اس کے لئے جنت میں محل بنا دیا جائے گا اور جو شخص بیس مرتبہ اسے پڑھے گا ، اس کے لئے دو محل بنا دیے جائیں گے ، جو شخص تیس مرتبہ پڑھے گا ، اس کے لئے تین محل بنا دیے جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہانی بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11537
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (283)»
حدیث نمبر: 11538
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي يَمُوتُ فِيهِ لَمْ يُفْتَنْ فِي قَبْرِهِ ، وَأَمِنَ ضَغْطَةَ الْقَبْرِ ، وَحَمَلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَكُفِّهَا حَتَّى تُجِيزَهُ الصِّرَاطَ إِلَى الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ الْوَرَّاقُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ، اپنی اس بیماری کے دوران ، جس میں اس کا انتقال ہو جائے گا ، اس میں سورت اخلاص پڑھ لے گا ، وہ قبر کی آزمائش میں مبتلاء نہیں ہو گا اور قبر کے بھینچنے سے محفوظ رہے گا ، قیامت کے دن فرشتے اسے اپنی ہتھیلیوں پر اٹھا کر لائیں گے یہاں تک کہ اسے پل صراط پار کروا کر اسے جنت تک لے کر جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور وہ کہتے ہیں : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نصر بن حماد وزاق ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11538
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 11539
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ مَرَّةً فَكَأَنَّمَا قَرَأَ الْقُرْآنَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، وَكَانَ أَفْضَلَ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ إِذَا اتَّقَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کی نماز کے بعد سورت اخلاص بارہ مرتبہ پڑھ لے گا ، تو گویا اس نے قرآن چار مرتبہ پڑھا ، اور وہ اس دن اہل زمین کا سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والا شخص ہو گا ، جبکہ وہ پرہیزگاری اختیار کرے ( یا وہ گناہوں سے بچتا رہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11539
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (166)»
حدیث نمبر: 11540
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) فَكَأَنَّمَا قَرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، وَمَنْ قَرَأَ ( قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) فَكَأَنَّمَا قَرَأَ رُبْعَ الْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سورت اخلاص پڑھ لے گا ، تو گویا اُس نے ایک تہائی قرآن پڑھ لیا اور جو شخص سورت کافرون پڑھ لے گا ، تو گویا اس نے ایک چوتھائی قرآن پڑھ لیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11540
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (165)»
حدیث نمبر: 11541
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) فِي كُلِّ يَوْمٍ خَمْسِينَ مَرَّةً نُودِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ قَبْرِهِ : قُمْ يَا مَادِحَ اللَّهِ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَلَبِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص روزانہ پچاس مرتبہ سورت اخلاص پڑھے گا ، تو قیامت کے دن اس کی قبر پر یہ اعلان کیا جائے گا : اے اللہ کی تعریف کرنے والے ! اُٹھ جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد یعقوب بن اسحاق بن زبیر حلبی کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11541
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1134)»
حدیث نمبر: 11542
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ . فَنَزَلَتْ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) إِلَى آخِرِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : انْسُبِ اللَّهَ . وَفِيهِ مَجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ لَهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنے پروردگار کا نسب ہمارے سامنے بیان کریں ! تو یہ سورت نازل ہوئی : ” تم فرما دو ! کہ وہ اللہ ایک ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ، یہ سورت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ایک دیہاتی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اللہ کا نسب بیان کریں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس نے شعبی کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11542
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11543
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ نِسْبَةً ، وَإِنَّ نِسْبَةَ اللَّهِ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر چیز کی ایک نسبت ہے اور اللہ کی نسبت ، سورت اخلاص ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی واضح بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11543
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 11544
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ قَالَ لِأَحْبَارِ يَهُودَ : إِنِّي أَخَذْتُ بِمَسْجِدِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَهْدًا . فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ ، فَوَافَاهُمْ وَقَدِ انْصَرَفُوا مِنَ الْحَجِّ ، فَوَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ ، فَقَامَ مَعَ النَّاسِ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " ادْنُ " . فَدَنَوْتُ مِنْهُ . قَالَ : " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ ، أَمَا تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ " . فَقُلْتُ لَهُ : انْعَتْ رَبَّنَا . قَالَ : فَجَاءَ جِبْرِيلُ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ حَمْزَةَ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ . ¤
محمد محی الدین
حمزہ بن یوسف بن عبدالله بن سلام بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے علماء سے فرمایا : میں نے اپنے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی مسجد میں ایک عہد لیا ہے ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مکہ میں موجود تھے ، یہ اس وقت وہاں پہنچے ، جب لوگ حج کر کے واپس آ رہے تھے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منی میں پایا ، لوگ آپ کے اردگرد تھے ، یہ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو فرمایا : کیا تم عبداللہ بن سلام ہو ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ ! میں قریب ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، اے عبداللہ بن سلام ! کیا تم نے تورات میں مجھے اللہ کا رسول نہیں پایا ہے ؟ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ ہمارے پروردگار کی صفات ہمارے سامنے بیان کیجئے ! راوی کہتے ہیں تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ٹھہر گئے اور یہ آیات پڑھیں : ” تم یہ فرما دو ! کہ اللہ ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہے ، اس نے کسی کو جنم نہیں دیا ہے اور نہ ہی اُس کو جنم دیا گیا ہے اور نہ ہی اُس کا کوئی ہمسر ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ سورت تلاوت کی ، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور بے شک آپ ، اللہ کے رسول ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو آگے چل کر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں مکمل روایت آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ حمزہ نامی نے اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11544
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2044) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (736)»
حدیث نمبر: 11545
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَ رَجُلًا مِنْ صَحَابَتِهِ ، فَقَالَ : " أَيْ فُلَانُ ، هَلْ تَزَوَّجْتَ ؟ " . قَالَ : لَا ، وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ ، قَالَ : " أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ؟ " . قَالَ : بَلَى . قَالَ : " رُبُعُ الْقُرْآنِ " . قَالَ : " أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ؟ " . قَالَ : بَلَى . قَالَ : " رُبُعُ الْقُرْآنِ " . قَالَ : " أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا زُلْزِلَتِ ؟ " . قَالَ : بَلَى . قَالَ : " رُبُعُ الْقُرْآنِ " . قَالَ : " أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ ؟ " . قَالَ : بَلَى . قَالَ : "رُبُعُ الْقُرْآنِ " . قَالَ : " أَلَيْسَ مَعَكَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ ؟ " . قَالَ : بَلَى . قَالَ : " رُبُعُ الْقُرْآنِ " . قَالَ : " تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ آيَةِ الْكُرْسِيِّ ، وَأَنَّ قُلْ هُوَ اللَّهُ بِرُبُعِ الْقُرْآنِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَسَلَمَةُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سلمہ بن وردان بیان کرتے ہیں : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، انہوں نے سلمہ کو یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص سے سوال کیا اور فرمایا : اے فلاں ! کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! میرے پاس اتنا کچھ ہے ہی نہیں کہ جس کی مدد سے میں شادی کر سکوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہیں سورت اخلاص نہیں آتی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک چوتھائی قرآن ہے ، پھر آپ نے دریافت کیا : تمہیں سورت کافرون نہیں آتی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک چوتھائی قرآن ہے ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا تمہیں سورت زلزال نہیں آتی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک تہائی قرآن ہے ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا تمہیں سورت نصر نہیں آتی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک چوتھائی قرآن ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہیں آیت الکرسی نہیں آتی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک چوتھائی قرآن ہے ، تم شادی کر لو ، تم شادی کر لو ، تم شادی کر لو ( یعنی یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے صرف آیت الکرسی کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور یہ بات نقل کی ہے کہ سورت اخلاص ، ایک چوتھائی قرآن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور سلمہ نامی راوی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11545
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2308) اخرجه احمد فى المسند (221/3)»
حدیث نمبر: 11546
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ فِي مَجْلِسٍ وَهُوَ يَقُولُ : أَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَقُومَ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ كُلَّ لَيْلَةٍ ؟ قَالُوا : وَهَلْ نَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَإِنَّ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُلُثُ الْقُرْآنِ . قَالَ : فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَسْمَعُ أَبَا أَيُّوبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ أَبُو أَيُّوبَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ایک محفل میں موجود تھے اور وہ یہ فرما رہے تھے : کیا ہم اس بات کی استطاعت نہیں رکھتے ؟ کہ روزانہ رات کے وقت ، ایک تہائی قرآن پڑھ لیا کریں ، لوگوں نے عرض کی : کیا ہم اس بات کی استطاعت رکھتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : سورت اخلاص ایک تہائی قرآن ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی بات سن رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوایوب نے ٹھیک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11546
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6613)»
حدیث نمبر: 11547
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَوْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ بِـ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَكَأَنَّمَا قَرَأَ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ، یا شاید انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سورت اخلاص پڑھ لیتا ہے ، تو وہ گویا ایک تہائی قرآن پڑھ لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11547
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (141/5)»
حدیث نمبر: 11548
وَعَنْ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثُ الْقُرْآنِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سورت اخلاص ، ایک تہائی قرآن کے برابر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11548
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (74/25) اخرجه احمد فى المسند (403/6)»
حدیث نمبر: 11549
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ فِي اللَّيْلَةِ ، قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ الْقُرْآنَ كُلَّهُ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی ایک شخص یہ استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ رات کے وقت قرآن کی تلاوت کے طور پر سورت اخلاص پڑھ لیا کرے ، کیونکہ یہ پورے قرآن کے برابر ہے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیس بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11549
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 11550
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فِي لَيْلَةٍ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُبَيْسٌ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَيَأْتِي الْحَدِيثُ بِتَمَامِهِ فِي بَابٍ فِي عُمَّالِ السُّوءِ وَأَعْوَانِ الظُّلْمَةِ فِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کیا تم میں سے کوئی شخص یہ استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ روزانہ رات کے وقت تین مرتبہ سورت اخلاص پڑھ لیا کرے ، کیونکہ یہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیس ہے اور وہ متروک ہے ۔ یہ مکمل روایت آگے چل کر ، برے کام کرنے والے لوگوں اور ظالموں کے مددگاروں سے متعلق باب میں ” کتاب الخلافہ “ میں آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11550
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4118)»
حدیث نمبر: 11551
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَكَأَنَّمَا قَرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ عَطِيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص سورت اخلاص پڑھ لے ، تو گویا اُس نے ایک تہائی قرآن پڑھ لیا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11551
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2296)»
حدیث نمبر: 11552
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ يُطِيقُ هَذَا ؟ قَالَ : " أَمَا يَسْتَطِيعُ [ أَنْ يَقْرَأَ ] قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ فِيهِمَا بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ وَهُوَ ثِقَةٌ إِمَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی ایک شخص یہ استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ روزانہ رات کے وقت ایک تہائی قرآن پڑھ لیا کرے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون اس کی طاقت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا وہ یہ استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ سورت اخلاص پڑھ لیا کرے ، کیونکہ یہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں کی مختلف اسانید ہیں ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن أحمد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور امام ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11552
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2298 و 2297) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10245)»
حدیث نمبر: 11553
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثُ الْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سورت اخلاص ، ایک تہائی قرآن کے برابر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11553
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (745) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (112/20)»
حدیث نمبر: 11554
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ مُفَرِّجِ بْنِ شُجَاعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سورت اخلاص ، ایک تہائی قرآن کے برابر ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اپنے استاد مفرج بن شجاع کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11554
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2299)»
حدیث نمبر: 11555
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، وَ قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ تَعْدِلُ رُبُعَ الْقُرْآنِ " . وَكَانَ يَقْرَأُ بِهِمَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، وَقَالَ : " هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ فِيهِمَا رَغَبُ الدَّهْرِ " . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ الْقِرَاءَةَ بِهِمَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سورت اخلاص ، ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ، سورت کافرون ایک چوتھائی قرآن کے برابر ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعات ( سنتوں ) میں ، ان دونوں کی تلاوت کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے : ” یہ دو رکعات وہ ہیں کہ ان میں ہمیشہ رغبت پائی جاتی ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس میں سے ، صرف فجر کی دو رکعات ( سنتوں ) میں ان دونوں ( سورتوں ) کی تلاوت والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (188) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13493)»