کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت لہب کا بیان
حدیث نمبر: 11529
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ جَاءَتِ امْرَأَةُ أَبِي لَهَبٍ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَمَّا رَآهَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا امْرَأَةٌ بَذِيئَةٌ وَأَخَافُ أَنْ تُؤْذِيَكَ ، فَلَوْ قُمْتَ ، قَالَ : " إِنَّهَا لَنْ تَرَانِي " . فَجَاءَتْ ، فَقَالَتْ : يَاأَبَا بَكْرٍ ، أَيْنَ صَاحِبُكَ ؟ هَجَانِي ، قَالَ : مَا يَقُولُ الشِّعْرَ ، قَالَتْ : أَنْتَ عِنْدِي مُصَدَّقٌ ، وَانْصَرَفَتْ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ تَرَكَ . قَالَ : " مَا زَالَ مَلَكٌ يَسْتُرُنِي مِنْهَا بِجَنَاحَيْهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ سَيُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا " . فَأَقْبَلَتْ حَتَّى وَقَفَتْ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، هَجَانَا صَاحِبُكَ ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَا وَرَبِّ هَذِهِ الْبِنْيَةِ ، مَا يَنْطِقُ بِالشِّعْرِ وَلَا يَتَفَوَّهُ بِهِ ، وَقَالَ الْبَزَّارُ : إِنَّهُ حَسَنُ الْإِسْنَادِ ، قُلْتُ : وَلَكِنَّ فِيهِ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ سورت نازل ہوئی : ” ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں “ ۔ تو ابولہب کی بیوی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اُس عورت کو دیکھا ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ بد تمیز عورت ہے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ آپ کو اذیت پہنچائے گی اگر آپ اُٹھ جائیں ، تو مناسب ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ مجھے نہیں دیکھ پائے گی ، وہ عورت آئی اور بولی: اے ابوبکر ! تمہارے آقا کہاں ہیں ؟ انہوں نے میری ہجو بیان کی ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تو شعر نہیں کہتے ہیں ، اس عورت نے کہا: تم میرے نزدیک سچے آدمی ہو ، پھر وہ عورت چلی گئی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ معاملہ کیسے ٹل گیا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک فرشتے نے مسلسل اپنے پروں کے ذریعے مجھے اُس ( عورت ) سے چھپایا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے اور اُس کے درمیان ایک رکاوٹ آ جائے گی ، پھر وہ عورت آئی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہر گئی اور بولی: اے ابوبکر ! تمہارے آقا نے ہماری ہجو بیان کی ہے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں ! اس عمارت کے پروردگار کی قسم ! وہ نہ تو شعر کہتے ہیں اور نہ ہی وہ شعر پڑھتے ہیں “ ۔ امام بزار کہتے ہیں : یہ سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : لیکن اس میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11529
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2294) أخرجه ابو يعلى فى المسند (2358 و 25)»