کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت ماعون کا بیان
حدیث نمبر: 11521
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كُنَّا نَعُدُّ الْمَاعُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الدَّلْوَ وَالْفَأْسَ وَالْقِدْرَ . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ قَوْلِهِ : وَالْفَأْسُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم ڈول اور کلہاڑی کو ” ماعون “ شمار کیا کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” فاس “ نقل نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11521
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2292) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9010)»
حدیث نمبر: 11522
وَعَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ قَالَتْ لَنَا أُمُّ عَطِيَّةَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا نَمْنَعَ الْمَاعُونَ ، قُلْتُ : وَمَا الْمَاعُونُ ؟ قَالَتْ : مَا يَتَعَاطَاهُ النَّاسُ بَيْنَهُمْ . وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ حفصہ بنت سیرین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے ہم سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا تھا کہ ہم معمولی چیز روکیں ، میں نے دریافت کیا : معمولی چیز سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ چیز ، جو لوگ عام طور پر ایک دوسرے کو دے دیتے ہیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عمرو بن جبلہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11522
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (66/25)»
حدیث نمبر: 11523
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ قَالَ : الْعَارِيَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور وہ لوگ معمولی چیز نہیں دیتے ہیں “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اس سے مراد عارضی استعمال کے لئے وہ چیز دینا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11523
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12354)»
حدیث نمبر: 11524
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَوْلِهِ - تَعَالَى - الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ قَالَ : " هُمُ الَّذِينَ يُؤَخِّرُونَهَا عَنْ وَقْتِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي الصَّلَاةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نمازوں کو ان کے مخصوص اوقات میں ادا نہیں کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عکرمہ بن ابراہیم ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے نماز سے متعلق باب میں ، اس روایت کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11524
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً