حدیث نمبر: 11520
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ وَيْحَكُمْ يَا قُرَيْشُ ، اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي أَطْعَمَكُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَكُمْ مِنْ خَوْفٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَيْلُ أُمِّكُمْ يَا قُرَيْشُ ، لِإِيلَافِكُمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ " . وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحُ وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” قریش کی رغبت کی وجہ سے ، سردی اور گرمی کے ( تجارتی ) سفر میں اُن کی رغبت “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اے قریش ! تمہارا ستیاناس ہو ، تم اس پروردگار کی عبادت کرو ، جو بھوک کے عالم میں تمہیں کھانے کے لئے دیتا ہے اور خوف سے تمہیں امان دیتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ، ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تمہاری ماں برباد ہو جائے ، اے قریش ! تمہاری رغبت ، جو سردیوں اور گرمیوں کے ( تجارتی ) سفر کے بارے میں ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوزیاد قداح اور ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ، ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تمہاری ماں برباد ہو جائے ، اے قریش ! تمہاری رغبت ، جو سردیوں اور گرمیوں کے ( تجارتی ) سفر کے بارے میں ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوزیاد قداح اور ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔