کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت تکاثر کا بیان
حدیث نمبر: 11517
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ فَقَرَأَهَا حَتَّى بَلَغَ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ ؟ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ ، وَسُيُوفُنَا عَلَى رِقَابِنَا وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ ، فَعَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ ؟ قَالَ : " إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب یہ سورت نازل ہوئی : ” کثرت کی طلب تمہیں غافل کر دے گی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھا یہاں تک کہ آپ اس مقام تک پہنچے : ” پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا “ ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سی نعمتوں کے بارے میں ہم سے حساب لیا جائے گا ؟ ہمارے پاس تو یہ دو قسم کی چیزیں ہوتی ہیں ، کھجور اور پانی ، ہماری تلواریں ہماری گردنوں میں ہوتی ہیں ، دشمن سامنے موجود ہے ، تو پھر ہم سے کون سی نعمتوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ ( نعمتیں ، تمہیں ) عنقریب مل جائیں گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اور اس کی نقل کردہ حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے کیونکہ اس کا حافظہ خراب ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11517
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (429/5)»
حدیث نمبر: 11518
وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ ؟ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ ؟ قَالَ : " أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی : ” پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا “ ۔ تو سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے عرض کی ! یا رسول اللہ ! کون سی نعمتوں کے بارے میں ہم سے حساب لیا جائے گا ؟ ہمارے پاس تو یہ دو چیزیں ہیں ، پانی اور کھجور ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ( نعمتیں ، تمہارے پاس ) عنقریب آ جائیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار رمادی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11518
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 11519
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ سُيُوفُنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا ؟ قَالَ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ بِرَازٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” پھر اُس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا “ ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سی نعمتوں کے بارے میں ہم سے حساب لیا جائے گا ؟ جبکہ ہماری تلواریں ، ہمارے کندھوں پر ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن براز ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11519
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6635)»