کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت عادیات کا بیان
حدیث نمبر: 11515
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْلًا فَأَشْهَرَتْ شَهْرًا لَا يَأْتِيهِ مِنْهَا خَبَرٌ ، فَنَزَلَتْ وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا ضَبَحَتْ بِأَرْجُلِهَا فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا قَدَحَتْ بِحَوَافِرِهَا الْحِجَارَةَ فَأَوْرَتْ نَارًا فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا صَبَّحَتِ الْقَوْمَ بِغَارَةٍ فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا أَثَارَتْ بِحَوَافِرِهَا التُّرَابَ فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا قَالَ : صَبَّحَتِ الْقَوْمَ جَمْعًا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ گھڑ سوار بھیجے ایک مہینہ گزر گیا ، لیکن ان کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں آئی ، تو یہ سورت نازل ہوئی : ” ان کی قسم ہے ، جو دوڑتے ہیں اور ان کے سینے سے آواز نکلتی ہے “ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ) یعنی ان کے پاؤں سے آواز نکلتی ہے ۔ ” جو پاؤں مار کر پتھروں میں سے آگ نکالتے ہیں “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی اپنے پاؤں پتھروں پر مارتے ہیں ، تو اس سے چنگاریاں لپکتی ہیں ۔ ” اور صبح کے وقت حملہ کرنے والوں کی قسم ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی وہ صبح کے وقت دشمن پر حملہ کرتے ہیں ۔ ” پھر وہ غبار اڑاتے ہیں “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی وہ اپنے پاؤں کے ذریعے مٹی اڑاتے ہیں ۔ ” اور پھر وہ دشمن کے درمیان گھس جاتے ہیں “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی دشمن اکٹھا ہو چکا ہوتا ہے ( یا وہ دشمن کے درمیان گھس جاتے ہیں ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن جمیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11515
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2291)»
حدیث نمبر: 11516
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذُكِرَ عِنْدَهُ ( الْكَنُودُ ) ، فَقَالَ : " الَّذِي يَأْكُلُ وَحْدَهُ وَيَمْنَعُ رِفْدَهُ وَيَضْرِبُ عَبْدَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي الْآخَرِ مِنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ کے سامنے لفظ ” کنود “ ( ناشکرا ) ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس سے مراد ، وہ شخص ہے ، جو اکیلا کھانا کھاتا ہے اور پیالے کو ( یعنی لوگوں کو کھانا کھلانے کو ) روکتا ہے اور اپنے غلام کو مارتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ ضعیف ہے اور دوسری میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11516
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7778 و 7958)»