کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت زلزال کا بیان
حدیث نمبر: 11512
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : نَزَلَتْ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَاعِدٌ ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ " . فَقَالَ : أَبْكَتْنِي هَذِهِ السُّورَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّكُمْ لَا تُخْطِئُونَ وَلَا تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ - تَعَالَى - أُمَّةً مِنْ بَعْدِكُمْ يُخْطِئُونَ وَيُذْنِبُونَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی : ” جب زمین میں زبردست قسم کا زلزلہ آئے گا “ ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : اے ابوبکر ! تم کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اس سورت نے مجھے زلا دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر تم لوگ خطا نہ کرو اور گناہ نہ کرو ، تو اللہ تعالیٰ تمہارے بعد ایسی امت پیدا کر دے گا جو خطا کریں گے اور گناہ کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حیی بن عبداللہ بن معافری ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11512
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 11513
وَعَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْفَرَزْدَقِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَرَأَ عَلَيْهِ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ قَالَ : حَسْبِي ، لَا أُبَالِي أَنْ لَا أَسْمَعَ غَيْرَهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا وَمُتَّصِلًا ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صعصعہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ ، جو فرزدق کے چچا ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے سامنے یہ آیت تلاوت کی : ” جو شخص ذرے کے وزن جتنی بھلائی کرے گا ، وہ اُس ( کا اجر و ثواب ) دیکھ لے گا ، اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی برائی کرے گا وہ ( اُس کا بدلہ ) دیکھ لے گا “ ۔ تو سیدنا صعصعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے لئے یہ کافی ہے ، میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ میں اس کے علاوہ کوئی اور بات نہیں سنتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور طبرانی نے ” مرسل “ اور ” متصل “ ( یعنی دونوں طرح ) سے نقل کی ہے ، ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11513
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7411) اخرجه احمد فى المسند (59/5)»
حدیث نمبر: 11514
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : بَيْنَمَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ يَأْكُلُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَرَاءٍ مَا عَمِلْتُ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ مِنْ شَرٍّ ؟ فَقَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَرَأَيْتَ مَا تَرَى فِي الدُّنْيَا مِمَّا تَكْرَهُ فَبِمَثَاقِيلِ الشَّرِّ ، وَيُدَّخَرُ لَكَ مَثَاقِيلُ الْخَيْرِ حَتَّى تُوَفَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ سَهْلٍ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ الْوَشَّاءُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے ، اسی دوران یہ آیت آپ پر نازل ہوئی : ” اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی بھلائی کرے گا ، وہ اُس ( کا اجر و ثواب ) دیکھ لے گا اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی برائی کرے گا ، وہ ( اُس کا بدلہ ) دیکھ لے گا “ ۔ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہاتھ کھینچ لیا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ذرے کے وزن جتنی جو برائی کی ہو گی کیا میں اس کا بدلہ بھی دیکھوں گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! کیا تم نے غور نہیں کیا کہ تم دنیا میں جو ( ناگوار ) چیز ( یا صورتحال ) دیکھتے ہو ، جو تمہیں بری لگتی ہے ، تو وہ برائی کے وزن کے حساب سے ( یعنی برائی کا بدلہ ) ہو گی ، اور تمہارے لئے بھلائی کا وزن ذخیرہ کر لیا جائے گا ، یہاں تک کہ قیامت کے دن تمہیں اُس کا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد موسیٰ بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ وشاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11514
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف