کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت بینہ کا بیان
حدیث نمبر: 11507
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ : كُنَّا نَأْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَيُحَدِّثُنَا ، قَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : إِنَّا أَنْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَلَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ ثَانٍ ، وَلَوْ كَانَ لَهُ وَادِيَانِ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِمَا ثَالِثٌ ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ، پھر ہم آپ کے پاس آتے تھے تو آپ ہمیں اس بارے میں بتایا کرتے تھے ، ایک دن آپ نے ہم سے فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ہم نے نماز قائم کرنے اور زکوۃ کی ادائیگی کے لئے مال کو نازل کیا ہے اور اگر کسی انسان کے پاس ( مال کی ) ایک وادی ہو ، تو وہ یہ خواہش کرے گا کہ اس کے پاس دوسری بھی ہو ، اور اگر اس کے پاس دو ہوں ، تو وہ یہ خواہش کرے گا کہ اس کے پاس ان دونوں کے ساتھ تیسری بھی ہو ، انسان کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرے ، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11507
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3300) أخرجه احمد فى المسند (218/6)»
حدیث نمبر: 11508
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ " . قَالَ : فَقَرَأَ عَلَيَّ : " لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ . إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ غَيْرَ الْمُشْرِكَةِ وَلَا الْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ ، وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ " . قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ قَرَأَ آيَاتٍ بَعْدَهَا ، ثُمَّ قَرَأَ " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَسَأَلَ ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ " . قَالَ : ثُمَّ خَتَمَ مَا بَقِيَ مِنَ السُّورَةِ ،
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے ، میں تمہارے سامنے تلاوت کروں ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے ( یہ آیات ) تلاوت کیں : ” اہل کتاب میں سے کفر کرنے والے لوگ اور مشرکین الگ ہونے والے نہ تھے ، یہاں تک کہ اُن کے پاس واضح نشانی آ گئی ( اور وہ نشانی ) اللہ کی طرف سے آنے والا رسول ہے ، جو پاکیزہ صحیفوں کی تلاوت کرتا ہے ، جن میں مستحکم احکام ہیں اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ، وہ تفرقہ کا شکار اُس کے بعد ہوئے ، جب اُن کے پاس واضح نشانی آ گئی “ ۔ بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین وہ ہے ، جو باطل سے الگ ہو ، جس میں شرک نہ ہو ، جو یہودیت نہ ہو ، عیسائیت نہ ہو ، جو شخص بھلائی کرے گا ، تو اس بھلائی کا انکار نہیں کیا جائے گا ۔ شعبہ بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے مختلف باتیں بیان کیں ، پھر یہ کلمات پڑھے : ” اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں ، تو وہ تیسری مانگے گا ، انسان کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے “ ۔ اس کے بعد انہوں نے باقی رہ جانے والی سورت کی بھی تلاوت کی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11508
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (132/5)»
حدیث نمبر: 11509
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : " لَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا ، وَلَوْ سَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا " ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . قُلْتُ : فِي التِّرْمِذِيِّ بَعْضُهُ ، وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ ، وَثَّقَهُ قَوْمُ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت کی ذکر کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” اگر انسان ، مال کی ایک وادی مانگے اور وہ اُسے دیدی جائے ، تو وہ دوسری مانگے گا ، اگر وہ دوسری اسے دیدی جائے ، تو وہ تیسری مانگے گا “ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ترمذی میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے اور ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، جسے ایک قوم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11509
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (131/5)»
حدیث نمبر: 11510
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَسْأَلُهُ ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً ، وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى ، هَلْ يَرَى عَلَيْهِ مِنَ الْبُؤْسِ ؟ ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ : كَمْ مَالُكَ ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ مِنَ الْإِبِلِ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . فَقَالَ عُمَرُ : مَا هَذَا ؟ قُلْتُ : هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيٌّ . قَالَ : فَمُرَّ بِنَا إِلَيْهِ ، قَالَ : فَجَاءَ إِلَى أُبَيٍّ ، فَقَالَ : مَا يَقُولُ هَذَا ؟ قَالَ أُبَيٌّ : هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَفَأَثْبَتَّهَا فِي الْمُصْحَفِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے ( مال وغیرہ ) مانگا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا سر سے لے کر پاؤں تک بغور جائزہ لیا کہ کیا اس پر غربت کے آثار دکھائی دیتے ہیں ؟ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تمہارے پاس کتنا مال ہے ؟ اس نے جواب دیا : چالیس اونٹ ہیں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ( نبی اکرم ْ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ) ” اگر انسان کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں ، تو وہ تیسری کی خواہش کرے گا ، انسان کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے “ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ کیا چیز ہے ؟ میں نے کہا: سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ اسی طرح پڑھایا ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمیں ساتھ لے کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، اور دریافت کیا : یہ کیا کہتا ہے ؟ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی طرح پڑھایا ہے ، پھر انہوں نے دریافت کیا : کیا میں اسے مصحف میں نوٹ کر لوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11510
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (117/5)»
حدیث نمبر: 11511
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ ، قَالَ مِسْعَرٌ : يَعْنِي السَّنَةَ ، قَالَ : فَسَأَلَهُ عُمَرُ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : فَمَا زَالَ يَنْسُبُهُ حَتَّى عَرِفَهُ ، فَإِذَا هُوَ مُوسِرٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ وَوَادِيَيْنِ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِ عُمَرَ : ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: قحط سالی نے ہمیں نگل لیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلسل اس کی شناخت جانتے رہے ، یہاں تک کہ وہ اس کو پہچان گئے تو وہ شخص خوشحال تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اگر انسان کے پاس ایک ، یا دو وادیاں ہوں ، تو وہ تیسری ساتھ ملانا چاہے گا ، انسان کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تا ہم اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جو شخص توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11511
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (117/5)»