حدیث نمبر: 11505
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُنْزِلَ الْقُرْآنُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا جُمْلَةً وَاحِدَةً ، ثُمَّ أُنْزِلَ نُجُومًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں قرآن مجید رمضان کے مہینے میں ، شب قدر میں ، ایک ساتھ آسمان دنیا کی طرف نازل ہوا تھا ، اور پھر وہاں سے مختلف حصوں کی شکل میں نازل ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران قطان ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے معجم کبیر کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران قطان ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے معجم کبیر کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11506
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ : أُنْزِلَ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً حَتَّى وُضِعَ فِي بَيْتِ الْعِزَّةِ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، وَنَزَّلَهُ جِبْرِيلُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجَوَابِ كَلَامِ الْعِبَادِ وَأَعْمَالِهِمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : قرآن ایک ساتھ نازل ہوا تھا ، یہاں تک کہ اسے آسمان دنیا میں بیت العزت میں رکھ دیا گیا ، اور پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام لوگوں کے کلام اور ان کے اعمال کے جواب کے حساب سے ، اس کو لے کر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتے رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔