حدیث نمبر: 11502
عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ : كَانَ أَبُو مُوسَى يُقْرِئُنَا ، فَيُجْلِسُنَا حِلَقًا حِلَقًا ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ ، فَإِذَا قَرَأَ هَذِهِ السُّورَةَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ قَالَ : هَذِهِ الْآيَةُ أَوَّلُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہمیں قرآن سکھایا کرتے تھے ، وہ ہمیں حلقوں کی شکل میں بٹھا لیتے تھے ان کے جسم پر دو سفید کپڑے تھے ، جب انہوں نے یہ سورت پڑھی : ” تم اپنے پروردگار کے نام سے پڑھو ! جس نے پیدا کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ تو سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ آیت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے نازل ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11503
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : لَئِنْ عَادَ مُحَمَّدٌ يُصَلِّي إِلَى الْقِبْلَةِ لَأَقْتُلَنَّهُ ، فَعَادَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ إِلَى قَوْلِهِ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ فَلَمَّا قِيلَ لِأَبِي جَهْلٍ إِنَّهُ عَادَ ، قَالَ : لَقَدْ حِيلَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَاللَّهِ لَوْ تَحَرَّكَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الْوَشَّاءُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ابوجہل نے کہا: اب اگر سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دوبارہ قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ، تو میں انہیں ضرور قتل کر دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ نماز ادا کی تو اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل کی : ” تم اپنے پروردگار کے نام کے ہمراہ پڑھو ، جس نے پیدا کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” وہ اپنے ساتھیوں کو بلا لے ، ہم اپنے سپاہیوں کو بلا لیں گے “ ۔ جب ابوجہل کو یہ بات کہی گئی کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تو دوبارہ ایسا کر لیا ہے ، تو اس نے کہا: میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ آ گئی ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر وہ یہ حرکت کرتا تو فرشتوں نے اُسے پکڑ لینا تھا اور لوگ یہ سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن سہل بن وشاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن سہل بن وشاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11504
قَالَ : مَرَّ أَبُو جَهْلٍ ، فَقَالَ : أَلَمْ أَنْهَكَ ؟ فَانْتَهَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : لِمَ تَنْتَهِرُنِي يَا مُحَمَّدُ ؟ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِهَا رَجُلٌ أَكْثَرَ نَادِيًا مِنِّي . قَالَ : فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَوَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ لَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ بِالْعَذَابِ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد نے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ابوجہل گزرا اور بولا: کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے ڈانٹا ، تو اس نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ مجھے ڈانٹ نہیں سکتے ، اللہ کی قسم ! آپ یہ بات جانتے ہیں کہ یہاں مجھ سے زیادہ ساتھی اور کسی کے نہیں ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ” وہ اپنے ساتھیوں کو بلا لے “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر وہ اپنے ساتھیوں کو بلا لیتا ، تو فرشتوں نے عذاب کے ہمراہ اسے پکڑ لینا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ، اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔