کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سورت قیامہ کا بیان اللہ تعالیٰ کا ارشاد: تیرے لیے تباہی و ہلاکت ہے! پھر تیرے لیے تباہی و ہلاکت ہے!
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - تَعَالَى - أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى أَشَيْءٌ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْ شَيْءٌ أَنْزَلَهُ اللَّهُ ؟ قَالَ : قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْزَلَهُ اللَّهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تمہاری خرابی قریب آ گئی اور ایک اور خرابی آ گئی “ کیا یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے ؟ یا یہ اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیان کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی نازل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔