حدیث نمبر: 11456
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - تَعَالَى - أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى أَشَيْءٌ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْ شَيْءٌ أَنْزَلَهُ اللَّهُ ؟ قَالَ : قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْزَلَهُ اللَّهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تمہاری خرابی قریب آ گئی اور ایک اور خرابی آ گئی “ کیا یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے ؟ یا یہ اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیان کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی نازل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11456
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكثير (12298)»