کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اگر وہ کوئی بات جھوٹ کے طور پر ، ہماری طرف منسوب کر دیتا “
عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ السُّوَائِيِّ أَنَّهُمْ بَيْنَا هُمْ يَطُوفُونَ بِالطَّاغِيَةِ إِذْ سَمِعُوا مُتَكَلِّمًا وَهُوَ يَقُولُ : وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَفَزِعْنَا لِذَلِكَ ، فَقُلْنَا : مَا هَذَا الْكَلَامُ الَّذِي لَا نَعْرِفُهُ ؟ فَنَظَرْنَا فَإِذَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنْطَلِقًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ السَّائِبُ بْنُ يَسَارٍ الطَّائِفِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن عامر سوائی بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ وہ لوگ طاغیہ کا طواف کر رہے تھے اسی دوران انہوں نے کسی بولنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” اور اگر وہ ہماری طرف کوئی ایک بات جھوٹ کے طور پر منسوب کر دیتا ، تو ہم نے اسے پوری قوت کے ساتھ پکڑ لینا تھا اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دینی تھی “ ۔ ہم اس بات پر گھبرا گئے ، ہم نے کہا: یہ کوئی ایسا کلام نہیں ہے ، جس سے ہم واقف نہ ہوں ، پھر ہم نے دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، جو تشریف لے جا رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سائب بن یسار طائفی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11438
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف