مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اگر وہ کوئی بات جھوٹ کے طور پر ، ہماری طرف منسوب کر دیتا “
عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ السُّوَائِيِّ أَنَّهُمْ بَيْنَا هُمْ يَطُوفُونَ بِالطَّاغِيَةِ إِذْ سَمِعُوا مُتَكَلِّمًا وَهُوَ يَقُولُ : وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَفَزِعْنَا لِذَلِكَ ، فَقُلْنَا : مَا هَذَا الْكَلَامُ الَّذِي لَا نَعْرِفُهُ ؟ فَنَظَرْنَا فَإِذَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنْطَلِقًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ السَّائِبُ بْنُ يَسَارٍ الطَّائِفِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤یزید بن عامر سوائی بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ وہ لوگ طاغیہ کا طواف کر رہے تھے اسی دوران انہوں نے کسی بولنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” اور اگر وہ ہماری طرف کوئی ایک بات جھوٹ کے طور پر منسوب کر دیتا ، تو ہم نے اسے پوری قوت کے ساتھ پکڑ لینا تھا اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دینی تھی “ ۔ ہم اس بات پر گھبرا گئے ، ہم نے کہا: یہ کوئی ایسا کلام نہیں ہے ، جس سے ہم واقف نہ ہوں ، پھر ہم نے دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، جو تشریف لے جا رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سائب بن یسار طائفی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔