کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت ملک کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوَدِدْتُ أَنَّهَا فِي قَلْبِ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْ أُمَّتِي " ، يَعْنِي ( تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری یہ خواہش ہے کہ میری امت کے ہر ایک فرد کو یہ زبانی یاد ہو “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سورت ملک تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11429
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11616)»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هِيَ إِلَّا ثَلَاثُونَ آيَةً ، خَاصَمَتْ عَنْ صَاحِبِهَا حَتَّى أَدْخَلَتْهُ الْجَنَّةَ ، وَهِيَ سُورَةُ تَبَارَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کی ایک سورت ہے جو تیس آیات پر مشتمل ہے وہ اپنے پڑھنے والے شخص کے بارے میں جھگڑا کرے گی اور وہ اسے جنت میں داخل کروا دے گی اور وہ سورت ملک ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11430
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (490)»
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَانِعَةَ ، وَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ ، سُورَةٌ مَنْ قَرَأَهَا فِي لَيْلِهِ فَقَدْ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم اس سورت کو ( قبر کے عذاب سے ) ” رکاوٹ بننے والی “ کا نام دیتے تھے اور یہ اللہ کی کتاب میں موجود ایک سورت ہے جو شخص رات کے وقت اسے پڑھ لے گا تو وہ بکثرت ( تلاوت کرے گا ) اور عمدہ کام کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11431
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10254)»
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : يُؤْتَى بِالرَّجُلِ فِي قَبْرِهِ ، فَتُؤْتَى رِجْلَاهُ فَتَقُولَانِ : لَيْسَ لَكَ عَلَى مَا قَبَلْنَا سَبِيلٌ ، قَدْ كَانَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا سُورَةَ الْمُلْكِ . ثُمَّ يُؤْتَى جَوْفُهُ فَيَقُولُ : لَيْسَ لَكَ عَلَيَّ سَبِيلٌ ، قَدْ كَانَ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ الْمُلْكِ [ ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ رَأْسِهِ فَيَقُولُ : لَيْسَ لَكُمْ عَلَى مَنْ قِبَلِي سَبِيلٌ كَانَ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ ] . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَهِيَ الْمَانِعَةُ ، تَمْنَعُ عَذَابَ الْقَبْرِ ، وَهِيَ فِي التَّوْرَاةِ ، هَذِهِ السُّورَةُ الْمُلْكُ ، مَنْ قَرَأَهَا فِي لَيْلِهِ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں قبر میں آدمی کے پاس دو فرشتے پاؤں کی طرف سے آتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں اس طرف سے اس کے پاس جانے کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ یہ شخص سورت ملک پڑھا کرتا تھا پھر وہ پیٹ کی طرف سے آتے ہیں تو وہ یہ کہتا ہے کہ میرے پاس آنے کے لئے تمہارے پاس راستہ نہیں ہے کیونکہ وہ سورت ملک پڑھا کرتا تھا پھر وہ سر کی طرف سے آتا ہے تو کہتا ہے میری طرف آنے کے لئے تمہارے پاس راستہ نہیں ہے کیونکہ وہ سورت ملک پڑھا کرتا تھا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو یہ رکاوٹ بننے والی سورت ہے جو قبر کے عذاب کو روک دیتی ہے اور تورات میں یہ سورت ملک تھی جو شخص رات کے وقت اسے پڑھ لیتا ہے وہ بکثرت اور پاکیزہ کام کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11432
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8651)»
وَفِي رِوَايَةٍ مَاتَ رَجُلٌ ، فَجَاءَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ ، فَجَلَسُوا عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ : لَا سَبِيلَ لَكُمْ عَلَيْهِ ، قَدْ كَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْمُلْكِ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک شخص مر گیا عذاب کے فرشتے اس کے پاس آئے اور اس کے سرہانے بیٹھے تو اس نے کہا: تم اس تک نہیں جا سکتے کیونکہ یہ سورت ملک پڑھا کرتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ثقہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11433
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخوجه الطبراني فى المعجم الكبير (8652 و 8653)»