مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 64 - سُورَةُ تَبَارَكَ باب: سورت ملک کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : يُؤْتَى بِالرَّجُلِ فِي قَبْرِهِ ، فَتُؤْتَى رِجْلَاهُ فَتَقُولَانِ : لَيْسَ لَكَ عَلَى مَا قَبَلْنَا سَبِيلٌ ، قَدْ كَانَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا سُورَةَ الْمُلْكِ . ثُمَّ يُؤْتَى جَوْفُهُ فَيَقُولُ : لَيْسَ لَكَ عَلَيَّ سَبِيلٌ ، قَدْ كَانَ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ الْمُلْكِ [ ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ رَأْسِهِ فَيَقُولُ : لَيْسَ لَكُمْ عَلَى مَنْ قِبَلِي سَبِيلٌ كَانَ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ ] . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَهِيَ الْمَانِعَةُ ، تَمْنَعُ عَذَابَ الْقَبْرِ ، وَهِيَ فِي التَّوْرَاةِ ، هَذِهِ السُّورَةُ الْمُلْكُ ، مَنْ قَرَأَهَا فِي لَيْلِهِ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں قبر میں آدمی کے پاس دو فرشتے پاؤں کی طرف سے آتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں اس طرف سے اس کے پاس جانے کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ یہ شخص سورت ملک پڑھا کرتا تھا پھر وہ پیٹ کی طرف سے آتے ہیں تو وہ یہ کہتا ہے کہ میرے پاس آنے کے لئے تمہارے پاس راستہ نہیں ہے کیونکہ وہ سورت ملک پڑھا کرتا تھا پھر وہ سر کی طرف سے آتا ہے تو کہتا ہے میری طرف آنے کے لئے تمہارے پاس راستہ نہیں ہے کیونکہ وہ سورت ملک پڑھا کرتا تھا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو یہ رکاوٹ بننے والی سورت ہے جو قبر کے عذاب کو روک دیتی ہے اور تورات میں یہ سورت ملک تھی جو شخص رات کے وقت اسے پڑھ لیتا ہے وہ بکثرت اور پاکیزہ کام کرتا ہے ۔